داعش کو کرہ ارض سے ختم کر دیں گے: ٹرمپ کا کانگریس سے خطاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں نفرت پر مبنی جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'امیدیں اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہیں، جن سے امریکہ کی عظمت کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔'
انھوں نے اپنے خطاب میں یہودیوں کے قبرستان میں ہونے والی حالیہ تھوڑ پھوڑ اور کینسس میں ہونے والے نفرت انگیز حملے کی بھی مذمت کی جس میں ایک انڈین شخص ہلاک ہوگيا تھا۔
انھوں نے کہا: 'ہم ایک ایسا ملک ہیں جو متحدہ طور پر نفرت اور برائیوں کی مذمت کرتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہAbc
کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے سے امریکہ سے الگ کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی ذکر کیا اور امریکہ سے ملحق میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کی بھی بات دہرائی۔
انھوں نے کہا کہ 'نوکریوں، سکیورٹی اور قانون کی پاسداری کو بہتر کرنے سے حقیقی امیگریشن اصلاح ممکن ہے۔'
انھوں نے کہا: 'بالآخر امیگریشن سے متعلق اپنے قوانین کے نفاذ سے ہم اجرت میں اضافہ کر سکیں گے، بےروزگاروں کو روزگار مہیا کرا پائیں گے، اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور اس طرح ہم اپنی برادری کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکیں گے۔'
ٹرمپ نے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ہے کی بھی بات کی۔ جب انھوں نے داعش کے متعلق کہا کہ وہ اس برائی کو کرہ ارض سے نیست و نابود کر دیں گے تو اراکین نے زبردست تالیاں بجائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن سب سے زیادہ تالیاں اس وقت بجیں اور لوگوں نے کھڑے ہوکر ان کی تعظیم کی جب انھوں نے اس امریکی کمانڈو کی بیوہ کو خراج تحسین پیش کیا جو یمن میں القاعدہ کے خلاف ایک حالیہ کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس کو اس بات کے لیے تاکید کی وہ اوباما کیئر کا متبادل پیش کرنے پر کام کرے۔
اگرچہ صدر نے کہا کہ ملک کی بھلائی کی خاطر سیاسی جماعتوں کو متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود کھڑے ہوکر تالی بجانے کے مواقع پر ڈیموکریٹ اپنی سیٹوں پر ہی بیٹھے رہے بلکہ بعض تو چند چیزوں کے تعلق سے ہنستے بھی رہے۔
ادھر جب ٹرمپ کانگریس سے خطاب کر رہے تھے تو ٹی وی کی معروف شخصیت روزی اوڈینل، جو ٹرمپ کے مخالف رہے ہیں، نے وائٹ ہاؤس کے سامنے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔








