امریکہ: ٹرمپ کی تقریب حلف برداری سے پہلے مخالفین کے مظاہرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری سے پہلے واشنگٹن میں ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے متعدد مظاہرین پر کیمیکل کا چھڑکاؤ کیا۔
واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب کے باہر ہزاروں کی تعداد میں ٹرمپ مخالف مظاہرین جمع ہیں۔
واشنگٹن کے علاوہ نیویارک میں بھی سینکڑوں افراد نے ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اور سینٹرل پارک کے قریب واقع ٹرمپ ٹاور کے باہر ان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
اس مظاہرے میں اداکار رابرٹ ڈی نیرو اور مارک روفالو بھی شامل تھے۔ مظاہرین نے نومنتخب صدر کی اعلان کردہ پالیسیوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔
اس سے پہلے واشنگٹن ڈی سی سی میں لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر اپنے مداحوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر امریکہ کو متحد کر دیں گے اور وہ ملک میں تبدیلی لے کر آئیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں ان کے خاندان کے افراد، اداکار جان ووئٹ اور سول مین کے گلوکار سیم مور نے شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ نے کنسرٹ کے اختتام پر کہا: 'ہم آپ کے ملک کو متحد کریں گے۔ ہم تمام عوام کے لیے امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنائیں گے۔ ہر کسی کو، بشمول اندرونِ شہر والوں کے لیے، سبھی کے لیے۔'
20 جنوری کو ٹرمپ عہدۂ صدارت کا حلف اٹھا کر امریکہ کے 45ویں صدر بن جائیں گے۔
انھوں نے نعرے لگاتے ہوئے مداحوں کے ہجوم کو بتایا کہ بہت سے لوگوں کو ان کی انتخابی مہم کے بارے میں شک تھا۔
'وہ ہم میں سے بہت سوں کے بارے میں بھول گئے تھے۔ اب ہم آپ کو نہیں بھولیں گے۔'
انھوں نے عہد کیا کہ وہ نوکریاں پھر سے لے کر آئیں گے، فوج کی تشکیلِ نو کریں گے اور سرحدوں کو محفوظ بنائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا: 'ہم ایسے کام کریں گے جو اس ملک میں کئی عشروں سے نہیں ہوئے۔ یہ بدل کر رہے گا۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔ یہ بدل کر رہے گا۔'








