دنیا کا سب سے زیادہ رومانوی ڈاک خانہ

ویلنٹائن سٹیشن، لوّ لینڈ، کولاراڈو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویلنٹائن سٹیشن، لوّ لینڈ، کولاراڈو

امریکی ریاست کولارڈو میں روکی ماؤنٹین کی برف پوش چوٹیوں کے دامن میں واقع قصبے ’لوّ لینڈ‘ میں ان دنوں جدھر دیکھیں آپ کو ’ویلنٹائن ڈے‘ کے رنگ دکھائی دیں گے۔

اینڈی جونز کے بقول اگر آپ اس ’محبت آباد‘ کے شہریوں سے پیار سے درخواست کریں تو یہ لوگ آپ کو بھی ویلنٹائن ڈے کا کارڈ بھیج سکتے ہیں۔

لوّ لینڈ کے ڈاک خانے میں جائیں تو تو آپ کو یہاں کے پنشن یافتہ عمر رسیدہ لوگ ملتے ہیں جو پیار کے نغموں کی دھنوں پر ویلنٹائن کارڈز کے لفافوں پر دھڑا دھڑ مہریں لگا رہے ہیں۔

لوّ لینڈ
،تصویر کا کیپشنلوّ لینڈ میں پہنچنے والے کارڈ دور دراز سے بھیجے جاتے ہیں، مثلاً چین اور برطانیہ سے ہر سال کئی کارڈ آتے ہیں

یہاں پر جمع عمررسیدہ رضاکار خواتین ماضی کے مشہور نغمے ’لیٹ میں بی یور سویٹ ہارٹ‘ (مجھے اپنا محبوب بنا لو) کی دھن پر گنگناتے ہوئے گذشتہ دو ہفتوں سے بہت مصروف ہیں اور دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں بھیجے جانے والے ویلنٹائن ڈے کے پیغامات پر اس قصبے کی مہر لگا کر آگے روانہ کر رہی ہیں۔

یہ رضا کار ہرسال دو ہفتوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں تاکہ ان لوگوں کی خواہش پورا کر سکیں جو اپنے محبوب کے نام پیغام پر لوّ لینڈ کی مہر لگوانا چاہتے ہیں۔

لوّ لینڈ
،تصویر کا کیپشنلوّ لینڈ سے اس سال ویلنٹائن ڈے کا پیغام وصول کرنے والوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہوں گے

ویلنٹائن ڈے کی تیاریوں کے دنوں میں مقامی دکاندار اور ریستورانوں کے مالک ویلنٹائن سٹیشن میں کام کرنے والی رضاروں کو مفت کھانا فراہم کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مختلف اداکاروں کا روپ دھارے ہوئے مقامی فنکار گاہے بگاہے یہاں آ کر ان لوگوں کا دل بھی بہلاتے ہیں۔

مفت کافی کی پیالیوں اور میٹھے پکوانوں سے محظوظ ہوتے ہوئے ’ری میلنگ پروگرام‘ کی سربراہ مِنڈی میکلوگن کا کہنا تھا کہ ’یہاں تو ایسے لگتا ہے جیسے آپ اپنی نانی دادی کے گھر آئے ہوئے ہیں۔‘

لوّ لینڈ
،تصویر کا کیپشنلوّ لینڈ سے ویلٹائن کے پیغامات پر دوبارہ مہر لگا کر بھیجنے کی روایت کا آعاز اصل میں تقریباً 70 برس پہلے ہوا تھا

لوّ لینڈ سے ویلٹائن کے پیغامات سے دوبارہ مہر لگا کر بھیجنے کی روایت کا آغاز اصل میں تقریباً 70 برس پہلے ہوا تھا اور یہ روایت یہاں کے ایک پوسٹ ماسٹر نے شروع کی تھی جنھیں ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔

مسٹر آئیورس نے یہاں سے جانے والی تمام ڈاک کے لفافوں پر ’محبوب کے شہر سے‘ کے الفاظ لکھ کر روانہ کرنے کی بنیاد رکھی تھی۔

لوّ لینڈ
،تصویر کا کیپشن'محبوب کے شہر سے' کے الفاظ کے علاوہ ان لفافوں پر شعر بھی لکھے ہوتے ہیں

آج کل لوّ لینڈ کے سٹیشن کو تقریباً تین لاکھ خطوط اور کارڈز وصول ہوتے ہیں اور یہاں ہر لفافے پر کوئی خاص نظم یا شعر لکھے جاتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ محبت کرنے والے ’روزِز آر ریڈ، وائلٹس آر بُلو‘ جیسے شعروں سے تنگ آ گئے ہیں اور اب اظہار محبت کے نئے انداز اپنا رہے ہیں۔

اس سال لوّ لینڈ سے ویلنٹائن ڈے کے پیغامات پر جو شعر لکھے جا رہے ہیں اس کے معنی کچھ یوں ہیں:

پیار کی سرزمین، محبوب کے شہر سے

تمہارے نام محبت کا پیغام ۔۔۔۔

لوّ لینڈ
،تصویر کا کیپشن’پیار کی سرزمین، محبوب کے شہر سے‘