کارلوس دا جیکال پر فرانس میں ایک اور مقدمہ

کارلوس دا جیکال

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکارلوس کو سنہ 1994 میں سوڈان سے گرفتار کیا گیا تھا

کارلوس دا جیکال پر ستر اور اسی کی دھائی میں فرانس میں ہونے والے متعدد حملوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

کارلوس دا جیکال پہلے ہی متعدد افراد کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ انھوں نے یہ قتل فسلطین اور کیمونسٹ تحریک کی حمایت میں کیے تھے۔

خیال رہے کہ ان کا اصلی نام ’ایلچ ریمیز سانچز‘ ہے اور وہ وینزویلا کے شہری ہیں۔

ان کا شمار دنیا کے مطلوب ترین دہشت گردوں میں ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ کئ برسوں تک گرفتار ہونے سے بچتے رہے جس کی وجہ سے وہ کارلوس دا جیکال کی عرفیت سے مشہور ہوئے۔

کارلوس کو سنہ 1994 میں سوڈان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

67 سالہ ریمیز پر حالیہ مقدمہ سنہ 1974 میں پیرس کے ایک شامپنگ مال پر ہونے والے گرنیڈ حملے کے سلسلے میں چلایا جا رہا ہے۔

اس حملے میں دو افراد ہلاک اور 34 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

کارلوس دا جیکال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکارلوس کو سب سے پہلے بیس برس قبل سزا ہوئی تھی

ریمیز نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور ان کے وکیل نے مقدمے کو وقت اور پیسے کا زیاں قرار دیا ہے۔

کارلوس دا جیکال کون ہے؟

وہ ستر اور اسی کی دہائی میں اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لینے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔

وینیزویلا میں پیدا ہونے والے کارلوس دا جیکال نے 24 برس کی عمر میں فلسطین کی آزادی کے لیے جاری مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی۔

خود کو ’انقلابی‘ کہنے والے کارلوس 1982 اور 1983 میں فرانس میں ہونے والے حملوں کے جرم میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان حملوں میں 11 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوئے تھے۔

کارلوس کو سب سے پہلے بیس برس قبل سزا ہوئی تھی، اُس کے بعد 2011 اور 2013 میں بھی انھیں سزا سنائی گئی۔

اگر اس حالیہ مقدمے میں ان پر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو انھیں تیسری بار عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