برطانیہ بریکسٹ پر پارلیمان سے ووٹنگ کروائے: عدالت

جینا ملر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجینا ملر جنھوں نے یہ کیس دائر کیا تھا

برطانوی ہائی کورٹ نے حکم صادر کیا ہے کہ ملک کی پارلیمان یورپی یونین سے نکلنے کے عمل پر لازمی ووٹنگ کروائے۔

اس کا مطلب ہے کہ حکومت ازخود لزبن معاہدے کی شق 50 کے تحت کارروائی شروع نہیں کر سکتی جس کے تحت یورپی یونین سے رسمی مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کی رو سے ارکانِ پارلیمان کو رائے شماری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم مبصرین نے اسے غیرآئینی قرار دیا ہے۔

حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

اب اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہو گی جو اگلے ماہ کے اوائل میں متوقع ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ شق 50 کا سہارا لیں گی جس کے تحت یورپی یونین کو باضابطہ طور پر برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے سے مطلع کیا جائے گا۔

اس سے قبل برطانیہ نے 48.1 فیصد کے مقابلے پر 51.9 فیصد کی اکثریت سے 'بریکسٹ' کہلانے والے ریفرینڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یورپی یونین کے دیگر 27 ارکان نے کہا ہے کہ برطانیہ کی علیحدگی کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کیے جا سکتے جب تک شق 50 کا سہارا نہ لیا جائے۔

وکیل جینا ملر نے ہائی کورٹ کے باہر کہا کہ حکومت کو 'اپیل نہ کرنے کا عقلمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔'

انھوں نے کہا: 'آج کا نتیجہ ہم سب کے بارے میں ہے۔ یہ ہماری ٹیم کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے برطانیہ اور ہم سب کے مستقبل کے بارے میں ہے۔'

تاہم ایک حکومتی ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انھوں نے کہا: 'ملک نے پارلیمان کے منظور کردہ ایکٹ کے ذریعے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور حکومت ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔'

حکومتی وکلا کی دلیل ہے کہ 'عوامی رائے' کو نافذ کرنے کے لیے خصوصی استحقاق قانونی طریقہ ہے۔

تاہم لارڈ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا کہ 'قانون کے تحت حکومت کو اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ شق 50 کے تحت یورپی یونین سے علیحدگی کا نوٹس دے۔'

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار نورمن سمتھ کہتے ہیں کہ اگر عدالت کا فیصلہ پلٹا نہ گیا تو قانونی موشگافیوں میں کئی مہینے صرف ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمان کی اکثریت شق 50 کے حق میں ووٹ دے گی کیوں کہ ووٹروں کی اکثریت نے بریکسٹ کو منظور کیا ہے۔