رشوت ستانی کا الزام، روس کے وزیر معیشت برطرف

،تصویر کا ذریعہReuters
روس میں اقتصادیات کے وزیر ایلیکسی الیوکیف پر رشوت ستانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
روس میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی ایس کے کا کہنا کہ الیوکیف نے بیس لاکھ ڈالر کی رقم وصول کی۔
ایلیکسی الیوکیف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ایلیکسی الیوکیف کے وکیل کا کہنا ہے ان کے موکل نے اس اقدام کو 'سرکاری اہلکار کے خلاف اشتعال انگیزی کا ایک ڈراما قرار دیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر روس کی ایک عدالت نے ایلیکسی الیوکیف کو 15 جنوری تک گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔
دوسری جانب روس کے صدر ولادیمر پوتن نے 60 سالہ الیوکیف کو 'ان پر اعتماد کے ختم ہونے' کے بعد انھیں ان کے عہدے سے بر طرف کر دیا ہے۔
پوتن نے الیوکیف کے نائب یلن کو اقتصادیات کا عبوری وزیر مقرر کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ الیوکیف سنہ 1991 میں بغاوت کی کوشش کے بعد سے پکڑے جانے والے اب تک کے سب سے اعلی ترین عہدے دار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ انھوں نے تیل کی بڑی کمپنی روزنیفٹ کے آپریشنز کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس دور میں روزنیفٹ نے ایک دوسری تیل کی کمپنی بیشنیفٹ کا بھی 50 فیصد حصہ خرید لیا تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ترجمان کے مطابق ’14 نومبر کے دن الیوکیف کو بیس لاکھ ڈالر کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ جو وہ روزنیفٹ کے بارے میں فائدہ مند رائے دینے کے لیے وصول کر رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہRUSSIAN TV
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سٹنگ آپریشن مہینوں کی نگرانی کے بعد کیا گیا اس دوران ان کے فون بھی ٹیپ کیے گئے۔
یہ خبر روسی ٹیلی وژن پر ایک بڑی خبر کے طور پر چلائی گئی جس کی شہہ سرخی تھی ’بدعنوانی کے خلاف جنگ‘۔
اگر ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں سات سال سے لے کر 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
60 سالہ الیوکیف کو سنہ 2013 میں وزیرِ معیشت مقرر کیا گیا تھا۔ وہ سنہ 2004 میں روس کے مرکزی بینک کے نائب چیئرمین تعینات ہوئے۔
روس اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے اور اس کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔.








