آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹائٹینک کو قریب سے دیکھنے کا نیا مشن: ’اس سفر نے مجھے مکمل کر دیا‘
- مصنف, سائمن پلیٹس
- عہدہ, دی ٹریول شو
کینیڈا کے شہر سینٹ جانز سے 400 میل دور شمالی بحر اوقیانوس کی تیز لہروں والے پانیوں میں ایک بڑا صنعتی بحری جہاز سست رفتاری کے ساتھ ایک کنارے سے دوسرے کنارے جاتا نظر آتا ہے۔ اس جہاز پر سٹاکٹن رش نے مستقبل کی ایک منفرد پیشگوئی کی ہے۔
’ایک وقت آئے گا جب لوگ باقاعدگی سے کم خرچے پر خلا میں جائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ زیر آب جانا بھی ایسا ہی ہوگا۔‘
رش کو امید ہے کہ ان کی کمپنی اوشن گیٹ زیر سمندر ایسی تحقیق کر سکے گی جیسی ایلون مسک، رچرڈ برانسن اور جیف بیزوس خلائی سفر میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: استطاعت رکھنے والوں کو نئی دنیاؤں کی دریافت کا موقع دینا، بے شک اگر ان کے پاس خصوصی تربیت نہ ہو۔
نارتھ اٹلانٹک پر رش کا مقام پہلی نظر میں بے مثال معلوم ہوتا ہے۔ تاہم یہ وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کا ایک بڑا سانحہ ہوا تھا۔ اسی پانی کے 3800 میٹر نیچے ٹائٹینک کا ملبہ ہے جو اپریل 1912 میں اپنے پہلے سفر کے دوران برف کے تودے سے ٹکرانے کے بعد غرق ہوا تھا۔
رش کی کوشش ہے کہ زیر سمندر سفر کو عام لوگوں کے لیے ممکن بنایا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے سب سے مشہور بحری جہاز کے ملبے کو دیکھنے کے لیے زیر آب جانا ایک زبردست تجربہ ہے۔ ان کے مطابق ’میں نے ایک تحریر پڑھی تھی جس میں کہا گیا کہ انگلش زبان کے تین الفاظ پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں: کوکا کولا، گاڈ اور ٹائٹینک۔‘
مگر ٹائٹینک کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے رش نے نئے طرز کی آبدوز بنائی ہے جس میں ہلکے مٹیریل کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر سوار پانچ لوگ سمندر کی تہہ میں جا کر ٹائٹینک کو دیکھ سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا ناممکن ہے۔
مگر رش نے یہ کر دکھایا۔ وہ گذشتہ سال اس آبدوز پر جہاز کے ملبے تک پہنچے۔ اس بار اس سفر پر آبدوز کے پائلٹ، اوشن گیٹ کا عملہ، سائنسدان اور پیسوں کے عوض آنے والے مسافر موجود تھے جنھیں ’مشن سپیشلسٹ‘ کہتے ہیں۔ انھوں نے فی کس ڈھائی لاکھ ڈالر دیے تاکہ وہ قریب سے ایک بار ٹائٹینک کو دیکھ سکیں۔
اس دوران وہ اپنے ساتھ ’سٹیزن سائنسدانوں‘ کو بھی لے جاتے ہیں جو زیر سمندر حیاتیاتی تنوع کی تصاویر اور ویڈیوز جمع کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سفر میں بینکر رینیتا روجاس، کاروباری شخصیت اوسن فیننگ اور ٹی وی پروفیشنل جیڈن پین موجود تھے۔ اس سفر میں سمندروں پر تحقیق کرنے والے سٹیو راس اور آبدوز کے پائلٹ سکاٹ گریفتھ بھی شامل ہوئے۔
روجاس نے بتایا کہ ’میں ارب پتی نہیں۔ میں نے بڑے لمبے عرصے تک اس کے لیے پیسے جمع کیے۔ میں نے زندگی میں بڑی قربانیاں دیں تاکہ ٹائٹینک دیکھ سکوں۔ میرے پاس کار نہیں، ابھی میری شادی نہیں ہوئی۔ میرے بچے بھی نہیں ہیں۔ یہ تمام فیصلے اس لیے کیے کیونکہ مجھے ٹائٹینک کو دیکھنا تھا۔‘
راس کے لیے یہ ایک ایسا موقع تھا جس میں وہ زیر سمندر ماحول پر تحقیق کر سکتے ہیں، جیسے ملبے کے آس پاس پانی کے نمونے جمع کر سکتے ہیں اور کیمرے کی آنکھ میں حیاتیاتی تنوع کو قید کر سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ زیر سمندر ماحول کو سمجھنے کی دوڑ ہے۔ یہ ایسا ماحول ہے کہ جو سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اور اس پر سب سے کم تحقیق ہو پائی ہے۔ بحر کے ماحول میں تبدیلی عالمی سطح پر تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔‘
یہ آبدوز دو گھنٹوں سے زیادہ دیر تک مسافروں کو سمندر کی تہہ تک لے گئی۔ ایسے میں راس اس کی گھڑکی سے حیاتیاتی تنوع کا باریکی سے جائزہ لینے میں مصروف رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے نیچے ایسے جانداروں کو دیکھا جو دنیا میں سب سے عظیم نقل مکانی کرتے ہیں۔ ہر شام یہ جاندار سطح تک پہنچتے ہیں اور ہر صبح وہ 500 سے 1000 میٹر تک نیچے پہنچتے ہیں۔ ایسے بہت سے جانوروں میں قدرتی روشنی ہوتی ہے تو اس لیے آپ کو نیچے ان کی روشنی دیکھنے کو ملتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
جب یہ آبدوز سمندر کی تہہ سے ٹکرائی تو یہ اس 15 مربع میٹر کے ملبے کے مقام تک پہنچی۔ یہ ٹائٹینک کی آخری آرام گاہ ہے۔
پین نے بتایا کہ ’ہم تمام پانچ لوگوں نے غیر اعلانیہ طور پر خاموشی کا لمحہ اختیار کیا۔ مجھے سب سے پہلے کوئلے کے ٹکڑے نظر آئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ٹائٹینک سے جڑی انسانیت جھلکی۔ لوگ اسی کوئلے کو اٹھا کر اس جہاز پر لائے تھے اور ڈوبنے کے دوران یہ باہر بکھر گیا۔‘
آبدوز کے دوسرے حصے سے پین کو پائلٹ کی آواز آئی: ’اوہ نو، ہمیں ایک مسئلے کا سامنا ہے۔‘
پائلٹ گریفتھ نے بتایا کہ ’جب میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں تو ایک تھرسٹر پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اب میں صرف گھوم سکتا ہوں۔‘
اوپر اپنے جہاز پر رش نے پائلٹ کے کنٹرولر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی اور اپنے عملے سے کہا: ’یہ آسان نہیں ہو گا۔‘
روجاس نے کہا کہ ’مجھے لگا ہم واپس نہیں جاسکیں گے۔ ہم ٹائٹینک سے 300 میٹر کے فاصلے پر ہیں اور صرف گول گول گھوم رہے ہیں۔‘
تو ایسے میں رش کے ذہن میں ایک آسان سے حل آیا: ’اسے دوسری طرف سے سنبھال لو۔‘ جب یہ طے ہوگیا کہ کنٹرولر کو بائیں موڑنے سے آبدوز آگے بڑھے گی تو انھوں نے حل دیا کہ کنٹرولر کو کلاک وائز 90 ڈگری پر گھمایا جائے تاکہ آبدوز کا دوبارہ آگے بڑھنا ممکن ہوجائے۔
وہ ٹائٹینک کے ملبے میں رنگ برنگی ٹائلز، پلیٹس اور سنک کو دیکھتے ہوئے بالاخر جہاز کے منفرد دخش (بو) تک پہنچ گئے۔ یہ وہی حصہ ہے جہاں فلم ٹائٹینک کے افسانوی کردار جیک اور روز اپنے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہوتے ہیں۔
سیلفیاں لینے کے بعد بقیہ وقت سمندر کی تہہ پر دخش کا جائزہ لیتے ہوئے گزارا گیا اور ملبے سے گزرتے ہوئے یہ سفر واپس سمندر کی سطح پر اختتام پذیر ہوا۔
اس سفر کے ڈیٹا اور ویڈیوز کی تحقیق مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مگر اس کے فوراً بعد مسافروں کو اطمینان محسوس ہوا۔ آبدوز سے جہاز پر واپس پہنچنے پر روجاس نے اپنے آنسو پونچھے اور کہا ’خود کی تکمیل کے لیے میرا اس سفر پر جانا ضروری تھا۔ اب میں مکمل محسوس کر رہی ہوں۔‘