آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایس ایس سینٹرل امریکہ: 165 برس قبل ڈوبنے والے ’سونے کے جہاز‘ کے ملبے سے برآمد ہونے والی تصویریں
سنہ 1857 میں ایس ایس سینٹرل امریکہ نامی ایک بحری جہاز، جسے ’سونے کا جہاز‘ بھی کہا جاتا تھا، امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوب گیا تھا۔
یہ جہاز ’گولڈ رش‘ کہلائی جانے والی سونا تلاش کرنے کی دوڑ سے حاصل کیے گئے سونے سے لدا ہوا تھا۔ ایک سمندری طوفان کے باعث جب یہ بحری جہاز ڈوبا تو اِس پر موجود 425 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک اندازے کے مطابق جب یہ بحری جہاز مغربی ساحل کے قریب سمندر میں ڈوبا تھا تو یہ 21 ٹن سونے کے سکوں اور سونے کی اینٹوں سے لدا ہوا تھا۔
تاہم اس جہاز میں کچھ مسافروں کے پاس ذاتی قیمتی اشیا بھی تھیں جو جہاز کے ساتھ ہی غرق ہو گئیں، یہ اُن کی تصویریں تھیں۔
سنہ 2014 میں اس جہاز کے ملبے سے جو چیزیں بازیافت ہوئیں ان میں ’داگرے ٹائپ‘ (فوٹوگرافی کی اولین شکل) تصویریں بھی تھیں۔ یہ تصاویر ابھی حال ہی میں جاری کی گئی ہیں۔
اس بدقسمت جہاز کا ملبہ پہلی بار سنہ 1988 میں تلاش کیا گیا تھا اور اس کے بعد کے برسوں میں پیشہ ور غوطہ خوروں کو اس میں ڈوبی ہوئی دولت کو بازیافت کرنے کا مشن دیا گیا تھا۔
ایس ایس سینٹرل امریکہ پراجیکٹ کے سابق چیف سائنسدان اور تاریخ دان باب ایوانز، جنھوں نے جہاز کے ملبے کی تلاش کے مشن کی قیادت کی، نے کہا کہ یہ تصاویر ایک دہائی قبل برآمد ہوئی تھیں لیکن سمندر کی تہہ میں ڈوبے اس جہاز سے بازیافت ہونے والے سونے کے مالکانہ حقوق کے بارے میں ایک ’پیچیدہ قانونی جنگ‘ لڑی گئی تھی جس کی وجہ سے ان تصاویر کے اجرا میں تاخیر ہوئی جو ایک صدی سے زائد عرصے تک سمندر کی تہہ پر پڑی رہنے کے باوجود بھی برقرار تھیں۔
مسٹر ایوانز سنہ 1983 سے ایس ایس سینٹرل امریکہ پر تحقیق کر رہے ہیں اور اسے ’ریاست ہائے متحدہ کی گمشدہ تاریخ کا ایک دلچسپ حصہ‘ قرار دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اُنھوں نے کہا ’یہ اپنے دور کے ایک حیرت انگیز ’ٹائم کیپسول‘ کی دریافت کا لمحہ ہے، خاص کر یہ دیکھنا کہ یہ وہ چیزیں تھیں جو (مسافروں کے لیے) بہت اہم تھیں، ان کے پیسے اور ان کی تصاویر۔ تو بات جب اس نکتے تک آتی ہے کہ وہ کون سے اشیا ہیں جو میرے لیے اہم ہیں اور جنھیں میں یہاں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو اُن کے لیے یہی اصل بات تھی۔‘
سنہ 1850 کی دہائی میں فوٹو گرافی بہت مقبول ہوئی اور جو لوگ کیلیفورنیا میں سونے کی تلاش میں گئے تھے وہ اپنے عزیز اور رشتے داروں کو اپنی تصاویر واپس بھیجتے تھے۔
مسٹر ایونز نے کہا کہ ’یہ شاید کچھ طریقوں سے اُس زمانے کا بالکل نیا رجحان تھا، ’واہ، میں کسی آئل پینٹر کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے مقامی سٹوڈیو میں ایک یا دو ڈالر میں بنائی گئی اپنی تصویر حاصل کر سکتا ہوں، اور میں اپنے عزیزوں کو یہ بتا سکتا ہوں کہ میرے حالات بہت اچھے ہیں۔ میں اچھے حالات میں ہوں، میں اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔ میں صحت مند ہوں۔‘
