گیرٹ وائلڈرز امتیازی سلوک پر اکسانے پر مجرم قرار

،تصویر کا ذریعہReuters
نیدر لینڈ میں اسلام مخالف سیاسی رہنما گیرٹ ولڈرز کو عدالت نے ایک گروہ کی بے عزتی کرنے اور امتیازی سلوک پر اکسانے پر مجرم قرار دیا ہے۔
ایمسٹرڈم کے نواح میں واقع عدالت نے وائلڈرز پر کوئی سزا یا جرمانہ عائد نہیں کیا ہے۔ ان کی جماعت اگلے برس مارچ میں انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہے۔
انھوں نے مارچ سنہ 2014 میں اپنی تقریر کے دوران اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نیدر لینڈ میں مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کم ہو۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وائلڈرز نے عدالتی فیصلے کو ’پاگل پن‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’تین پی وی وی ججوں نے مراکش کے لوگوں کو ایک نسل قرار دیا ہے اور مجھے اور نیدرلینڈ کے آدھے عوام کو مجرم قرار دیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
عدالتی فیصلہ تین ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد سنایا گیا۔ یہ مقدمہ پولیس کو موصول ہونے والی 6400 درخواستوں کے بعد چلایا گیا جو ہیگ میں وائلڈرز کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی مہم کے دوران دیے جانے والے بیانات سے متعلق تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس مہم کے دوران ولڈرز نے اپنے حامیوں سے پوچھا تھا کہ وہ اپنے شہر اور ملک میں مراکش کے زیادہ باشندے چاہتے ہیں یا کم؟
اس کے جواب میں ہجوم سے پرزور آواز آئی ’کم، کم‘ جس پر ولڈرز نے کہا کہ ’ہم اس کا خیال رکھیں گے۔‘
مقدمے کے دوران پراسیکیوٹر نے ڈچ موروکنز بیانات پر مشتمل دستاویز بھی پیش کیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ’تیسرے درجے کے شہری ہیں‘۔
خیال رہے کہ مسٹر گیرٹ ولڈرز پر اس سے قبل سنہ 2011 میں بھی اسلام مخالف بیان دینے پر مقدمہ چل چکا ہے۔ جب انھوں نے قرآن پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔








