لبنان میں ریپ کے قانون میں تبدیلی کے لیے انوکھی مہم

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
لبنان میں ریپ سے متعلق قانون میں تبدیلی کے لیے ایک نئے انداز میں مہم چلائی جارہی ہے۔
بیروت میں ساحل سمندر پر مظاہرین نے ایک خوفناک منظر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کنارے پر کھجور کے درختوں کے ساتھ 30 سے زائد دلہنوں سے منسوب سفید لباس کو لٹکا دیا۔
درخت کے ساتھ لباس کو لٹکانے کا مقصد پھانسی کا منظر پیش کرنا ہے۔
خیال رہے کہ لبنان میں موجودہ ریپ کے قوانین کے تحت اگر کوئی ریپ کرنے والا متاثرہ لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو وہ اس الزام سے بری ہو جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مظاہرین کی کوشش ہے کہ لبنان کی پارلیمان کے آئندہ اجلاس میں اس قانون کو ختم کر دیا جائے۔
خواتین کے امور کے وزیر نے اس آرٹیکل کو ’پتھر کے زمانے سے تشبیہ دی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ایک غیر سرکاری تنظیم آباد سے تعلق رکھنے والی عالیہ عوادہ کا کہنا ہے کہ ’مہینے میں 31 دن ہوتے ہیں اور شاید ہر دن کسی نہ کسی خاتون کا ریپ کیا جاتا ہے یا اسے ریپ کرنے والے سے شادی کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔‘
لبنان میں ریپ کے اس قانون کو ختم کرنے کی سفارش گذشتہ سال کی گئی تھی اور رواں سال فروری میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے اس کی منظوری بھی دے دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کو امید ہے کہ 15 مئی کو جب اس تجویز پر ووٹنگ ہوگی تو رہنما اس شق کو ختم کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔









