بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر نصب جدید ترین ہائیڈروجن بم تیار : شمالی کوریا

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے جدید ترین ہائیڈروجن بم تیار کر لیا ہے جسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جا سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے این سی اے نے ملک کے رہنما کم جونگ ان کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں وہ 'ہائیڈروجن بم' جیسی کسی چیز کا معائنہ کر رہے ہیں۔

اس بابت آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکی ہے اور مغربی ممالک کے تجزیہ کار پیانگ یانگ کی اس ٹکنالوجی کے استعمال کی اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں جدت لایا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو اتنا چھوٹا کر سکا ہے کہ ان کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پر نصب کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں شمالی کوریا نے یکے بعد دیگرے کئی میزائل ٹیسٹ کیے ہیں جن کے باعث علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے جنوبی کوریا کے ساتھ قریبی تعاون پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو جاپان کی فضائی حدود سے گزرتا ہوا سمندر میں گر کر تباہ ہوا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ شمالی کوریا کا میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزارا۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو غیر معمولی خطرہ قرار دیا تھا۔

جاپانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ میزائل تجربہ شرمناک اور غیر معمولی اقدام ہے اور یہ ایک سنجیدہ اور سنگین خطرہ ہے جس جو خطے کے امن اور سلامتی کو خراب کر رہا ہے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا نے گوام میں میزائل داغا تھا جس کے جواب میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو خبرادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو دھکانے پر اُسے بھی آگ اور غصہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تین تجربے کیے تھے۔