جزیرے سعودی عرب کو نہ دینے کا فیصلہ برقرار

،تصویر کا ذریعہAP
مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے بحیرۂ احمر کے دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے نہ کرنے کے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
مصر کی اعلیٰ انتظامی عدالت (ہائی ایڈمنسٹریٹو کورٹ) نے یہ فیصلہ حکومت کی اس اپیل پر سنایا ہے جس میں مصری حکومت نے استدعا کی تھی کہ ایک ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس میں عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ تیران اور صنافیر نامی جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے منصوبے کو روک دے۔
پیر کو جب جج نے یہ فیصلہ سنایا کہ حکومت یہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے کہ مذکورہ دو جزیرے دراصل سعودی عرب کی ملکیت تھے، تو کمرہ عدالت تالیوں سے گونج اٹھا۔
ان جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے منصوبے پر جب گذشتہ سال اپریل میں دستخط کیے گئے تھے تو مصر میں اس کے خلاف احتجاج ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ جزائر خلیجِ عقبہ کے دھانے پر واقع ہیں اور یہاں مصری فوج اور کثیرالقومی امن فوج کے سپاہیوں کے علاوہ کوئی آبادی نہیں ہے۔
اس بارے میں صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ یہ جزیرے ہمیشہ سے سعودی عرب کی ملکیت تھے اور سعودی عرب نے سنہ 1950 میں مصر سے درخواست کی تھی کہ ان جزیروں کی حفاظت کے لیے وہ وہاں پر اپنے فوجی تعینات کر دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس بیان کے بعد السیسی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اصل میں وہ یہ جزیرے سعودی عرب کو ’فروخت‘ کر رہے ہیں جس کے جواب میں وہ سعودی عرب سے اربوں ڈالر کی امداد لے رہے ہیں۔ ناقدین کے بقول سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اپنے قاہرہ کے دورے کے موقع پر جس امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا وہ ان ہی جزیروں کی منتقلی کے جواب میں تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
سنہ 2013 میں جب السیسی نے اپنے پیشرو صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدارپر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت سے سعودی عرب مسٹر سیسی کی مدد کرتا رہا ہے۔
گذشتہ برس مسٹر سیسی کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مصر کی سمندری سرحد کے تعین کے منصوبے کے اعلان کے بعد مصر بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
مسٹر سیسی کے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہے کو سابق صدارتی امیدوار خالد علی کے علاوہ وکلا کے ایک بڑے گروپ نے عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خالد علی کا مؤقف تھا کہ مصر اور خلافتِ عثمانیہ کے درمیان سنہ 1906 میں سمندری حدود کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق مذکورہ دونوں جزیرے مصر کی ملکیت قرار دیے گئے تھے اور سعودی عرب کی مملکت کا قیام اس کے برسوں بعد سنہ 1932 میں عمل میں آیا تھا۔
اس سال جون میں عدالت نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاہدے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تیران اور صنافیر کے جزیروں پر مصر کی حاکمیت قائم ہے اور اسے کسی دوسری ریاست کے حق میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد مصری حکومت نے اعلیٰ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی تھی اور پیر کو عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ دونوں جزیرے مصر کی حدود میں شامل ہیں۔
اس موقع پر وکلا اور دیگر کارکنوں نے فیصلے کو سراہا اور اس کے حق میں نعرے لگائے۔
فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مسٹر خالد کو ان کے حامیوں نے کاندھوں پر اٹھا لیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ مصر کی فتح ہے۔‘
مصری یا سعودی حکومت کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔







