فیدل کاسترو کی تدفین کی رسومات مکمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے مشرقی شہر سینتیاگو میں مکمل ہوگئی ہیں۔
ان کی موت کے نو دن بعد ان کے جسم کی راکھ ایک قبر میں رکھی گئی ہے۔ ایک نجی تقریب میں فیدل کاسترو کی راکھ کو 19ویں صدی کے کیوبا کی آزادی کے ہیرو ہوزے مارتی کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔
اس موقعے پر فرانس کے وزیرِ ماحولیات نے کہا کہ ’(اس تقریب میں) کوئی تقاریر نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی سادہ تقریب تھی۔‘
ہفتے کے دن دسیوں ہزار لوگوں نے ایک ماتمی تقریب میں شرکت کی جس کی سربراہی کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کی۔
اس موقعے پر راؤل کاسترو نے اپنے ’ملک کی سلامتی اور بھائی کے سوشلئزم‘ کے دفاع کا عہد کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ایک تقریر میں اعلان کیا کہ فیدل کاسترو کی خواہش کے مطابق کسی سڑک یا یادگار کا نام ان کے نام پر نہیں رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا: ’انقلاب کے رہنما شخصیت پرستی کے کسی بھی قسم کے اظہار کے سخت خلاف تھے۔‘
خیال رہے کہ فیدل کاسترو 25 نومبر کو 90 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کی راکھ دارالحکومت ہوانا سے چار دن کے سفر کے بعد سنیچر کی شام سینٹیاگو پہنچي اور جب ان کی راکھ کو جنازے کے روپ میں گلیوں سے لے جایا جا رہا تھا تو لوگوں کا جم غفیر 'فیدل زندہ باد' اور 'میں فیدل ہوں' کے نعرے لگا رہے تھے۔
وینزویلا، نیکاراگوا اور بولیویا کے رہنماؤں نے تقریب میں شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کیوبا کے ہزاروں باشندوں میں سے ایک تانیا ماریکا جیمینز نے خبرساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'جو فیدل کو چاہتے تھے وہ ہم سب کے لیے باپ کی طرح تھے۔ انھوں ہمارے لیے راستہ بنایا اور لوگ ان کی اتباع کریں گے۔'
فیدل کاسترو اس چھوٹے انقلابی گروپ میں شامل تھے جس نے 26 جولائی سنہ 1953 کو بیرکس پر حملہ کیا تھا۔ ہر چند کے حملہ ناکام رہا لیکن اسے امریکہ نواز فلجینسیو بتیستا کی حکومت کے خلاف پہلی پیش قدمی کہا جاتا ہے ۔ فلجینسیو بتیستا کی حکومت بالآخر یکم جنوری سنہ 1959 کوختم ہو گئي۔

،تصویر کا ذریعہAP
فیدل کاسترو نے تقریباً نصف صدی تک کیوبا پر ایک پارٹی کے ملک کے طور پر حکومت کی لیکن ان کے بارے میں لوگوں کی رائے منقسم ہے۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کیوبا کو اس کی عوام کے حوالے کیا اور وہ ان کے صحت اور تعلیم کے پروگرام کے لیے ان کی تعریف کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن ان کے ناقدین انھیں آمر کہتے ہیں جسے مخالفت اور اختلاف منظور نہیں۔
فیدل کاسترو کی راکھ کو افیجینیا کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا جہاں آزادی کے ہیرو جوز مارتی دفن ہیں۔







