امریکہ: پناہ گزینوں پر پابندی کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے

رائنس پرائبس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرائنس پرائبس کے مطابق مزید ملکوں کو شامل کرنے کے لیے نئے اگزیگیٹیو حکمناے کی ضرورت ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہل کار کا کہنا ہے کہ فوری طور پر سات مسلم اکثریتی ممالک کے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس فہرست میں مزید مسلم ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاس رائنس پرائبس سے جب امریکی ٹی وی سی بی سی کے ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ پناہ گزینوں پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ایگزکیٹیو حکمنامے میں جن سات ملکوں کو شامل کیا ہے اس کے مقابلے میں سعودی عرب، پاکستان، افغانستان اور مصر جیسے ممالک کے شدت پسندوں نے کہیں زیادہ امریکی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ اگر اس مسئلے پر اس انتظامیہ کو اتنی زیادہ تشویش ہی تھی تو پھر ان ملکوں کو اس فہرست سے الگ کیوں رکھا گیا؟

اس کے جواب میں رائنس پرائبس نے کہا: 'ہمیں اس مسئلے پر تشویش ہے اسی لیے ہم نے ابتدائی طور پر ان ملکوں کو اس فہرست میں شامل کیا جن کے متعلق کانگریس کے دونوں ایوانوں نے شناخت کر رکھی تھی اور اوباما انتظامیہ نے ان پر زیادہ نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'آپ نے صحیح نکتہ اٹھایا ہے۔ شاید دوسرے ایگزیکیٹو حکمنامے کے تحت دوسرے ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے کیا گيا ہے اور اس میں تاخیر نہیں کی جا سکتی ہے اس لیے جن ممالک کی پہلے ہی نشاندہی ہوچکی تھی ان پر بلا تاخیر پابندی لگائی گئی۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی حکام کو زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ وہ پناہ گزينوں سے ان کے متعلق زیادہ سوالات و جوابات کر سکیں

پرائبس نے یہ بھی کہا کہ جن ممالک کے پناہ گزینوں کی آمد پر پابندی عائد کی گئی ہے وہاں سے آنے والے جن افراد کے پاس گرین کارڈ ہوگا انھیں امریکہ میں داخلے کی اجازت ہوگی لیکن اس میں بھی چھان بین کی جائےگي۔

ان کا کہنا تھا اس پابندی کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا ہے لیکن ایسے لوگوں سے محکمہ امیگریشن کے حکام کچھ زیادہ ہی سوالات و جوابات کریں گے تب انھیں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ جب تک نئی انتظامیہ اس بارے میں واضح اصول و ضوابط مرتب نہیں کر لیتی اس وقت اسی پروگرام پر عمل کیا جائےگا۔

وائٹ ہا‎ؤس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ کسٹم بارڈر پیٹرول کے ایجنٹوں کو ایسے اضافی اختیارات بھی حاصل ہوں گے کہ اگر انھیں آنے والے کسی بھی شخص پر شک ہو تو وہ اپنی صوابدید پر اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ہوائی اڈے کے باہر لوگوں کی بھیڑ

،تصویر کا ذریعہother

،تصویر کا کیپشنایئر پورٹ پر پھنسے ایسے لوگوں کی مدد کے لیے بہت سے وکلا وہاں پہنچے ہیں