گوا: دوپہر میں کام نہیں صرف آرام، گوا کے لوگوں کی خوشی کا پرانا راز

گووا

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

    • مصنف, چاروکیسی رامودرائی
    • عہدہ, صحافی

میں ایک گرم سہ پہر میں پناجی کی مقامی مارکیٹ میں گھوم رہی تھی۔ میں نے اس سڑک پر تمام دکانوں کے شٹر گرے ہوئے دیکھے۔

میں وہاں جوتوں کے ایک نئے جوڑے کی تلاش میں تھی تاکہ اپنے پرانے جوتے تبدیل کر سکوں جنھوں نے برسوں تک گوا جیسے شہروں کے بازاروں میں گھومتے پھرتے میرا ساتھ دیا۔

میں نے جب اپنے دوست کو فون کر کے اس سے دکان کے کھلنے کا ٹائم پوچھا تو اس نے کہا ’اب تمھیں شام تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘

مجھے پتا چلا کہ گوا میں دوپہر ایک بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک کوئی دکان کھلی نہیں ہوتی۔ مغربی انڈیا کی اس ساحلی ریاست میں دوپہر کے کھانے کے وقت یہ وقفہ ہو جاتا ہے جسے ’سوسیگاڈ‘ کہا جاتا ہے اور اس دوران لوگ باہر کی گرمی سے خود کو محفوظ کر لیتے ہیں۔

سوسیگاڈ لفظ پرتگالی زبان کے لفظ سوسیگاڈو سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ہے ’خاموشی۔‘

گوا میں اس لفظ کا مقصود مقامی لوگوں کا سہل پسند اور بے فکر طرزِ زندگی ہے جو اس شہر میں بسنے والے لوگوں کی ہر حال میں خوش رہنے والی کیفیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

جنوبی انڈین ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو کے رہائشی پیری گوز کا تعلق گوا سے ہے۔ اُن کے مطابق ’سیئستا کی طرح سوسیگاڈ بھی اس بنیادی احساس سے نکلا ہے کہ آپ زندگی میں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے نہیں لڑ سکتے، جیسا کہ موسمِ گرما کے دن کی تپتی دھوپ۔ بہتر ہے کہ آپ سب کام بند کریں اور چھاؤں میں وقت گزاریں۔ ورنہ آپ گرمی کی سکون بخش شام کا مزا نہیں لے سکتے۔‘

گووا میں رہنے والے مقامی لوگوں کی طرح گوز نے بھی ہسپانوی زبان کا لفظ سیئستا استعمال کیا نہ کہ پرتگالی زبان کا سیستا۔ سیئستا یا سیستا دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کرنے کے عمل کو کہا جاتا ہے، جسے پاکستان اور انڈیا میں قیلولہ بھی کہتے ہیں۔

لیکن سوسیگاڈ کے معنی دوپہر میں سونے یا آرام کرنے تک محدود نہیں ہیں۔

شیکھر ویدیا ایک مارکیٹنگ ایگزیکیٹو کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ان کی پیدائش اور پرورش گوا میں ہوئی اور زندگی کا زیادہ عرصہ بھی انھوں نے اسی شہر میں گزارا۔ وہ کہتے ہیں کہ سوسیگاڈ کا مطلب ہے کہ ’آپ زندگی دھیمی رفتار سے بسر کریں۔ ہر کام میں اپنا وقت لیں۔ آخر ہمیں کس بات کی جلدی ہے؟‘

شیکھر کی طرح صحافی جوانا لوبو بھی گوا میں پلی بڑھیں۔ وہ اب ممبئی میں رہتی ہیں اور سوسیگاڈ سے ان کی کئی یادیں وابستہ ہیں۔ ’اتوار کا دن فیملی کے ساتھ سکون سے گزارتے اور دوپہر چاول، سبزی اور مچھلی کھانے کے بعد گاؤں میں ہونے والی چیزوں کے بارے میں گپ شپ کرتے یا پھر کارڈ گیمز کھیلتے۔ یہ ایک پرسکون احساس ہے، اپنی زندگی سے خوش ہونے، پیار محسوس کرنے کی کیفیت ہے۔‘

چاہے وہ یہاں سے چلے جانے والے لوگ ہوں یا پھر ابھی بھی یہاں رہتے ہوں، جب میں نے گوا سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات کی تو ہر حال میں خوش رہنا، جسمانی خاموشی اور ذہنی سکون وہ چیزیں تھیں جن کا انھوں نے ذکر کیا۔

انڈیا کے دوسرے شہروں میں آپ کو گاڑیوں کے ہارن اور گرما گرم بحثوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن گوا میں آپ کو مقامی چرچ کی وقت بتانے والی گھنٹی کی آواز اور سائیکل میں لگی دھیمی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔

گووا

،تصویر کا ذریعہAlamy

سوسیگاڈ کے معنی سستی کے یا کام میں عدم دلچسپیی کے ہرگز نہیں ہیں۔ لوبو کہتی ہیں ’گوا سے باہر رہنے والے یا بوموئکر (گوا کے ممبئی میں رہنے والے لوگوں کو بوموئکر کہا جاتا ہے) شخص کی حیثیت سے میری سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ اس لفظ کے توڑ مروڑ کر یہ معنی نکالے جاتے ہیں کہ گوا کے لوگ سست اور بے پرواہ ہیں۔ یہ غلط ہے، ہم بہت محنت سے کام کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم زندگی کا مزہ بھی لینا چاہتے ہیں۔‘

پیری گوز کے اپنے خاندان میں پیدا ہونے والی ایک صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے بھی ایسے ہی تاثرات تھے جب وہ بے یار و مددگار محسوس کر رہے تھے۔

’کبھی کبھی میری روح کے لیے اچھا کام صرف ایک ٹھنڈی بیئر پینا اور ایک اچھا سیئستا لینا ہوتا ہے۔ یہ سستی یا کاہلی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کس چیز سے الجھا جائے اور کسے چھوڑ دیا جائے، اس کا مطلب ان دونوں چیزوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کی صلاحیت ہے۔‘

چاہے پنجابیوں کو شور شرابا کرنے والی قوم سمجھا جائے یا بنگالیوں کو غل غپاڑہ کرنے والی، انڈیا میں مختلف علاقوں اور برادریوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات ہر جگہ موجود ہیں۔ ہر برادری دوسری کو کچھ شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور خود کو نہایت برتر سمجھتی ہے لیکن گوا کے بارے میں سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے ہی حساب سے چلتے ہیں۔

انڈیا کی سب سے کم آبادی والی ریاستوں میں سے ایک ریاست گوا (15 لاکھ سے کچھ زیادہ آبادی) میں ایسا نہیں۔ یہاں پر سب لوگ انڈین ہندو اور پرتگالی، کیتھولک مسیحی اثرات سے بھرپور ایک منفرد و خوشگوار ثقافت میں جیتے ہیں۔

پرتگالی پہلی بار سنہ 1510 میں گووا آئے۔ ان کے آنے کی وجوہات بہت ساری تھیں لیکن ایک اہم مقصد یہاں سے کالی مرچ اور سبز الائچی جیسے قیمتی مصالحہ جات اپنے ساتھ واپس لے کر جانا اور مسیحی مذہب کو پھیلانا تھا۔

گووا

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

،تصویر کا کیپشنگووا میں پرتگالی طرزِ تعمیر جابجا نظر آتا ہے

لیکن جب پرتگالیوں کو گوا کے دلکش ساحل سمندر اور ہرے بھرے جنگلات پسند آئے تو انھوں نے یہاں پر بسنے کا فیصلہ کیا۔ گوا میں بندرگاہ بھی تھی جو کہ تجارت کے لیے موزوں تھی۔ یہی وجوہات ہیں کہ پرتگالی یہاں ساڑھے چار سو سال سے زیادہ عرصہ رہے۔

بالآخر 1961 میں برطانوی راج سے آزادی کے 14 برس بعد گوا کو پرتگال سے آزادی ملی۔ چنانچہ گووا میں رہنے والے مقامی لوگوں کو انڈیا کے بارے میں اس طرح گفتگو کرتے سننا عام ہے جیسے کہ یہ ایک الگ ملک ہو، جس کے ساتھ اُن کا کچھ زیادہ مشترک نہیں۔

اور سوسیگاڈ اس سرزمین پر اسی پرتگالی دور کی باقیات میں سے ایک ہے جو بحیرہ روم کے خطے کی خاصیت ہے۔

گوا میں پچھلی نسلوں کے کئی لوگوں کے پاس ابھی بھی پرتگالی پاسپورٹ ہیں اور ان کے پرتگال میں مکان بھی ہیں۔

پورے گووا میں پرتگالی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے جبکہ سوسیگاڈ، مسیحی مذہب، کھانا، موسیقی، رقص، فنون اور طرزِ تعمیر پرتگالی حکمرانی کی ترجمانی کرتے ہیں۔

یہاں پر سیاحوں کو پکوانوں میں پرتگالی ڈشوں اور ساحلی اجزا جیسا کہ ناریل اور کالی مرچ کا امتزاج ملتا ہے۔ یہاں تک کہ گوا میں ہر جگہ ملنے والی ملائم ڈبل روٹی ’پاؤ‘ بھی پرتگال سے ہی یہاں آئی ہے۔

اگر آپ پناجی کے فونٹیناس علاقے میں گھوم رہے ہیں، جسے گوا کا لاطینی حصہ بھی کہا جاتا ہے، تو وہاں آپ کو گرجا گھروں سے لے کر کوٹھیوں تک پرتگالی طرز کی تعمیرات نظر آئیں گی۔

گووا

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

بہت سے مقامی لوگوں نے پرانی پرتگالی کوٹھیوں کی بحالی کا کام بھی شروع کر رکھا ہے تاکہ پرتگالی فنون اور طرزِ تعمیر کو برقرار رکھا جا سکے۔ سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے اب پیلیسیو دی ڈاؤ اور فگیریڈو ہاؤس بھی کھول دیے گئے ہیں۔

