آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’روس اور ترکی کی دولت اسلامیہ کے خلاف پہلی مشترکہ فضائی کارروائی‘
روس کے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روس اور ترکی کے طیاروں نے شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف پہلی مشترکہ فضائی کارروائی کی ہے۔
دولت اسلامیہ کے خلاف یہ فضائی کارروائی شامی صوبے حلب کے قریبی قصبے ال باب میں کی گئی ہیں جہاں گذشتہ ماہ ترکی کو دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
روس کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سرگے روڈوسکی نے کہا ہے کہ ’مشترکہ کارروائی انتہائی موثر رہی۔‘
خیال رہے کہ روس اور ترکی شام کی خانہ جنگی میں بڑی بیرونی طاقتیں ہیں۔
ال باب ترکی کی سرحد سے تقریباً 20 کلو میٹر دور واقع ہے اور دولت اسلامیہ سمیت کرد فورسز کو پیچھے ہٹانے کے لیے پانچ ماہ سے جاری ترک مہم کے دوران توجہ کا مرکز رہا ہے۔
خیال رہے کہ اس علاقے میں رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی جنگی طیاروں نے بھی کارروائی کی تھی۔
روس 2015 سے شامی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
جنرل روڈوسکی کا کہنا ہے کہ بدھ کو کی جانے والی فضائی کارروائی میں آٹھ ترک اور نو روسی طیاروں نے حصہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ان طیاروں میں چار ایس یو 24، چار ایس یو 25 اور ایک ایس یو 34 روس کی جانب سے اور چار ایف 16 اور چار ایف 4 ترکی کی طرف سے شامل تھے۔
دوسری جانب ترکی نے بھی روس کے ہمراہ شام میں عارضی جنگ بندی کروا رکھی ہے جو دونوں طرف سے خلاف ورزی کے دعوؤں کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔
روس اور ترکی کے ساتھ ساتھ ایران بھی امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر اس ماہ کے اواخر میں قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوں گے۔
برطانیہ میں قائم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حلب پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ میں گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے 21 ہزار عام شہری مارے گئے ہیں۔