لبنان: وہ ملک جہاں ہائیکنگ ’قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے‘ کو دکھانے کا ایک ذریعہ ہے

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دور درواز تک پھیلے ہوئے بیروت شہر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، ہماری بس پہاڑیوں کے درمیان لبنان کی ساحلی موٹروے پر رواں دواں تھی اور ہماری ایک جانب بحیرہ روم کا چمکتا ہوا نیلگوں پانی تھا اور دوسری جانب ہم سے فاصلے پر سبزے سے عاری اونچی اونچی چوٹیاں۔

پھر ہماری بس ساحل سے دور ہوتی ہوئی اندر کی جانب ملک کے شمالی ضلع کورا کے تنگ پہاڑی راستے پر مُڑی تو سڑک سے نیچے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہمیں گاؤں دکھائی دیئے جن کے گھروں کی چھتیں مخصوص سرخ رنگ کی اینٹوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

ہم جب زیتون اور پھلوں کے باغوں کے درمیان بل کھاتی سڑک پر مقامی پِیروں کے مزاروں کے پاس سے گزر رہے تھے، تو ہمارے گائیڈ مِشل موفارج نے ہمارے گروپ میں شامل ہم درجن بھر ہائیرکز کو ان مقامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا جو تاریخی اور معاشرتی اعتبار سے مشہور ہیں۔

موفارج کو نہ صرف لبنان کا چپہ چپہ ازبر ہے بلکہ وہ ملک کے ہر علاقے کی تاریخ بھی پوری طرح جانتے ہیں۔ راستے میں انھوں نے ہمیں جو مقامات دکھائے ان میں رومن دور کی ایک خانقاہ کے علاوہ ایک خوبصورت غار نما جگہ بھی شامل تھی جو ایک ایسی راہبہ کے نام سے منسوب ہے جو مردوں کا بھیس بدل کر اپنے والد کے ساتھ ایک خانقاہ میں رہتی تھی اور انھوں نے ہمیں ایک پہاڑ بھی دکھایا جسے کاٹ کر لبنان کی منافع بخش سیمنٹ کی صنعت میں جھونک دیا گیا ہے۔

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہم بشرّی کے دیودار کے قدیم جنگلوں سے بھی گزرے اور ارض نامی ایک گاؤں میں بھی رکے جہاں ہم ان مقامی خواتین سے ملے جو مناکیش پکا رہی تھیں۔

مناکیش یہاں کا مشہور کھانا ہے جو دراصل ایک نان ہوتا ہے جس پر پنیر، تھائیم (جنگلی پودینہ) اور زاعطار کے تل لگے ہوتے ہیں۔ اس سفر میں ہماری آخری منزل وہ مقام تھا جہاں سے آپ دہرِ القدیب کے پہاڑ پر چڑھا شروع کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ تین ہزار میٹر اونچا ہے جس کی چوٹی پر کوئی سبزہ نہیں۔

جوں جوں ہم چونے کے پتھروں والے اس ایستادہ پہاڑ کی چوٹی کی جانب محو سفر تھے تو ہمارے گروپ میں شامل کچھ ناتجربہ کار ہائیکرز کی سانس پھولنے لگ گئی لیکن موفارج مزے سے چلتے جا رہے تھے۔

لگتا تھا کہ لبنان میں ہائیکنگ کو فروغ دینے والے اس 77 سالہ رہنما کے لیے یہ کٹھن راستہ بھی مشکل نہ تھا اور وہ قدم جما جما کر چوٹی کی جانب گامزن تھے۔

موفارج پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں سے معذور ہیں، اس لیے ان کا پورا انحصار اسی پر ہے کہ وہ اپنے قدم جما جما کر چلیں اور ہر صورت اپنا توازن قائم رکھیں۔

جب ہم چوٹی پر پہنچے تو ہمیں ٹریکِنگ کے آغاز پر اپنے سروں پر جو دھند دکھائی دے رہی تھی وہ ختم ہو چکی تھی اور چوٹی پر کھڑے ہو کر حد نگاہ تک ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ہمارے سامنے وادی بقا اپنے تمام تر حسن کے ساتھ موجود تھی اور ہم اس خوبصورت وادی کے میدانوں اور جھیلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

