آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشرق وسطیٰ میں پناہ گزینوں کے بحران کا ذمہ دار امریکہ: جرمنی کا ٹرمپ کو جواب
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپ کا اتحاد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے بیان کا بہترین دفاع ہے۔
امریکی نو منتخب صدر نے کہا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے برگزٹ کا فیصلہ بہت اچھا تھا کیونکہ یورپی یونین ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔
آنگیلا میرکل نے کہا کہ یورپی یونین کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے مطابق اپنی پالیسیز بنا کر اپنی شناخت کی جنگ جاری رکھنی چاہئیے۔
اس سے پہلے جرمن وائس چانسلر، زِیکمار گابریئل، نے ٹرمپ کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بغیر سوچے سمجھے امریکی مداخلت نے ہی پناہ گزینوں کے بحران کو جنم دیا تھا۔
انھوں نے امریکی منتخب صدر کے اس بیان پر بھی شدید نکتہ چینی کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میکسیکو میں تیارکردہ جرمن کاروں کی امریکہ میں فروخت پر زیادہ محصول عائد کرے گا۔
جرمن کار ساز کمپنیوں، جیسے بی ایم ڈبلیو، فاکس ویگن اور ڈائملر، نے میکسیکو میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے کیونکہ وہاں پیداواری لاگت کم ہے۔
گابریئل نے کہا کہ اگر امریکی اچھی کاریں بناتے تو امریکی شہری جرمن کاروں کے اس قدر دلدادہ نہ ہوتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برلِن میں بی بی سی کی نامہ نگار جینی ہِل کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیان سے جرمنی میں لوگوں کو مایوسی تو ہوئی ہے مگر حیرت نہیں۔
ٹرمپ کے بیان سے نیٹو پریشان
ادھر جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائنمائر نے کہا ہے کہ امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو کو فرسودہ یا ناکارہ کہنے سے اتحاد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کے نامزد وزیر دفاع کے بیان میں تضاد ہے۔
نامزد امریکی وزیرِ دفاع جنرل جیمز میٹِس نے چند روز قبل سینیٹ کے سامنے توثیقی سماعت کے دوران نیٹو کو امریکی دفاع کے لیے مرکزی قرار دیا تھا۔
شٹائنمائر کا کہنا تھا کہ کچھ دیر قبل ان کی نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے بات ہوئی تھی جنھوں نے ٹرمپ کے بیان پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے اٹھائیس ارکان میں سے زیادہ تر اپنے بقایاجات ادا نہیں کرتے۔
ان کے بقول یہ اتحاد بہت پہلے وجود میں آیا تھا اور چونکہ یہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہا ہے اس لیے فرسودہ ہوچکا ہے۔