شمالی کوریا اور ملائیشیا نے ایک دوسرے کے شہریوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی

کم جانگ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا نے کم جونگ نام کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے پر ملائیشیا پر مذموم مقاصد کا الزام عائد کیا تھا

شمالی کوریا کی جانب سے ملک میں موجود ملائیشیائی باشندوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ملائیشیا نے بھی جوابی اقدام کے طور پر ملک میں موجود شمالی کوریائی افراد پر یہی پابندی لگا دی ہے۔

13 فروری کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اِن کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے سفیروں کو پہلے ہی ملک چھوڑنے کا حکم دے چکے ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ان کے شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ملائیشیا کی حکومت کے مطابق وہ اس اقدام کے جواب میں ملک میں موجود شمالی کوریا کے شہریوں پر بھی اس وقت تک ایسی ہی پابندی لگا رہی ہے جب تک شمالی کوریا میں موجود ملائیشیائی باشندوں کا تحفظ یقینی نہیں ہو جاتا۔

ایک اندازے کے مطابق ملائیشیا میں تقریباً ایک ہزار شمالی کوریائی شہری موجود ہیں جبکہ ملائیشیائی حکام کے مطابق شمالی کوریا میں موجود ملائیشیا کے شہریوں کی تعداد 11 ہے۔

خیال رہے کہ کم جونگ نام اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب دو خواتین نے کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر ان کے چہرے پر زہریلا مواد پھینک دیا تھا۔ انھیں اعصاب شکن مادے وی ایکس سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

ملائیشیا نے کم کی ہلاکت کا الزام براہ راست شمالی کوریا پر عائد نہیں کیا تاہم یہ شک ضرور ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا ذمہ دار پیانگ یانگ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا نے ان الزامات سے انکار کیا ہے اور جواب میں ملائیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ درست انداز میں تحقیقات نہیں کر رہا اور اس کے دشمنوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