موفارج سے پوچھیں کہ لبنان میں ہائیکِنگ کے لیے ان کا پسندیدہ مقام کون سا ہے تو وہ کچھ نہیں بتاتے، لیکن جب بات اِس ٹریک کی ہوتی ہے تو ان کی باتوں میں بھی ایک خاص عقیدت جھلکنے لگتی ہے۔

’دیودار کے درختوں سے اوپر پہاڑوں کی جو بلند ترین زنجیر ہے، یہ میرے لیے بہت خاص چیز ہے، اس کی ہوا کی تازگی، یہاں کی مٹی کا رنگ اور آپ کے سامنے دور دور تک پھیلی ہوئی وادی۔ یہ بہت ہی زبردست مقام ہے۔‘

لبنان

،تصویر کا ذریعہAbby Sewell

تقریباً 25 برس پہلے لبنان میں ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پہلی کمپنی بنانے کے بعد سے اب تک موفارج ہائیکنگ کے شوقین بہت سے لوگوں کو ملک کے مختلف پہاڑی راستوں پر لے جاتے رہے ہیں۔’لبان ٹریک‘ کے نام سے یہ کمپنی انھوں نے 1997 میں قائم کی تھی۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی لبنان میں کئی لوگوں نے اپنے طور پر ہائیکنگ گروپ بنا رکھے تھے لیکن سنہ 1975 تا 1990 کے 15 برس کی خانہ جنگی کی وجہ سے لوگ آزادانہ گھوم پھر نہیں سکے جس کے بعد بہت سے ہائیکرز اس تلاش میں رہے کہ انھیں کوئی ایسا تجربہ کار گائیڈ مل جائے جو انھیں ملک کے گم کشتہ پہاڑی راستوں کے بارے میں بتا سکے اور یہ بھی بتا سکے کہ کن راستوں پر ابھی تک ایسی بارودی سرنگیں زمین میں پڑی ہوئی جو پھٹی نہیں ہیں۔

لبان ٹریک کی بنیاد رکھنے کے آٹھ برس بعد موفارج نے لبنان ماؤنٹین ٹریل (ایل ایم ٹی) بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

یہ ہائیکِنگ ٹریل 470 کلومیٹر طویل وہ پہاڑی راستہ ہے جو ملک کے شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے اور اس راستے پر 75 قصبے واقع ہیں جہاں مختلف مذاہب اور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔

یہ ٹریل امریکہ کی مشہور ہائیکِنگ ٹریل ایپالاچیئن ٹریل سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ’لبنان کے پہاڑوں کے قدرتی حسن اور اس کے ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا‘ اور یہ بھی سچ ہے کہ اس راستے کے منظر عام پر آنے سے بحیرۂ روم کے اس چھوٹے سے ملک کو ٹریکِنگ کے بین الاقوامی نقشے پر لانے میں خاصی مدد ملی ہے۔

لبنان کے مختلف علاقوں میں واقع وادیوں اور پہاڑوں کے بارے میں اپنی معلومات کے خزانے اور لبنانی فوج کے قدیم نقشوں کو استعمال کر کے، موفارج نے اس نئے راستے کی نشاندہی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

جب سنہ 2007 میں اس پہاڑی راستے کا باقاعدہ افتتاح ہوا تو موفارج ایل ایم ٹی ایسوسی ایشن کے پہلے صدر بن گئے اور اب اپنی کمپنی لبان ٹریک اور ایل ایم ٹی کی وساطت سے موفارج لبنان میں قومی سطح پر ہائیکنگ کو رواج دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد ہائیکِنگ کے شوقین لبنانی اور غیر ملکی لوگوں کو اپنے ملک کے متنوع علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایل ایم ٹی کے موجودہ صدر، عمر سکر کہتے ہیں کہ ’موفارج کی خاص یہ ہے کہ انھوں نے ہائیکِنگ کو مقامی آبادیوں سے جوڑ دیا۔ دراصل یہ موفارج ہی کا خیال تھا کہ ان راستوں پر ایسے مہمان خانوں کی نشاندہی کی جائے جہاں مسافر رات گزار سکیں۔ یہ چیز اس سے پہلے لبنان میں عام نہیں تھی۔‘

