معمول: وہ مزیدار بسکٹ جن کے بغیر مسلمانوں کی عید الفطر اور مسیحی برادری کا ایسٹر نامکمل ہیں

معمول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ٹیسا فاکس
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

اس موسم بہار میں مقدس شہروں یروشلم اور بیت اللحم کی قدیم گلیوں کی ہوا میں ایک میٹھی سی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ گھروں میں لوگ اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ملک کر ایک خاص بسکٹ تیار کرتے ہیں جو مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لیے بہت خاص ہے۔

بیت اللحم میں رہنے والی ایک مسیحی خاتون راوان گھاتس، جو پیشے کے اعتبار سے شیف ہیں، نے مجھے بتایا کہ ’معمول کے بغیر ایسٹر نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ خوشی لاتا ہے۔‘

یروشلم میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون، راوان بزبازت، جو پیشے سے استاد ہیں، بچپن سے ہی اپنی والدہ کے ساتھ یہ مٹھائی بنا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عید الفطر پر ہم ہمیشہ معمول بناتے ہیں۔ ہم اس کے بغیر یہ تہوار نہیں منا سکتے۔‘

معمول کو سوجی اور گھی (گھی کی جگہ مکھن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے) سے بنایا جاتا ہے اور اس میں چیری کے بیچ اور کشمش کو پیس کر شامل کیا جاتا ہے۔

یہ چھوٹا سا بسکٹ آپ کے منھ میں گھل جاتا ہے اور یہ دیکھنے میں بھی بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ بیک کرنے سے پہلے اس کے پیڑے میں پستے اور عرق گلاب یا اخروٹ، دار چینی اور چینی ڈال کر گوندھا جاتا ہے یا اس میں کھجوروں کے پیسٹ کے ساتھ تھوڑا سا تیل یا مکھن ڈالا جاتا ہے۔

کتاب ’فیسٹ فووڈ آف دا اسلامک ورلڈ‘ کی مصنفہ انیسہ ہیلوو کہتی ہیں کہ ’کھجور سے بنا معمول ایسا ہے جیسے کریم سے بھرا کوئی بسکٹ ہو۔‘

معمول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان تین ذائقوں کے معمول کو پھر لکڑی کی بنی ایک ڈش ’قلب’ میں ڈالا جاتا ہے یا چمچے جسے ’ملقات‘ کہتے ہیں کہ ساتھ شکل دی جاتی ہے۔ کھجور سے بنے معمول کو گول شکل دی جاتی ہے جبکہ پستے والے معمول کی شکل بیضوی اور اخروٹ والا سائز میں ذرا چھوٹا ہوتا ہے۔

ہر برس خاص طور پر فلسطینی علاقوں اور عمومی طور پر مشرق وسطیٰ میں مسلمان اور مسیحی خاندان عید الفطر اور ایسٹر کے تہوار پر معمول بناتے ہیں اور اس سے ملتا جلتا ایک اور بسکٹ ’کاک‘ بھی تیار کیا جاتا ہے۔

اس برس ایسٹر 17 اپریل کو ہو گا۔ میسحی برادری حضرت عیسیٰ کی یاد میں یہ تہوار مناتی ہے، جنھوں نے صحرا میں 40 دن روزے کی حالت میں گزارے۔ بہت سے ماننے والے ان دنوں میں جانورں سے بنی مصنوعات اور شراب کے استعمال سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔

اس برس مسلمانوں کا مذہبی تہوار عید الفطر بھی دو مئی کو ہو گا۔ یہ مسلمانوں کے ماہ رمضان کے اختتام پر آتا ہے، ایسا مہینہ جس میں مسلمان طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔

بزبازت کہتی ہیں کہ اس بار رمضان اور ایسٹر ساتھ ساتھ آ رہے ہیں جو بہت اچھا ہے۔ ’آپ یروشلم جائیں تو آپ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کو روزے میں دیکھیں گے۔ یہ بہت خاص ہے۔‘

مشترکہ خاندانی نظام والے گھروں میں معمول بنانے کا کام گروپس میں بانٹا جاتا ہے۔ چولہے سے میٹھا کب اتارنا ہے، کیا ڈیزائن بنانا ہے، اس کے لیے ہر ایک کی الگ الگ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

