سویڈن: گاڑی میں زچگی کی تربیت دینے کی پیشکش

نومولود

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندائیاں چاہتی ہیں کہ حاملہ خواتین ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں زچگی کے لیے تیار رہیں

سویڈن میں ایک مقامی زچہ خانے کے بند کیے جانے کے اعلان کے بعد دائیوں نے حاملہ خواتین اور ان کے شوہروں کو بچے کی پیدائش کے دوران صورتِ حال کو سنبھالنے کی تربیت کی پیشکش کی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ اگر دردِ زہ شروع ہونے کے بعد زچگی کا مرحلہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے آجائے تو شوہر حاملہ بیوی کی گاڑی کے اندر ہی مدد کرکے صورتحال کو سنبھال سکیں۔

ایک مقامی اخبار ’دا لوکل‘ کے مطابق یہ خیال ’سُلیفٹوآ‘ میں قائم ہسپتال کی دو دائیوں کو آیا تاکہ متوقع والدین دور دراز واقع ہسپتال تک کے سفر میں خود اپنی دیکھ بھال کر سکیں۔

اگلے ماہ زچگی کے اس مقامی مرکز کے بند ہونے کے بعد قریب ترین دوسرے زچگی مراکز ایک سو کلومیٹر دور واقع ہیں۔

یہ تربیت فراہم کرنے والی سٹِینا نیسلوُنڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے والدین خاص طور سے سردیوں کے اس موسم میں دیہی علاقوں میں اس لمبے سفر کے بارے میں متفکر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو راستے میں پیش آنے والے ممکنہ واقعات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے بقول آپ کو ان حالات میں کسی حادثے، گاڑی کے خراب ہو جانے، سڑک سے اتر جانے اور ایسے ہی دوسرے ناخوشگوار واقعات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

سٹِینا نیسلوُنڈ کہتی ہیں: ’ایسے میں اگر بچے کے اس دنیا میں آنے کا لمحہ آ جائے تو یہ تربیت مددگار ہوگی۔‘

سُلیفٹوآ میں تقریباً نو ہزار لوگ رہتے ہیں اور یہاں قائم زچہ خانے کو بند کرنے کا فیصلہ گذشتہ برس بچت کے لیے منظور کیے گئے اقدامات کے تحت کیا گیا تھا۔

سویڈن میں دائیوں کی انجمن نے تربیت کے اس منصوبے کو سراہا ہے تاہم اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بچت کے لیے طبی خدمات کی قربانی دی جا رہی ہے۔