شام کا بحران: باغی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار

شام کے باغی گروہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے قزاقستان میں شامی حکومت کے نمائندوں سے امن مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔

جیش الاسلام گروہ کے رہنما محمد العوش نے کہا کہ وہ باغیوں کے نمائندوں کی سربراہی کریں گے اور ان کا مقصد حکومت اور اس کے اتحادیوں کے 'جرائم' کو ختم کرنا ہے۔

آستانہ میں ہونے والے مذاکرات روس اور ترکی کی کوششوں سے ہو رہے ہیں۔

دونوں ممالک نے جو کہ شام کی خانہ جنگی میں مخالف پارٹیوں کی حمایت کر رہے ہیں، 30 دسمبر کو جنگ بندی کروائی تھی جس کی اب تک کئی مرتبہ خلاف ورزی ہو چکی ہے۔

کئی محاذوں پر فضائی حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات آئی ہیں، خصوصاً دمشق کے شمال مغربی علاقے وادئ بردی سے۔

برطانیہ میں مقیم آبزرویشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق اتوار کو باغیوں کے کنٹرول والے ایک گاؤں پر حکومتی بمباری سے کم از کم نو عام شہری ہلاک ہو گئے۔

اس جنگ بندی میں جہادی گروہ دولتِ اسلامیہ اور جبحات الشام شامل نہیں ہیں۔ جبحات الشام کو کچھ عرصہ پہلے تک جب تک اس نے القاعدہ سے روابط ختم نہیں کیے تھے النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

محمد العوش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سبھی باغی گروہ جانے کے لیے تیار ہیں۔ سبھی رضامند ہیں۔‘

’آستانہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے قتل و غارت کو ختم کرنے کا عمل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جرائم کا یہ سلسلہ ختم ہو۔‘

فری سیریئن آرمی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’گروہ جائیں گے اور جس پہلی چیز پر وہ بات کریں گے وہ جندی بندی کا معاملہ اور حکومت کی طرف سے اس کی خلاف ورزیاں ہو گا۔‘