جرمنی: دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ دو افراد کو ہالینڈ کی سرحد کے قریب اوبر ہاوزن کے ایک شاپنگ سینٹر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے دونوں بھائی کوسوو میں پیدا ہوئے، ان کی عمریں 28 اور 31 سال ہیں اور انھیں جمعے کی صبح گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ جرمنی کے دارالحکومت برلن کی مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت میں بعد ہائی الرٹ ہے۔
برلن کی مارکیٹ کے مشتبہ حملہ آور شخص کا نام انیس عامری ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس کا کہنا ہے کہ اوبر ہاوزن حملے میں ایک شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انٹیلیجنس سروسز کی اطلاع کے بعد سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو شاپنگ سینٹر اور قریبی کرسمس مارکیٹ کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے اس حملے کی تیاری کس پیمانے پر کی گئی تھی یا اس میں کچھ دوسرے افراد بھی شامل تھے۔
جرمن حکام کے مطابق ابھی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ جمعے کو ہونے والی گرفتاری کا تعلق برلن حملے سے ہے۔
جرمنی کے حکام کے مطابق جس ٹرک سے حملہ کیا گیا اور جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے اس میں انیس عامری کے انگلیوں کے نشان ملے ہیں۔
انیس عامری سے اہل خانہ کی اپیل، 'اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دو'
اس سے پہلے برلن ٹرک حملے میں مبینہ طور پر ملوث انیس عامری کے اہل خانہ نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیں۔
انیس عامری کے بھائی عبدالقادر عامری نے کہا ہے کہ ان کو پورا یقین ہے کہ ان کا بھائی بےقصور ہے اور اگر نہیں ہے تو 'یہ خاندان والوں کے لیے بے عزتی کا باعث ہے۔'
عبدالقادر نے تیونس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا 'اگر میرا بھائی مجھے سن رہا ہے تو میں اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دے۔ ہم خاندان والوں کو بھی چین ملے گا۔'
انھوں نے مزید کہا 'اگر اس نے وہ کیا ہے جس کا الزام اس پر لگایا جا رہا ہے تو اس کو سزا ملے گی۔ مجھے یقین ہے کہ میرا بھائی بے قصور ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس نے گھر معاشی حالات کے باعث چھوڑا، کام کرنے کے لیے، خاندان کی مدد کرنے کے لیے اور وہ دہشت گردی کرنے کے لیے نہیں گیا تھا۔'
عبدالقادر اور ان کے ایک اور بھائی ولید نے اعتراف کیا کہ انیس یورپ میں مشکلات کا شکار ہوئے اور اٹلی میں ساڑھے تین سال کی قید کاٹنے کے بعد وہ ایک مختلف سوچ کے ساتھ باہر نکلے۔
تاہم ولید نے کہا کہ ان کی انیس سے 10 روز قبل بات ہوئی تھی اور انیس نے کہا تھا کہ وہ امید کر رہے ہیں کہ وہ جنوری میں تیونس واپس آئیں گے۔
'وہ یہاں آنے کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا تاکہ گاڑی خرید سکے اور کاروبار کا آغاز کر سکے جو کہ اس کا خواب تھا۔'