ایسٹر اور عید الفطر منانے والوں کے لیے معمول خوبصورت یادیں بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ راوان گھاتس کہتے ہیں کہ ’ہم تین فیملیز ہیں اور اس کے علاوہ پڑوسی بھی ہوتے ہیں۔ ہم سب ایک گھر میں جمع ہو کر معمول بناتے ہیں۔ یہ بہت خوشی کا وقت ہوتا ہے۔‘

بزبازت کے گھر میں وہ اور ان کی بہنیں، خالائیں، کزن، والدہ اور نانی سب مل کر عید سے قبل معمول بناتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھی اسے بناتے ہوئے آپ بہت بھوک محسوس کرتے ہیں۔ آپ ہر چیز کو چکھنا چاہتے ہیں لیکن کوئی بھی اسے عید سے پہلے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ عید پر پھر آپ جو چاہیں، جتنا مرضی کھا سکتے ہیں۔‘

معمول

،تصویر کا ذریعہAlamy

گھاتس اپنے بچپن کو یاد کرتی ہیں کہ جب وہ اپنی والدہ کو دیکھ کر پھول کی شکل کے معمول بنانے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان کی والدہ سجاوٹ کا بہترین کام کرتی ہیں۔ چالیسویں روزے کی آدھی رات کو وہ اور ان کا خاندان رنگ کیے ہوئے انڈے اٹھاتا ہے اور سب انھیں آپس میں ٹکراتے ہیں۔ جس شخص کا انڈہ آخر میں ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے وہ اسے کھاتا ہے اور اس کے ساتھ معمول بھی کھائے جاتے ہیں۔

مسلم خاندان عام طور پر عید کا پہلا دن ایک ساتھ گزارتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھر میں کعک اور معمول سے بھری پلیٹس بھیجتے ہیں۔ دوسرے دن وہ مہمانوں کو اپنے گھر بلاتے ہیں اور کافی کے ساتھ انھیں معمول پیش کرتے ہیں۔

بزبازت کہتی ہیں کہ ’یروشلم میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے پاس شیئر کرنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ ایک ہی شہر ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔‘

فلسطینی علاقوں میں معمول میں استعمال ہونے والے اہم اجزا جیسے کھجوریں اور اخروٹ مقامی طور پر ہی پیدا کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کھجوریں، جن میں سے سب سے بہترین قسم ’میجدول‘ ہے، شہر اریحا اور مغربی کنارے کے مشرق میں موجود اردن ویلی سے آتی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اخروٹ کے درخت اپنے گھروں میں لگا رہے ہیں جبکہ یہ پہاڑی علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

بیت اللحم میں ’فادا ریستوران اور کیفے‘ کے مالک اور بین الاقوامی سطح پر جانے مانے شیف فادی کتان کو معمول کی خوشبو سے اپنا بچپن یاد آتا ہے جب ان کی دادی معمول بنایا کرتی تھیں۔

’جب میری دادی اور ان کے پڑوسی کعک اور معمول بنا رہے ہوتے تھے تو میری ہر کوشش ناکام ہو جاتی تھی تو مجھے آرام سے بیٹھنے اور خوشبو سے لطف و اندوز ہونے کا کہا جاتا۔ ہاں مجھے اخروٹ پیسنے کی اجازت ہوتی تھی۔‘

معمول

،تصویر کا ذریعہAlamy

قرون وسطیٰ کے کھانوں کے ماہر اور مصنف چارلس پیری کے مطابق ’معمول ایک روایتی ایرانی بسکٹ ’کلاچگ‘ کی ایک قسم ہے جس کا قرون وسطی کی عربی کتابوں میں ’کلایجا‘ کے نام سے ذکر ملتا ہے۔

یہ بسکٹ چربی اور مکھن کو ساتھ ملا کر بنایا جاتا تھا اور اسے مچھلی، پرندوں سمیت جیومیٹری کی کئی اشکال کی طرح ڈیزائن کیا جاتا تھا۔

ماضی میں تجارت کی وجہ سے مختلف ثقافتوں کے کھانے ایک دوسرے سے متاثر ہوئے تو ممکن ہے کہ معمول جیسے اور بھی میٹھے بسکٹ ہوں۔

ابن مبارک شاہ کی ایک کتاب جس کا بعد میں پروفسیر ڈینئل نیومین نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور اسے ’سلطانز فیسٹ 2020‘ کے نام سے شائع کیا گیا، کے مطابق مصر میں سنہ 1250-1517 کے درمیان جب غلام سپاہیوں کی ایک فوج ’مملوکس‘ ملک پر حکومت کرتی تھی، قرون وسطی کے ایک بسکٹ کا ذکر ملتا ہے، جس میں کھجوریں، عرق گلاب، زعفران اور مسالے ڈالے جاتے تھے۔

