لندن پولیس کا خرم بٹ کے خلاف تحقیقات نہ کرنے کا دفاع

،تصویر کا ذریعہMet Police
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے شہر میں سنیچر کی شب شہریوں پر حملہ کرنے والے تین افراد میں سے ایک کے خلاف ماضی میں تحقیقات نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اور ایم آئی فائیو کو سنہ 2015 سے بارکنگ کے رہائشی 27 سالہ خرم بٹ کے بارے میں جانتے تھے تاہم دیگر دو حملہ آوروں کے بارے میں سکیورٹی سروسز کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔
سکاٹ لینڈ یارڈ نے اب تک لندن برج اور بورو مارکیٹ میں گاڑی چڑھا کر اور چاقوؤں کے وار سے سات افراد کو ہلاک کرنے والے تین حملہ آوروں میں سے دو کی شناخت ہی ظاہر کی ہے۔
ان میں پاکستانی نژاد خرم بٹ کے علاوہ بارکنگ کا ہی رہائشی 30 سالہ شیف راشد رضوان بھی ہے جو کہ پولیس کے مطابق مراکشی نژاد لیبیائی ہونے کا دعویدار تھا۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب پولیس کے انسدادِ دہشتگردی کے محکمے کے اہلکاروں نے مشرقی لندن کے علاقے الفرڈ میں ایک مکان کی تلاشی بھی لی تاہم وہاں سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راؤلی کا کہنا ہے کہ خرم بٹ کے خلاف 2015 میں تحقیقات شروع کی گئی تھیں تاہم 'اس قسم کی کوئی خفیہ اطلاعات نہیں تھیں کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور تحقیقات کی درجہ بندی اسی لحاظ سے کی گئی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں اندازاً تین ہزار افراد کے بارے میں 500 سے زیادہ تحقیقات کی جا رہی ہوتی ہیں اور خرم بٹ کے خلاف تحقیقات کو نچلی سطح پر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار ڈینی شا کے مطابق اس سوال پر کہ آیا یہ فیصلہ غلط نہیں تھا مارک راؤلی نے کہا کہ انھیں اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو سکے۔
مارک راؤلی نے کہا کہ حملہ آوروں کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ انھیں کسی اور فرد کی مدد یا حمایت حاصل تھی یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہChannel 4
ٹی وی جہادی
خرم بٹ کو ایک مرتبہ اسلامی شدت پسندی کے بارے میں اور جیل میں قید مبلغ انجم چوہدری سے روابط کے حوالے سے چینل فور کی دستاویزی فلم 'جہادسٹ نیکسٹ ڈور' میں شامل کیا گیا تھا۔
اس فلم میں انھیں لندن کے ایک باغ میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ استعمال پرچم لہرانے کے بعد پولیس اہلکاروں سے بحث کرتے دکھایا گیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار ڈومینک کاسیانی کے مطابق بارکنگ کے دو رہائشیوں نے بھی خرم کے بارے میں حکام سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ان میں سے ایک نے سنہ 2015 میں انسدادِ دہشت گردی کی ہاٹ لائن پر فون کیا تھا جبکہ ایک خاتون نے مقامی پولیس کے پاس جا کر یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خرم ان کے بچوں کو 'ریڈیکلائز' کر رہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے پیر کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ برطانوی اقدار ان مبلغین اور نفرت کے حامیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی کسی بھی چیز سے برتر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
منگل کو انگلینڈ میں سنیچر کی شب حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی جائے گی۔
خیال رہے کہ لندن برج اور بورو مارکیٹ میں حملے برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے اور ان میں سے دو کا ہدف لندن ہی تھا۔
مارچ میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر اسی قسم کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ مئی میں مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔
ان واقعات کے بعد اب دریائے ٹیمز پر ویسٹ منسٹر، لیمبتھ اور واٹرلو کے پلوں پر فٹ پاتھوں کے ساتھ رکاوٹیں نصب کر دی گئی ہیں تاکہ کوئی گاڑی فٹ پاتھ پر نہ چڑھ سکے۔










