جرمن بینکر اور تاجر جیکب فوگر اگر آج زندہ ہوتے تو کیا دنیا کے سب سے دولت مند شخص ہوتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیکب فوگر اگر آج زندہ ہوتے تو وہ آج دنیا کے بڑے امرا سے زیادہ دولت مند ہوتے۔
جیکب فوگر کے سوانح نگار اور وال سٹریٹ جنرل کے سابق مدیر گریگ سٹائنمیٹز کے مطابق، اس جرمن بینکر اور تاجر کو 'دی رچ ون' پکارا جاتا تھا۔ یہ سنہ 1459 سے 1525 کے درمیان کا زمانہ تھا۔
جیکب نے اس دور میں آج کے 400 ارب امریکی ڈالر کمائے۔ گریگ نے سنہ 2015 میں جیکب کو اپنی کتاب 'دی ریچسٹ مین ھو ایور لِوڈ' میں تاریخ کا سب سے امیر آدمی قرار دیا ہے۔
لیکن ان کے اس دعوے پر سوال کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی ورلڈ سے بات کرتے ہوئے گریگ نے کہا: جیکب بے شک دنیا میں اب تک کے سب سے طاقتور بینکر تھے۔
سب سے امیر بتانے کی توجیہ؟

،تصویر کا ذریعہSIMON & SCHUSTER IMAGE
گریگ بتاتے ہیں: جیکب نشاۃ الثانیہ کے دور میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس وقت کی دنیا کو دو طاقتیں، سلطنت روم اور پوپ چلاتے تھے۔ جیکب فگر ان دونوں کو پیسے فراہم کرتے تھے۔
تاریخ میں ایسا کوئی شخص نہیں ہوا، جس کے پاس اس قدر سیاسی طاقتیں ہوں۔
فوگر نے یہ طے کیا کہ سپین کے بادشاہ چارلس اول کو روم کا بادشاہ ہونا چاہیے اور چارلس پنجم کے طور پر انھیں کامیابی بھی ملی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چارلس پنجم نے نئی دنیا کو اپنی کالونی بنایا۔ اگر وہ اقتدار میں نہ آتے تو دنیا ویسی نہ ہوتی، جیسی آج ہے۔
اتنے امیر تھے تو گمنام کیوں رہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دور کے امرا میڈیكی، سیزر اور لسریزیا بورگيا برادران کے بارے میں بہت سے لوگ جانتے ہیں۔ اس طرح یہ سوال اٹھتا ہے کہ فگر کے بارے میں کم لوگوں کو ہی کیوں علم ہے۔
گریگ اس کی وجہ بتاتے ہیں: 'ایسا اس لیے تھا کیونکہ فگر جرمن تھے اور وہ انگلش بولنے والی دنیا کے درمیان پہچانے نہیں گئے۔
'میں برلن میں وال سٹریٹ جنرل کا بیورو چیف تھا۔ میں نے کئی بار فگر کا نام سنا تھا۔ لیکن مجھے انگلش میں ان کے بارے میں پڑھنے کے لیے کچھ نہیں ملا۔
امیر تھے لیکن رنگین مزاج نہیں
دنیا فوگر کے بارے میں شاید اس لیے بھی کم جانتی ہے، کیونکہ وہ رنگین مزاج نہیں تھے۔ جیسا کہ اس دور کے امیروں کے لیے یہ معمول کی بات تھی۔
فوگر نے کبھی سیاسی آفس قائم کرنا یا پوپ بننا نہیں چاہا۔ نہ ہی فگر کو عمارتیں بنوانے کا شوق تھا۔ انھوں نے نہ ہی نشاۃ الثانیہ کے کسی آرٹسٹ کو سپانسر کرنے کا کام کیا۔
فوگر کا سب سے زیادہ مشہور کام 'فگرائی' ہے۔ یعنی ایک سماجی ہاؤسنگ پراجیکٹ، جسے انھوں نے جنوبی جرمنی کے آگزبرگ میں قائم کیا تھا۔
ایک سال کا کرایہ ایک ڈالر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوگر کا یہ کام اب بھی جرمنی میں مشہور ہے کیونکہ وہاں رہنے والے لوگ اب بھی سال کا کرایہ تقریباً ایک امریکی ڈالر دیتے ہیں۔
گریگ بتاتے ہیں: 'بینکر اس دور میں ذرا چھپ کر کام کرنا پسند کرتے تھے۔
لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ جیکب فگر اپنی نشانیاں چھوڑ کر نہیں گئے۔ ان کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں حالانکہ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ کم لوگ ہی انھیں جانتے ہیں۔
1۔ بازار پر اجارہ داری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوگر کے دور میں اقتصادی سرگرمیاں بہت چھوٹے پیمانے پر ہوتی تھیں۔ امیر اپنی زمین اور کسانوں کے کاموں پر منحصر رہتے۔ کسانوں کو اپنی محنت کے بدلے میں سکیورٹی ملتی تھی۔
فوگر نے قرض ادائیگی کے بدلے مائننگ رائٹس یعنی کان کنی کے حقوق حاصل کر لیے اور تانبے اور چاندی کے کاروبار پر اجارہ داری حاصل کر لی۔
اس کے علاوہ فگر نے مصالحے کا کاروبار کیا۔ فگر سرمایہ داری کے بانیوں میں سے ایک تھے۔
2۔ پہلی نیوز سروس شروع کی
فوگر یہ جانتے تھے کہ ذرائع ابلاغ کی کتنی اہمیت ہے۔ وہ اطلاعات اپنے مقابل سے پہلے حاصل کرنا چاہتے تھے۔
اس کے لیے فگر نے دوسرے شہروں سے کاروبار اور سیاست سے منسلک خبریں لانے والوں کو پیسے دینا شروع کیے۔
فوگر کے بعد کے لوگوں نے یہ روایت جاری رکھی اور فگر نیوز لیٹر کی ابتدا کی۔ اسے تاریخ کے ابتدائی اخباروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
3۔ سیونگ اکاؤنٹ کا آغاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میڈیكی کے پاس بینک تھے لیکن کیتھولک چرچ سود کی اجازت نہیں دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک سود خوری جائز نہیں تھی۔
فوگر نے پوپ لیو پنجم سے رابطہ کیا اور ان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ فگر نے یہ تجویز پیش کی کہ جو لوگ آگزبرگ کے بینک میں روپے جمع کرائیں گے، انھیں سالانہ پانچ فیصد سود دیا جائے گا۔
4۔ سیاحوں کی مدد
فوگر اس وقت 33 سال کے تھے جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔
فوگر ان چند فائننسروں میں سے ایک تھے جنھوں نے دنیا کے سفر پر نکلنے والے فرڈینینڈ ميگلن کے اخراجات برداشت کیے تھے۔
٭٭٭یہ تحریر پہلی بار بی بی سی اردو پر 17 جولائی 2017 کو شائع کی گئی تھی۔










