مشیل اوباما کو ’بندر‘ کہنے پر امریکہ میں تنازع

مشیل اوباما

،تصویر کا ذریعہAP

امریکہ ریاست مغربی ورجینیا کے ایک قصبے کی مئیر کی جانب سے فیس بک پر سابق خاتون اول مشیل اوباما کے بارے میں ایک نسل پرستانہ پوسٹ کی وجہ سے امریکہ میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

پامیلا رمزے ٹیلر نامی ایک خاتون جو کلے کاؤنٹی میں ایک غیر منافع بخش گروہ چلاتی ہیں انھوں نے اپنی پوسٹ میں خاتون ِ اول کو ایپ یعنی بندر کہا تھا۔

انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’وائٹ ہاؤس میں ایک اعلی درجے کی، خوبصورت اور باوقار خاتون اول کا آنا کافی خوش آئند ہوگا۔ میں ایک ’بندر‘ کو ہیل (اونچی ایڑھی کے جوتوں) میں دیکھ دیکھ کر تھک چکی ہوں۔‘

ایک مقامی میئر بیویرلی والنگ نے اس پوسٹ پر اپنے ردِ عمل میں لکھا ’آج آپ نے مجھے خوش کر دیا۔‘

والنگ محض 491 نفوس پر مشتمل قصبے کلے کی میئر ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہWSAZ

سنہ 2010 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کوئی بھی افریقی نژاد امریکی نہیں ہے۔ کلے کاؤنٹی میں مجموعی طور پر 9000 افراد ہیں اور ان میں 98 فیصد سفید فام ہیں۔

یہ فیس بک پوسٹ نہ صرف پورے امریکہ بلکہ بین الاقوامی میڈیا تک پھیل گئی ہے۔

ایک آن لائن پیٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں خواتین کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا جائے اور اس پر 85000 افراد نے دستخط کر دیے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ڈیلی نیوز کی خبر کے مطابق پیر کو پامیلا رمزے ٹیلر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE

،تصویر کا کیپشنمشیل اوباما نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ سے ملاقات کی

اس خبر کو سب سے پہلے نشر کرنے والے مقامی ادارے ڈبلیو ایس اے زیڈ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی پوسٹ نسل پرستانہ محسوس ہوتی ہے لیکن ان کا یہ ارادہ ہرگز نہیں تھا۔ وہ تو محض اپنی ذاتی رائے بیان کر رہی تھیں جو ’پرکشش ہونے کے بارے میں تھی نہ کہ کسی کی رنگت کے بارے میں۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف بہتان بازی کے الزام میں قانونی کارروائی کریں گی۔

جبکہ میئر بیویرلی والنگ کا کہنا تھا ’میں تو وائٹ ہاؤس میں آنے والی تبدیلی کے حوالے سے کہہ رہی تھی۔ اگر میری وجہ سے کسی کے احساسات مجروح ہوئے ہیں تو میں معافی چاہتی ہوں۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں انھیں علم ہے کہ میں نسل پرست نہیں ہوں۔‘

ویسٹ ورجینیا کی ڈیمو کریٹک پارٹی کی خاتون چییرمین بلینڈا بیافور نے مشیل اوباما کے لیے ایک معافی نامہ جاری کرتے ہوئے لکھا ’ ویسٹ ورجینیا اس سے کہیں بہتر ہے۔ یہ قدامت پرست، نفرت انگیز اور نسل پرست وہی جز ہیں جن کے خلاف ہماری لڑائی جاری ہے۔‘

اس ریاست سے ڈونلڈ ٹرمپ 68 فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