دنیا بھر میں ’سائنس میں سیاسی مداخلت‘ کے خلاف مظاہرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر کے مختلف شہروں میں ہزاروں سائنسدان اور عام لوگ ان مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں جن کا مقصد ان کے بقول ’حقائق کے خلاف جنگ‘ اور سائنس میں سیاسی مداخلت پر احتجاج کرنا ہے۔
اپنی نوعیت کے ان پہلے مظاہروں کو ارتھ ڈے یا ’یوم الارض‘ کے موقعے پر ترتیب دیا گیا ہے اور اس کا مقصد ماحول کو بچانے کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا ایک اور مقصد سائنس کا جشن منانا اور سائنسی برادری کا تحفظ کرنا ہے۔
مرکزی پروگرام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہو گا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس مارچ کا نشانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں، تاہم یہ کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس مہم کو تحریک دی ہے۔
اس مارچ میں ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور طب جیسے موضوعات پر بات کی جائے گی۔ اس مارچ کا خیال حال ہی میں ہونے والی ’ویمن مارچ‘ سے آیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ ڈھکوسلہ ہے۔ اس سے سائنسی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ عوام سائنس کے پیش کردہ شواہد پر شک کا اظہار کرنے لگیں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا ذریعہEPA
لندن میں سائنس دانوں اور سائنس سے شغف رکھنے والے لوگوں نے پارلیمنٹ سکوئر میں جلوس نکالا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ بہت سے سیاستدان تحقیق کو رد کر رہے ہیں جو تشویش کی بات ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
اس مارچ کا ایک اور مقصد سائنس اور تحقیق کو عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔
منتظمین کا خیال ہے کہ سائنس دانوں کے لیے عوام تک اپنی بات پہنچانا مشکل ہو رہا ہے اور وہ سائنسدانوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی سیاست کی طرف آئیں تاکہ ان کی آواز بہتر طریقے سے سنی جا سکے۔











