’گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں نے انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے ریاض میں ایک عالمی مرکز ’گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘ کی بنیاد ڈالی ہے۔
اس گلوبل سینٹر کے قیام کا اعلان امریکی صدر کے سعودی عرب کے دو روزہ دورے کے اختتام پر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے دورے کے تعلق سے ریاض میں سنیچر اور اتوار کو تین سربراہی اجلاس منعقد ہوئے جن میں تقریباً 50 سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ ان میں سے بیشتر مسلم ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا: 'ہم مغربی ممالک اور ساری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عالم اسلام ان کا دشمن نہیں۔'
عالمی مرکز ’گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘ کے قیام کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
انتہا پسند نظریات جو دہشت گردی کی جانب لے جاتے ہیں اور جو دنیا کا مشترکہ دشمن ہے اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون۔
رکن ممالک نے انتہا پسندی کے خلاف قائم کیے جانے والے اس سینٹر کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر ریاض کا انتخاب کیا ہے جہاں انتہا پسند نظریات کا تجزیہ کیا جائے گا، اس کی مخالفت کی جائے گی اور اسے روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومتوں اور تنظیموں کے تعاون سے اعتدال پسندی کے کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس مرکز کے قیام کے تین بنیادی ستون ہیں: جدید دانشوروں، میڈیا اور عددی تجزیوں کے ذریعے سے انتہا پسندی کی مخالفت کرنا شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مرکز میں جدید تکنیک کا استعمال ہوگا تاکہ انتہا پسند تقاریر کی مانیٹرنگ کے ساتھ اس کا تجزیہ ہو اور اس کی بنیاد پر میڈیا رپورٹ تیار ہو جو ان انتہا پسند خیالات کو رد کر سکے۔
اس میں انٹرنیشنل ماہرین ہوں گے جو تمام روایتی اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ میں انتہا پسند تقاریر کے تدارک کے ماہر ہوں گے۔
اس سینٹر میں شدت پسندوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والی تمام زبانوں اور لہجوں میں کام کیا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شدت پسندوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی جائے گی، شدت پسندوں کی توجہ کے مرکزکی نشاندہی کی جائے گی۔
اس ادارے کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ پہلی بار دنیا کے مختلف ممالک انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ طور پر مل کر کام کریں گے۔
اس مرکز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 12 نمائندے مختلف ممالک اور تنظیموں سے منتخب ہوں گے۔