شیکھر ویدیا بتاتے ہیں کہ گوا اور پرتگال میں اب بھی قربت موجود ہے۔ ’برطانیہ نے جیسے انڈیا کے وسائل کا استحصال کیا اس کے برعکس پرتگال نے گوا کو صرف پیسہ کمانے کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ گووا کو پرتگال کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے گوا کے لوگ پرتگالیوں کو اپنا سمجھتے ہیں نہ کہ غیر۔‘

تو پھر مجھے حیرت ہونے لگی کہ کیا سوسیگاڈ صرف گووا کے کیتھولک لوگوں تک ہی محدود ہے جن میں پرتگالی ثقافتی اثرات زیادہ گہرے ہیں؟

یہاں کے مقامی لوگ پرتگالی یسوعی پادریوں کی کوششوں سے مسیحی ہوئے تھے۔ مجھے پتا ہے کہ گوا کی صرف 25 فیصد آبادی کیتھولک ہے جبکہ اکثریت یعنی 66 فیصد ہندو ہیں، اس لیے شاید صرف وہی لوگ سوسیگاڈ رویہ رکھتے ہوں جو کیتھولک ہوئے تھے۔

لیکن میں نے جتنے بھی لوگوں سے بات کی، اُن کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں اور یہ کہ کوئی بھی شخص جو گوا میں صرف دو سال کے عرصے کے لیے ہی کیوں نہ رکا ہو، وہ سوسیگاڈ اپنا لیتا ہے۔

مزید پڑھیے

انورادھا گویل ایک بلاگر ہیں جو نئی دہلی اور بینگلورو میں کام کرنے کے بعد پانچ برس قبل گوا منتقل ہوئیں۔

انھوں نے بتایا کہ سوسیگاڈ کو لوگ اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسا کہ گوا کہ ساحل سمندر کو یا اس کے سورج کو۔

وہ بتاتی ہیں کہ پانچ سال پہلے جب سے وہ یہاں منتقل ہوئی ہیں ان کا روز مرہ کا معمول مقامی لوگوں کی طرح دھیما اور آسان ہو گیا۔

جب میں نے گوا سے سوسیگاڈ کے منفرد رشتے کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنی چاہیں تو مجھے اندازہ ہوا کہ مضبوط شہری تعلقات نے بظاہر اس تصور کو تقویت دی ہے۔

اس کی شروعات گوا میں سیئستا سے ہوئی، جو ایک روایتی زرعی معاشرے میں ایک ضرورت تھا جب لوگ سویرے اٹھ کر کھیتوں میں کام کرنے نکل پڑتے یا پھر مچھلی پکڑ کر اسے بازار میں بیچنے جاتے۔

گووا

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

کام کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے ضرورت پڑنے پر آرام کرنا بھی ضروری سمجھا۔ یہ ایک ایسا توازن ہے جس سے آپ خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ چنانچہ اسی طرح سیئستا سے سوسیگاڈ کی طرف منتقل ہونے کا عمل گووا کی زندگی میں ایک قدرتی ارتقا تھا۔

پیری گوز کہتے ہیں کہ گووا ہمیشہ سے قدرتی خوشحالی اور فراوانی سے مالا مال رہا ہے اور یہ چیز آپ کو لوگوں کے زندگی سے مطمئن رویے سے پتا چلتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گوا میں رہنے والی برادریوں کے آپس میں تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ چاہے وہ ایک ساتھ کاشتکاری کرنا ہو، اجتماعی طور پر گھروں کی چھت لگانا ہو یا پھر دیواروں پر رنگ کرنا ہو۔‘

ان کے اور گوا میں رہنے والے دوسرے لوگوں کے نزدیک شہروں اور دیہات کی سرحدیں صرف ’تصوراتی‘ ہیں۔

یہاں کے لوگوں میں مساواتی سوچ بہت مضبوط اور گہری ہے اور پیری کے نزدیک ’اپنے پڑوسی سے آگے نکلنے کا کوئی تناؤ موجود نہیں۔‘

اور یہ ایسی سوچ ہے جو کہ طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے جب گوا انڈیا سے جغرافیائی طور پر نہیں بلکہ سماجی طور پر الگ تھلگ تھا۔

اُس دور میں پورے انڈیا میں برطانوی راج تھا اور گووا میں پرتگالی حکومت تھی۔ ایسے میں لوگوں میں سماجی حیثیت یا مذہب سے قطع نظر اتحاد ضروری تھا۔

جیسا کہ انورادھا گویل کہتی ہیں ’جب آپ گوا میں نئے ہوتے ہیں تو سوسیگاڈ کے طرزِ زندگی کی عادت پڑنے میں وقت لگتا ہے۔لیکن جب آپ اس سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں تو پھر آپ اسے پسند کرنے لگتے ہیں اور آپ کی روز مرّہ زندگی کی رفتار اسی سے منسلک ہو جاتی ہے۔‘