'صدر دوتیرتے 200 افراد کے قتل میں ملوث ہیں'

،تصویر کا ذریعہEPA
فلپائن کے ایک سابق پولیس افسر نے سینیٹ کے تحقیقی کمیشن کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ملک کے صدر رودریگو دوتیرتے اور ان کے ساتھی 200 افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔ انھوں نے سینٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ فلپائن کے صدر جب جنوبی شہر ڈاواؤ کے میئر تھے تو ان افراد کو ڈیٹھ سکواڈ نے ہلاک کیا تھا۔
سابق پولیس افسر آرٹورو لسکاناس نے سینیٹ کے ایک تحقیقی کمیشن کو بتایا کہ کس طرح کئی افراد کے قتل کی منصوبہ بندی انھوں نے 'دوتیرتے کے براہ راست حکم، پیشگی علم ، اجازت یا رضامندی' کے بعد کی تھی۔
پچھلے سال جون میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے صدر دوتیرتے کو اس وقت ملک میں جاری انسداد منشیات مہم کے بارے میں بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس مہم میں کئی ہزار افراد کو محض منشیات فروش ہونے کے شبہ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے حمایتی سینیٹرز نے آرٹورو لسکاناس سے سخت سوالات کیے اور پوچھا کہ انھوں نے پہلے ڈاواؤ میں ہونے والی خونریزی میں ملوث ہونے اور کسی ڈیتھ سکواڈ کی موجودگی سے کیوں انکار کیا تھا۔
صدر دوتیرتے کے ترجمان ارنسٹو ابیلا نے آرٹورو لسکاناس کو جھوٹا گواہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی گواہی 'جعلی اور ناقابل قبول ہے'۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آرٹورو لسکاناس نے کہا کہ انھوں نے پہلے کے بیانات میں جھوٹ اس لیے بولا تھا کیونکہ انھیں اپنے خاندان کی سلامتی کی فکر تھی۔ انھوں نے سینیٹ کو دیے جانے والے اپنے بیان میں کہا کہ انھیں ہر ماہ براہ راست دوتیرتے، یا کبھی پولیس افسران کے ہاتھوں بڑی رقم ملا کرتی تھی تاکہ وہ ڈاواؤ میں قتل و غارت جاری رکھیں اور میئر کے ساتھ اندھی وفاداری نبھائیں۔
آرٹورو لسکاناس کے مطابق انھیں دوتیرتے کے ان قتلوں میں براہ راست ملوث ہونے کا علم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 2003 میں ریڈیو پر تبصرہ نگار جن پالا کی تنقید سے دوتیرتے غصہ تھے اور انھوں نے جن پالا کے قتل کا براہ راست حکم دیا جو کہ آرٹورو لسکاناس اور دوسرے حملے آوروں نے پورا کیا۔ اس قتل کے بعد دوتیرتے نے ذاتی طور پر انھیں دس لاکھ پیسو (فلپائنی رقم) سے نوازا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلے سال دسمبر میں پولیس سے ریٹائر ہونے والے 56 سالہ آرٹورو لسکاناس نے کہا کہ ان کا ضمیر ان کو جھنجھوڑ رہا تھا اور انھیں گردوں کی بیمارے کے بعد روحانی بیداری ہوئی جس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیں۔
اپنے تحریری بیان میں آرٹورو لسکاناس نے کہا کہ 'مجھے اپنے کیے پر بہت شرمندگی ہے اور علم ہے کہ مجھے ان جرائم کے جوابات عوام کو، قانون کو اور خدا کو دینے ہوں گے۔'







