ترک شامی سرحد پر گرنے والے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شامی فضائیہ کے گر کر تباہ ہونے والے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو جنوبی ترکی کے قریب سے بچا لیا گیا ہے۔ یہ طیارہ ترکی اور شام کی سرحد کے درمیانی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
طیارے کے پائلٹ کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوئے ہیں لیکن اس کے زندگی خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ طیارہ کن وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار ہوا ۔
شامی حکومت سے لڑائی کرنے والے ایک مذہبی شدت پسند تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز انھوں نے گرایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس سے پہلے شامی فوج کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان کا جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ترکی کے خبر رساں ادارے اندالو کے مطابق طیارے کے پائلٹ کو نو گھنٹے کے بعد تلاش کر لیا گیا اور ان کے ترکی کے ہاتے صوبے کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 56 سالہ پائلٹ کا نام محمت سفہان ہے۔
ترکی کے نائب وزیر اعظم نورایتن جانیکلی نے بتایا کہ حکام تفتیش کر رہے ہیں کہ طیارہ ملک کی حدود میں کس طرح گرا اور وہ کس مشن پر تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ ایک مگ۔23 لڑاکا طیارہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جو کہ طیارے گرنے سے قبل اجیکٹ کر گیا تھا۔
شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے ایک باغی گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ایک طیارے کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔
شامی حکومی کے خلاف لڑنے والے شدت پسند گروہ احرار الشام کے ترجمان احمد کرعلی کے حوالے سے ترک خبر رساں ادارے اندولو نے بتایا کہ حکومتی طیارہ شمالی شام میں بمباری کر رہا تھا اور باغی فورسز نے اسے مار گرایا ہے۔
ترکی کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ طیارہ ہاتے صوبے میں صمنداگ کے قصبے کے قریب گرا۔