مشرق وسطیٰ کی ثقافت پر اپنا یوٹیوب چینل اور انسٹا گرام اکاؤنٹ چلانے والے تاریخ دان چارلس الہائیک کے مطابق عید الفطر پر مٹھائیاں بانٹے کا رواج دسویں سے بارویں صدی کے دوران فاطمی خلافت میں شروع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب خلیفہ وقت یا ریاست عید کی نماز سے پہلے سب لوگوں، جن میں ملازم بھی شامل ہوتے، مٹھائیاں تقسیم کرتے تھے۔

ویب سائٹ (Chef in Disguise) یعنی ’بھیس میں شیف‘ کے مطابق ان مٹھائیوں پر جملے بھی لکھے ہوتے تھے، جیسے کھائیں اور شکر ادا کیجیے، شکر کے ساتھ نعمتیں محفوظ ہیں تاہم جب سنہ 1922 میں سلطنت عثمانی کا اختتام ہوا تو کوئی اسلامی خلیفہ نہیں تھا اور پھر یہ روایت شاہی رواج سے نجی گھروں میں تبدیل ہو گئی۔

شیف فادی کتان سمیت بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ معمول کو مختلف اشکال جیسے سورج، ستارے کے ڈیزائن میں ڈھالنے کا رواج قدیم مذاہب سے آیا جو فطرت کی عبادت کرتے تھے تاہم عیسائی روایت کے مطابق کھجور سے بھرے معمول (جو گول ہوتے ہیں) حضرت عیسیٰ کے کانٹوں کے تاج کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ پستے بھرے معمول اس مقبرے سے مشابہت رکھتے ہیں جہاں حضرت عیسیٰ کو دفن کیا گیا۔

معمول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسلام میں معمول کے ڈیزائن کی کوئی خاص علامتی اہمیت نہیں لیکن بزبازت کے لیے پھر بھی یہ ڈیزائن بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں معمول بناتی ہوں تو انھیں دیکھ کر سوچتی ہوں کہ واہ میں ایک آرٹسٹ ہوں۔‘

جہاں بہت سے لوگ معمول گھر پر بناتے ہیں وہیں عید کے دنوں پر یہ بسکٹ بہت سی مٹھائی کی دکانوں پر بھی فی کلو دستیاب ہوتا ہے۔

فلسطین کے شہر رام اللہ کی ’ایفل سویٹس‘ کا شمار مٹھائی کی سب سے پرانی دکانوں میں ہوتا ہے اور بہت سے مقامی افراد یہاں سے مٹھائی خریدنے کی تجویز دیتے ہیں۔ ایک اور مشہور دکان ’عکر سویٹس‘ ہے، جس کی کئی برانچز ہیں۔

یروشلم میں سب سے پرانی دکان ’ذلاتیمو‘ ہے، جس کی بنیاد سنہ 1860 میں رکھی گئی اور اب اردن میں بھی اس کی برانچز ہیں اور ایمازون کے ذریعے یہ امریکہ میں بھی مٹھائی ڈیلیور کرتی ہے۔

تاہم اس خطے سے باہر رہنے والے افراد مشرق وسطیٰ کی مقامی بیکریوں سے معمول خرید سکتے ہیں یا گھر میں خود بنا سکتے ہیں۔

درحقیت بہت سے بیکرز، جیسے ’ایفل سویٹس‘ کے احمد شاقر کا ماننا ہے کہ گھر میں بنے معمول کی کوالٹی ہی الگ ہے اور اس کا دکانوں پر بننے والے ان بسکٹس سے کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک روایت ہے جو فلسطینی خاندانوں میں ملتی ہے۔‘

احمد شاقر بتاتے ہیں کہ بچپن میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ معمول کے ٹرے اٹھا کر قریبی بیکری ’فرن العربی‘ جایا کرتے تھے اور وہاں بنے لکڑی کے چولہوں میں اسے بیک کرتے تھے۔ ’میں گھر پہنچنے سے پہلے تازہ تازہ بنے دو چار معمول کھا جایا کرتا تھا۔ معمول سے جڑی یادیں انسان کے دماغ میں نقش ہو جاتی ہیں۔‘