100 خواتین: ایزابیلا کے لیے امتیازی سلوک ایک مہمیز ثابت ہوا

ایزابیلا

،تصویر کا ذریعہJuan Carlos Menendez

،تصویر کا کیپشنایزابیلا صرف 19 برس کی ہیں اور ان کے ملبوسات کی نمائش لندن فیشن ویک میں ہو چکی ہے
    • مصنف, ایمن خواجہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والی ایزابیلا سپرنگمل کے لیے امتیازی سلوک اور مسترد کیا جانا وہ مہمیز ثابت ہوا جس نے انھیں لندن فیشن ویک جیسے عالمی فیشن مقابلے تک پہنچا دیا۔

ایزابیلا کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پذیرائی ملنے سے قبل انھیں ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہونے کی وجہ سے ان کے آبائی ملک میں ہی دو فیشن سکولز نے داخلہ دینے سے انکار کیا۔

19 سالہ ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ 'وہ کہتے تھے کہ میں اس پیشے کا دباؤ برداشت نہیں کر پاؤں گی۔'

ان کی والدہ مسز تجیدا کا کہنا ہے کہ یہ مسترد کیا جانا ہی وہ چیز تھا جس نے ایزابیلا کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

'مجھے اس بات پر غصہ تھا کہ ان اداروں نے ایزابیلا کو سیکھنے کا موقع نہیں دیا۔ یہ بہت افسوسناک بات تھی لیکن اس نے ہر چیز بدل دی۔ ایزابیلا نے فیصلہ کیا کہ وہ سلائی سیکھے گی اور میں اسے سلائی سکھانے والے ایک ادارے میں لے گئی۔'

ایزابیلا

،تصویر کا ذریعہJuan Carlos Menendez

سلائی سیکھنے کے دوران ہی ایزابیلا سے کہا گیا کہ وہ گوئٹے مالا کی روایتی گڑیوں 'وری ڈالز' کے لیے ملبوسات بنائیں۔

ایزابیلا کی والدہ بتاتی ہیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی گڑیوں کے لیے کپڑے نہیں بنانا چاہتی تھیں اور اس کا حل انھوں نے قدآدم گڑیاں بنا کر نکالا جن کے لیے انھوں نے کڑھائی والی جیکٹیں اور رنگین پونچو بنائے جو آج ان کی وجۂ شہرت ہیں۔

جلد ہی ایزابیلا نے گڑیوں کی جگہ انسانوں کے لیے کپڑے ڈیزائن کرنا شروع کر دیے اور یہ کپڑے فیشن کی دنیا میں مقبول بھی ہوگئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لندن فیشن ویک میں حصہ لینے والی ایسی پہلی فیشن ڈیزائنر بن گئیں جو ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہے۔

ایزابیلا
،تصویر کا کیپشنایزابیلا سے کہا گیا کہ وہ گوئٹے مالا کی روایتی گڑیوں 'وری ڈالز' کے لیے ملبوسات بنائیں۔

ایزابیلا کے مطابق ان میں کپڑے ڈیزائن کرنے کا شوق پیدا ہونے کی ایک وجہ خود ان کے لیے مناسب ملبوسات کی عدم دستیابی بھی تھی۔ 'میرے لیے اپنے ناپ کے کپڑے تلاش کرنا بہت مشکل تھا۔'

وہ کہتی ہیں 'میرے جیسے افراد کا جسم ذرا مختلف ہوتا ہے۔ ہمارا قد چھوٹا، جسم چوڑا یا پھر بہت پتلا ہوتا ہے۔ میری والدہ کو ہمیشہ بازار سے خریدے گئے کپڑوں کو میرے ناپ کے مطابق بنانا پڑتا تھا۔'

ایزابیلا کے مطابق 'یہی وجہ تھی کہ میں نے ایسے کپڑے بنانے شروع کیے جو ڈاؤن سنڈروم کا شکار افراد کے ناپ کے ہوں۔ مجھے گوئٹے مالا کا کپڑا اور رنگ اور نقوش کا تنوع بہت پسند ہے۔'

ایزابیلا کے مخصوص رنگین ڈیزائنوں نے اس نوجوان ڈیزائنر کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے اور انھیں آئندہ برس پاناما اور میامی میں منعقد ہونے والے فیشن شوز میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

ایزابیلا کا خاندان
،تصویر کا کیپشنایزابیلا کا خاندان خصوصاً ان کی دادی ملبوسات کی ڈیزائننگ کے معاملے میں ان کے لیے مثال ہیں۔

"ان کا ڈیزائننگ کا عمل انوکھا ہے۔ وہ گوئٹے مالا کے روایتی کپڑے کا چناؤ خود کرتی ہیں جس سے ماہر درزی اور کشیدہ کار ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایسے ملبوسات تخلیق کرتے ہیں جن کی شہرت اب عالمی سطح پر پھیل چکی ہے۔

ایزابیلا کا خاندان خصوصاً ان کی دادی ملبوسات کی ڈیزائننگ کے معاملے میں ان کے لیے مثال ہیں۔

مسز تجیدا بتاتی ہیں کہ 'ایزابیلا ہر چیز کے بارے میں اپنی الگ رائے رکھتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والی لڑکی ہے۔ اگر میں یا کوئی اور کوئی تجویز دے تو وہ کہتی ہے، نہیں ماں میں چاہتی ہوں کہ یہ ویسے ہو۔'

ان کے مطابق ایزابیلا کا مصمم عزم اور فیصلے پر قائم رہنے کی طاقت کی بنیادی وجہ وہ سفر ہے جو اس مقام تک پہنچنے کے لیے اسے کرنا پڑا، جہاں وہ آج کھڑی ہے۔

ایزابیلا کا خاندان

،تصویر کا ذریعہAlexs Vazquez

،تصویر کا کیپشنایزابیلا اپنے برانڈ کو دنیا بھر میں متعارف کروانا چاہتی ہیں

ایزابیلا کہتی ہیں کہ 'سچ یہی ہے کہ مجھے امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ لوگ تنقید کرتے تھے اور انھیں یقین نہ تھا کہ میں کچھ کر سکتی ہوں۔'

تاہم ان کے مطابق یہ خاندان اور دوستوں کا پیار تھا جس نے اپنے خواب کی تعبیر پانے میں ان کی مدد کی۔ 'میں اب تک روم، لندن، میکسیکو جا چکی ہوں اور آئندہ برس میامی، شکاگو اور ممکنہ طور پر پیرس جاؤں گی۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'میں اپنے برانڈ کو دنیا بھر میں متعارف کروانا چاہتی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ لوگ میرے ڈیزائنوں کے بارے میں جانیں اور انھیں علم ہو کہ ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا افراد بھی کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا کام میری شناخت بن جائے۔'."