صنفی عدم مساوات کے خلاف وال سٹریٹ کے بیل کے مد مقابل بچی کا مجسمہ

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہReuters

نیویارک سٹاک ایکسچینج مارکیٹ جانے والوں کو اس وقت ایک خوشگوار حیرت ہوئی جب سٹاک مارکیٹ کی شناخت اور وہاں مستقل طور پر نصب بیل کے مجسمے کے سامنے خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر رکھا گیا ایک چھوٹی لڑکی کا مجسمہ دکھائی دیا۔

بچی کا یہ مجسمہ دنیا بھر میں ملازمتوں کے حوالے سے صنفی عدم مساوات اور خواتین اور مردوں کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو اجاگر کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔

امریکہ کی تین ہزار کمپنیوں میں سے ایک چوتھائی ایسی ہیں جن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک بھی خاتون نہیں۔

بچی کا یہ مجسمہ دنیا کی ایک بہت بڑی کاروباری کمپنی کی جانب سے لگایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ مجسمہ مستقبل کی عکاسی کررہا ہے۔

دو اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کے اثاثے رکھنے والی کمپنی سٹیٹ سٹریٹ گلوبل ایڈوائزرز کا کہنا ہے کہ وہ ساڑھے تین ہزار کمپینوں کو خط لکھیں گے کہ وہ خواتین کی تنخواہوں اور ملازمتوں کے حوالے سے امتیازی رویوں پر نظرثانی کریں۔

اس کمپنی کا کہنا ہے کہ جن اداروں میں خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔

ایس ایس جی اے کے صدر رون او ہینلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی کمپنی کے بورڈ کی قیادت میں خیالات کے تنوع کی ضرورت ہے جس کے لیے مختلف ہنر، مہارت اور پس منظر رکھنے والے ڈائریکٹرز اہم ہیں۔

کمپنی کے صدر نے کاروباری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صنفی تنوع کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ اس مقصد کے لیے رہنمائی کی غرض سے ایس ایس جی اے نے ایک واضح گائیڈ بھی جاری کی ہے۔

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہReuters

وال سٹریٹ کے باہر لگا بیل ایک اطالوی آرٹسٹ نے تخلیق کیا تھا اور اسے 1989 میں یہاں نصب کیا گیا تھا۔ کانسی کا یہ مجسمہ 1987 کے سٹاک مارکیٹ کریش کے جواب میں امریکہ کی عوام کی طاقت کا نشان ہے۔

یہ وال سٹریٹ آنے والوں میں اتنا مقبول ہوا کہ اسے یہاں ہمیشہ کے لیے نصب کر دیا گیا لیکن بچی کے مجسمے کو حکام نے عارضی طور پر یہاں رکھنے کی اجازت دی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مجسمہ یہاں کتنا عرصہ نصب رہے گا۔ ایس ایس جی اے کی خواہش ہے کہ اسے کم از کم ایک ماہ تک وال سٹریٹ میں رکھنے کی اجازت دی جائے۔