فیدل کاسترو کی تدفین کی رسومات مکمل

فیدل کاسترو کی آخری رسومات کی تقریب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیوبا کے سابق صدر فیدل کاسترو کی 25 نومبر کو طویل علالت کے بعد موت ہو گئي

کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے مشرقی شہر سینتیاگو میں مکمل ہوگئی ہیں۔

ان کی موت کے نو دن بعد ان کے جسم کی راکھ ایک قبر میں رکھی گئی ہے۔ ایک نجی تقریب میں فیدل کاسترو کی راکھ کو 19ویں صدی کے کیوبا کی آزادی کے ہیرو ہوزے مارتی کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

اس موقعے پر فرانس کے وزیرِ ماحولیات نے کہا کہ ’(اس تقریب میں) کوئی تقاریر نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی سادہ تقریب تھی۔‘

ہفتے کے دن دسیوں ہزار لوگوں نے ایک ماتمی تقریب میں شرکت کی جس کی سربراہی کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کی۔

اس موقعے پر راؤل کاسترو نے اپنے ’ملک کی سلامتی اور بھائی کے سوشلئزم‘ کے دفاع کا عہد کیا۔

انھوں نے ایک تقریر میں اعلان کیا کہ فیدل کاسترو کی خواہش کے مطابق کسی سڑک یا یادگار کا نام ان کے نام پر نہیں رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’انقلاب کے رہنما شخصیت پرستی کے کسی بھی قسم کے اظہار کے سخت خلاف تھے۔‘

خیال رہے کہ فیدل کاسترو 25 نومبر کو 90 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

راؤل کاسترو اور جیلما روسیف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفیدل کے بھائی راؤل کاسترو نے برازیل کی سابق صدر جیلما روسیف کا استقبال کیا

ان کی راکھ دارالحکومت ہوانا سے چار دن کے سفر کے بعد سنیچر کی شام سینٹیاگو پہنچي اور جب ان کی راکھ کو جنازے کے روپ میں گلیوں سے لے جایا جا رہا تھا تو لوگوں کا جم غفیر 'فیدل زندہ باد' اور 'میں فیدل ہوں' کے نعرے لگا رہے تھے۔

وینزویلا، نیکاراگوا اور بولیویا کے رہنماؤں نے تقریب میں شرکت کی۔

فیدل کاسترو

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصحت کی خرابی کے سبب سنہ 2006 میں فیدل اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے

کیوبا کے ہزاروں باشندوں میں سے ایک تانیا ماریکا جیمینز نے خبرساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'جو فیدل کو چاہتے تھے وہ ہم سب کے لیے باپ کی طرح تھے۔ انھوں ہمارے لیے راستہ بنایا اور لوگ ان کی اتباع کریں گے۔'

فیدل کاسترو اس چھوٹے انقلابی گروپ میں شامل تھے جس نے 26 جولائی سنہ 1953 کو بیرکس پر حملہ کیا تھا۔ ہر چند کے حملہ ناکام رہا لیکن اسے امریکہ نواز فلجینسیو بتیستا کی حکومت کے خلاف پہلی پیش قدمی کہا جاتا ہے ۔ فلجینسیو بتیستا کی حکومت بالآخر یکم جنوری سنہ 1959 کوختم ہو گئي۔

کیوبا کی عوام

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکیوبا کے لوگ 'فیدل زندہ باد' اور 'میں فیدل ہوں' کے نعرے لگا رہی تھی

فیدل کاسترو نے تقریباً نصف صدی تک کیوبا پر ایک پارٹی کے ملک کے طور پر حکومت کی لیکن ان کے بارے میں لوگوں کی رائے منقسم ہے۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کیوبا کو اس کی عوام کے حوالے کیا اور وہ ان کے صحت اور تعلیم کے پروگرام کے لیے ان کی تعریف کرتے ہیں۔

جنازہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفیدل کاسترو کی راکھ کو افیجینیا کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا جہاں آزادی کے ہیرو جوز مارتی دفن ہیں

لیکن ان کے ناقدین انھیں آمر کہتے ہیں جسے مخالفت اور اختلاف منظور نہیں۔

فیدل کاسترو کی راکھ کو افیجینیا کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا جہاں آزادی کے ہیرو جوز مارتی دفن ہیں۔