موفارج کی مہمات میں آج سے تقریباً 20 برس پہلے شامل ہونے والے رفیق سلیبا کا بچپن ملک کے مشرق میں واقع ماتن کے مسیحی علاقے میں گزرا ہے۔

ان کے گاؤں میں رات کے کھانے کے ساتھ لوگ اکثر شراب کا گلاس یا سونف سے کشید کیا ہوا مشروب پیتے تھے جسے تِرک کہتے ہیں لیکن جب وہ لبان ٹریک سے منسلک ہوئے اور انھیں شمالی ضلع اکّار کی ڈرامائی پہاڑی چوٹیوں سے عشق ہو گیا اور انھوں نے راستے میں واقع ان دیہات میں قیام کرنا شروع کیا جو سُنی اکثریتی تھے اور وہاں شراب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ اچھے کھانے کے بعد چائے یا کافی کی پیالی کے ساتھ بھی لوگوں سے گھنٹوں گپ شپ کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ مخلتف قسم کے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ کو خود ان لوگوں کا تجربہ ہو جاتا ہے، پھر آپ دوسرے لوگوں کی نہیں سنتے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔‘

کہنے کو لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس میں بہت تنوع ہے۔ ملک کی آبادی میں سُنی اور شیعہ مسلمانوں اور مسیحیوں کا تناسب تقریباً برابر ہے اور سرکاری سطح پر ملک کے 18 مخلتف مذاہب یا فرقوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

لبنان

،تصویر کا ذریعہAbby Sewell

ملک کی خونریز خانہ جنگی میں فرقہ وارانہ لڑائیوں کا بہت ہاتھ تھا، اور آج خانہ جنگی ختم ہوئے 30 برس سے زیادہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تقسیم اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

اس حوالے سے لبان ٹریک کے گروپ میں شامل ہائیکر، جولی رزک بتاتی ہیں کہ وہ جب چھوٹی تھیں تو وہ اپنے مشرقی بیروت کے محلے تک محدود ہو کے رہ گئی تھیں۔

’جنگ ہو رہی تھی اور ہم مغربی بیروت تک بھی نہیں جا سکتے تھے‘ لیکن اب وہ ہر ہفتے جب موفارج کے گروپ کے ساتھ ہائیکِنگ پر جاتی ہیں تو خود کو ان دور دراز علاقوں میں پہاڑیوں کے دامن میں بیٹھے، مقامی لوگوں سے گپ شپ کرتے ہوئے پاتی ہیں جو ایک وقت میں ان کے لیے ممنوعہ ہو چکے تھے۔

رِزک کہتی ہیں کہ اس چیز نے اپنے ملک کے لیے ان کے دل میں ایک نئی محبت پیدا کر دی ہے۔

’مجھے ہمیشہ افسوس ہوتا تھا کہ میں لبنان میں پیدا ہوئی ہوں۔ آپ تو جانتے ہیں ہمارے ہاں جنگ ہوتی رہی ہے اور ہم مشکلات میں رہے ہیں اور میں جب بھی سفر سے لبنان واپس آتی تھی تو مجھے بہت دکھ ہوتا تھا لیکن اب میں بہت خوش ہوں کہ میں پیدائشی طور پر لبنانی ہوں اور یہ سب کچھ ہائیکِنگ کے طفیل ہوا ہے۔‘

جہاں تک ہائیکِنگ سے موفارج کے اپنے شدید لگاؤ کا تعلق ہے، اس کا آغاز تبھی ہو گیا تھا جب وہ نوعمر تھے۔ ان دنوں موفارج کا خاندان موسم گرما لبنان کے شمالی پہاڑی علاقے میں واقع اہدن اور حسرون کے دیہات میں گزارتا تھا۔

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مجھے بچپن سے ہی یہ چوٹیاں اور اونچے پہاڑ پسند تھے، حتیٰ کہ اس وقت تک میں ان پہاڑوں پر چڑھنے کے قابل بھی نہیں ہوا تھا۔‘

موفارج نے ہائیکِنگ کا باقاعدہ آغاز ایک کلب کے ساتھ سنہ 1970 کے عشرے کے شروع میں کیا تھا اور پھر جب سنہ 1975 میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو اس دوران بھی اس کلب کے جوشیلے ارکان نے اپنا شوق نہیں چھوڑا۔