’اس وقت سان فرانسسکو میں ایک درجن فوٹوگرافی سٹوڈیوز تھے۔‘
تصاویر کے اتنی اچھی طرح سے محفوظ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت فوٹو گرافی کے طریقوں کی وجہ سے اُنھیں ایک کیس (گول شکل کے خول) میں واٹر پروف طریقے سے بند کر دیا گیا تھا۔ وہ خول چمڑے میں لپٹی ہوئی لکڑی سمیت مختلف قسم کے مواد سے بنایا گیا تھا اور جیسا کہ بہت سی چیزوں کے ساتھ، معیار کی بھی اہمیت ہوتی ہے، ان کو بھی معیاری حالت میں رکھا گیا تھا۔
مسٹر ایوانز نے کہا کہ ’یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ کیسز کتنی اچھی طرح سے بنائے گئے تھے، اور کتنی اچھی تصاویر بنائی گئی تھیں۔‘
اگرچہ سمندر کی تہہ میں ماحول انتہائی نمکین اور بلند دباؤ کا حامل ہوتا ہے جو نازک اشیا کو ضائع کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، تاہم ان تصویروں کے محفوظ رہ جانے کی ایک وجہ ایک اور عنصر یہ ہے کہ بحر اوقیانوس کے پانیوں کا درجہ حرارت ٹھنڈا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
19ویں صدی کے وسط میں کیلیفورنیا سے نیویارک وسطی امریکہ کے راستے سمندری سفر میں 24 دن لگ سکتے تھے جبکہ زمینی راستے سے اس سفر میں پانچ ماہ لگ سکتے تھے۔
ایوانز نے کہا کہ سٹیم شپ کی ایجاد جیسا کہ 280 فٹ لمبے ایس ایس سینٹرل امریکہ میں سٹیم انجن نصب تھا نے سمندری سفر کو آسان بنا دیا تھا لیکن سمندر میں موسمی حالات کے حوالے سے جہاز کا سفر ایک سستی اور آرام طلبی کا بھی باعث بن سکتا تھا۔
ایوانز کے مطابق ’میرے خیال میں اس سے یہ رویہ پیدا ہوا کہ ’اب جب کہ ہمارے پاس بحری جہازوں پر انجن موجود ہیں، ہمیں ہواؤں اور لہروں اور اس جیسی چیزوں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہمارے پاس ایسی چیز ہے جسے ہم خراب موسم پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘
’اور اس طرح یہ سوچ پیدا ہو گئی تھی کہ بحری جہاز طوفان کے باوجود اپنی طاقت کے ذریعے آسانی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
اس بدقسمت جہاز کے مسافروں کے لیے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کیٹیگری 2 کے سمندری طوفان نے جہاز کو اس وقت ڈبو دیا جب وہ پاناما سے نیویارک شہر کی طرف سفر کر رہا تھا۔ تقریباً 150 مسافروں کو بچا لیا گیا لیکن کیپٹن سمیت 400 سے زائد افراد سمندر میں غرق ہو گئے۔
ایوانز کہتے ہیں کہ وہ تاریخ کے مداح ہونے کے ناطے کوئی بھی پرانی دستاویز دیکھتے ہیں تو ان میں مزید جاننے کا جوش بیدار ہو جاتا ہے لیکن یہ تصاویر ایک اور جہت کا اضافہ کرتی ہیں۔
’ایک روبوٹ آبدوز میں اپنے کیمروں میں انسانوں کو جھانکتے ہوئے دیکھنے کے قابل ہونے کا خیال جو سمندر کی تہہ میں ایک میل سے زیادہ گہرائی میں ہے، اور یہ سنہ 1850 کی دہائی کے لوگ ہیں، یہ بذات خود ذہن کو انتہائی حیران کر دینے والا خیال ہے۔‘
’میرا مطلب ہے کہ دیکھنے کا یہ انداز اس حادثے میں شامل انسانوں کو ہمارے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے جس انداز کا کوئی بھی ثانی نہیں ہے۔‘