ٹیکسی ڈرائیور کا جمائما کو ہراساں کرنے کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے جمائما خان کو ایک ہزار سے زائد فون کالز اور میسجز کر کے پریشان کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
27 سالہ حسن محمد کو جمائما کے خلاف ایک سال تک ہراساں کرنے کی مہم چلانے کی فردِ جرم عائد کی گئی۔
مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایک مرتبہ جمائما کے ساتھ سیلفی بنانے کے بعد یہ نوجوان ان کا مداح ہو گیا۔
بتایا گیا ہے کہ حسن محمد کو جمائما کا فون نمبر اس وقت ملا جب انھوں نے ایک مرتبہ ’ہالو‘ سروس کے ذریعے ان کی ٹیکسی بک کروائی۔
حسن محمد نے جمائما کو ایک سال کے عرصے میں 1182 فون کالز کیں اور 203 ٹیکسٹ میسج بھیجے۔ واٹس ایپ پر بھیجے گئے بے شمار پیغامات اس کے علاوہ ہیں۔
پراسیکیوٹر رخسانہ علی کا کہنا تھا کہ ’ملزم نے ان کی موکل سے کہا کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور ان کو جاننا چاہتا ہے۔ اور مزید یہ کہ ’وہ دونوں ایک دونوں کیوں نہیں ہو سکتے۔‘
رخسانہ علی نے بتایا کے ٹیکسی ڈرائیور نے 18 مختلف موبائل فونز سے جمائما کو کالز اور میسجز کیے۔
جمائما جو سابق ارب پتی تاجر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی ہیں اور رکن پارلیمان زیک گولڈ سمتھ کی بہن ہیں انھوں نے بالآخر تنگ آ کر پولیس کو فون کیا۔ یہ فیصلہ انھوں نے حسن محمد کے اس میسج کے بعد کیا جس میں انھوں نے جمائما کے گھر آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکسی ڈرائیور حسن محمد کے وکیل عمر علی کا کہنا تھا ملزم جمائما کا بے حد مداح تھا کیونکہ ان کی شادی ان کے ہیرو ’عمران خان‘ سے ہوئی تھی۔
شمال مشرقی لندن کے علاقے ولاتھ فوریسٹ کے رہائشی حسن محمد پر زیادہ سنگین جرائم کی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی جن میں سٹالک کرنا شامل ہے۔
جج مارٹن ایڈمنڈ کیو سی اس مقدمے میں سزا اگلی پیشی پر سنائیں گے۔








