ایٹم بم سے کئی گنا طاقتور ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا گیا: شمالی کوریا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ’الفاظ اور اقدامات انتہائی خطرناک اور جارحانہ‘ ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے جوہری ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو دور تک مار کرنے والے میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں حکومت نے شمالی کوریا کے جوہری تجربے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی پابندی کرے۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے جو ایک ایٹمی بم سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مالی کوریا کو بہلانے کے طریقہ ناکام ہو رہے ہیں اور اس ملک کو صرف ایک ہی چیز سمجھ آتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا ایک باغی ملک ہے جو کہ چین کے لیے باعثِ شرم بنتا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے اس دعوے کو تنبیہہ کے طور پر لینا چاہیے کیونکہ اس کی جوہری صلاحیت واضہ طور پر بڑھ رہی ہے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا میں زیر زمین وسیع پیمانے پر آنے والے جھٹکے کے بعد جاپان کا کہنا ہے کہ یہ شمالی کوریا کا چھٹا جوہری تجربہ تھا۔

امریکی زلزلہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے شمال مشرقی علاقے میں 6.3 شدت کے زلزلے کا پتہ چلا ہے جو کہ ممکنہ طور پر جوہری دھماکہ ہو سکتا ہے۔

یہ زلزلہ اس علاقے میں محسوس کیا گیا ہے جہاں شمالی کوریا نے اپنے سابقہ جوہری تجربات کیے تھے۔

یہ زلزہ شمالی کوریا کےسرکاری میڈیا میں رہنما کم جونگ ان کی تصویر کے جاری کیے جانے کے بعد ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں وہ ایک نئے قسم کے ہائیڈروجن بم کا معائنہ کر رہے ہیں۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ 'بم' بیلسٹک میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ کلجو کاؤنٹی میں آیا ہے جوکہ شمالی کوریا کے جوہری تجربات کا مقام پنگیئی ری ہے۔

جنوبی کوریا کے فوجی سربراہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے 'بظاہر' جوہری تجربہ کیا ہے۔

چین میں زلزلے پر نظر رکھنے والی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ کوئی دھماکہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پہلے زلزلے کے بعد اسے ایک دوسرے زلزلے کا پتہ چلا ہے جو کہ 4.6 شدت کا تھا اور اسے انھوں نے 'دھنسنے' سے تعبیر کیا ہے۔

امریکہ کے جیالوجیکل سروے کی ابتدائی رپورٹ میں زلزلے کی شدت 6۔5 بتائی گئی تھی جسے بعد میں درست کرکے 6.3 کردیا گيا تھا اور اس کا زمین کے دس کلو میٹر اندر بتایا گيا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے گذشتہ سال ستمبر میں اپنا آخری جوہری تجربہ کیا تھا اور اقوام متحدہ نے اس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس کے بعد اس نے حال میں میزائل کے کئی تجربے کیے۔

اتوار کو شائع ایک رپورٹ میں سرکاری میڈیا کے سی این اے نے کہا ہے کہ کم جونگ ان نے جوہری اسلحے کے انسٹیچیوٹ میں سائنسدانوں سے ملاقات کی ہے اور 'جوہری اسلحہ سازی کے متعلق احکامات دیے۔'

جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے شمالی کوریا کے مبینہ جوہری تجربات پر کہا کہ اگر پیانگ یانگ نے یہ تجربہ کیا ہے تو یہ 'بالکل ہی ناقابل قبول' ہے۔

یونہیپ نیوز ایجنسی کے مطابق زلزلے کا پتہ چلنے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ طلب کی ہے۔