’جنگ کے دنوں میں ہم جہاں تک جا سکتے تھے، وہاں تک جاتے تھے۔ دن کے وقت ہم اوپر پہاڑوں کی جانب چلے جاتے اور شام کو لوٹ آتے۔ ان دنوں بیروت میں اتنی زیادہ بمباری اور دھماکے ہوتے تھے کہ ہم نے پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی۔ اس چیز نے ہمارا جذبہ جوان رکھا اور ہم نے کبھی بھی ہائیکِنگ نہیں چھوڑی۔‘

اور پھر جنگ ختم ہونے کے سات سال بعد سنہ 1997 میں موفارج نے انشورینس کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر تمام وقت ہائیکِنگ کو دینا شروع کر دیا۔

’آخر کار میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اب تک میں ہائیکِنگ کو اتنا زیادہ وقت دے چکا ہوں کہ میں اپنی عام سی ملازمت چھوڑ دوں اور لبان ٹریک کا آغاز کروں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی کے ہفتہ وار ہائیکِنگ کے پروگرام مقبول ہوتے گئے جس کی وجوہات معاشرتی بھی تھیں اور عملی بھی۔

ایل ایم ٹی کے قیام سے پہلے پہاڑی راستوں کی کوئی باقاعدہ نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ موفارج اور ان کے ساتھی نہ صرف نئے ہائیکرز کی رہنمائی کرتے بلکہ انھیں ان پہاڑی راستوں کے ارد گرد موجود بارودی سرنگوں سے بھی محفوظ رکھتے۔

ایک بارودی سرنگ سے اپنے دوست کے بال بال بچنے کے کچھ ہی عرصہ بعد نوربت شِلر نے بھی لبان ٹریک کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔

اگرچہ سوشل میڈیا کے استعمال کو سمجھنے والے لوگوں نے نت نئے ہائیکِنگ گروپ بنا لیے ہیں لیکن نوربت شلر کہتے ہیں کہ ’میری طرح کئی لوگ موفارج کے پکے گاہک ہیں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہائیکِنگ پر کیوں نہیں جاتے تو میں کہتا ہوں کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ میں محسوس کرتا ہوں جیسے میں موفارج کا قرض دار ہوں۔‘

شلر بتاتے ہیں کہ لبنان کے مختلف پہاڑی راستوں کے متاثر کن علم کے علاوہ، موفارج کو یہ ملکہ بھی حاصل ہے کہ وہ راہ چلتے لوگوں سے بات کر لیتے ہیں اور ان سے تعلق بنا لیتے ہیں۔

کچھ گائیڈ ایسے ہیں جو صرف اپنے مذہب یا فرقے کے علاقوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں لیکن موفارج لبنان کو ایک اکائی کی صورت میں دیکھتے ہیں اور وہ کسی بھی جگہ مقامی لوگوں سے بات کرتے ہوئے ڈرتے نہیں۔

لبنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’جب کوئی گڈریا، کوئی جنگجو یا اقوام متحدہ کا کارکن دکھائی دیتا ہے تو موفارج پہلے شخص ہوتے ہیں جو اس کے پاس جا کر اپنا تعارف کراتے ہیں۔ میں پہاڑوں میں خود کو ان کے ساتھ بہت محفوظ محسوس کرتا ہوں۔ انھیں ہر چیز اور ہر شخص کا پتا ہوتا ہے۔‘

جب میں نے موفارج سے پوچھا کہ غیر ملکی ہائیکرز کو لبنان کیوں آنا چاہیے تو انھوں نے مجھے وجوہات کی ایک لمبی فہرست سنا دی۔

ایک چھوٹے سے جغرافیائی علاقے میں مختلف انواع کی زمین اور سبزہ، تاریخی مقامات، یہاں کے پکوان، لبنانی لوگوں کی مہمان نوازی اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ۔

’لبنان ہائیکِنگ کے لیے بہت اچھا ملک ہے بلکہ میں کہوں گا ایک شاندار مقام ہے۔ اور میرا اپنا ہدف یہ ہے کہ میں اسے پوری دنیا میں متعارف کراؤں گا۔‘