سی پیک منصوبہ: ’تمام صوبوں کو اس کا حق دیا جائے‘

سی پیک

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر رہی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ پاک چین راہداری کے منصوبے کو متنازع ہونے سے بچایا جائے اور اس میں تمام صوبوں کو اس کا حق دیا جائے۔

جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اس منصوبے کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس منصوبے کو ملک کے لیے گیم چینجر سمجھتا ہے۔

اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی سیاسی جماعت صوبے کے حقوق خاص طور پر پاک چین راہداری کے حوالے سے کوئی بھی اجلاس طلب کرے گی تو تمام سیاسی جماعتیں اس میں شرکت کریں گی۔

اس اجلاس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ صوبے میں تمام سیاسی جماعتیں حقوق کے حوالے سے متفق ہیں اور وہ چین کے ساتھ اس منصوبے پر عملدرآمد چاہتے ہیں لیکن اس میں تمام صوبوں کو اس کے برابر کے حقوق دیے جائیں۔

اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں کے نمائندے شریک تھے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اس کانفرنس کے کوارڈینیٹر تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت پاک چین راہداری میں خیبر پختونخوا کو اس کا حق نہیں دیتی تو تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر تمام آئینی، قانونی سیاسی راستے استعمال کریں گے۔ جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد خان نے یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام علاقوں کو اس منصوبے سے جوڑا جائے۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عدالت سے رجوع کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا

اس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عدالت سے رجوع کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں پاک چین راہداری کے حوالے سے ایک درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے انھیں اعتماد میں لیا جائے اور اس بارے میں جو معاہدے ہوئے ہیں انھیں منظر عام پر لایا جائے۔

اس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے اٹھائیس مئی کے اعلان پر عمل درآمد کیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں ہر سطح پر احتجاج کریں گی۔

اس اجلاس میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ کے نمائندے مولانا گل نصیب نے مسلم لیگ کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے پر اعتراض مناسب نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر رہی ہے اور اس صوبے میں کچھ سڑکوں کا اعلان کیا گیا ہے لیکن راہداری منصوبے کی دیگر مراعات اس میں شامل نہیں ہیں۔