دنیا کی مختلف ثقافتیں ہمیں بوریت کے بارے میں کیا سکھاتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ویلیئم پارک
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
ایک درجن کے قریب نوجوان انتظار کر رہے ہیں، کچھ تاش کھیل رہے ہیں اور کچھ آگ کے گرد بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں سے افریقی ملک نیجر کی کسی بھی گلی کے کنارے یہی منظر ہے۔
ایک شخص چائے بنا رہا ہے۔ وہ اپنے گروہ کے لیے گرین ٹی یعنی سبز چائے کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے یہ سب یہاں جمع ہوئے ہیں۔
یہ لڑکے اکثر اپنے گروہ کو کوئی نام دے دیتے ہیں۔ اور پھر اس نام کو دیواروں پر لکھ بھی دیتے ہیں۔ جو نام وہ اپنے گروہ کو دیتے ہیں وہ اکثر ان لڑکوں کی امیدوں اور عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ نام ’منی کیش‘، ’لونے دی مئیل‘ یعنی ہنی مون، یا ’بروکلن بوائز‘ جیسے ہوتے ہیں۔ کوئی نام رکھتا ہے ’ٹاپ سٹار بوائز‘ یا جو زیادہ دیندار ہوتے ہیں وہ خود کو ’ایمانی‘ کہتے ہیں۔ کچھ ’باس کراٹے‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔
1990 کی دہائی میں ایسے ہی کالج کے طلبہ گلیوں میں احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے تھے۔ جلد ہی یہ گروہ خبریں پہنچانے، خیالات کے اظہار اور دوستیاں بنانے کے لیے اہم ہونے لگے۔
چائے بنانا ایک قدرتی روایت تھی۔ سیاسی مقاصد تو ختم ہوگئے مگر رفتہ رفتہ یہ ایک خاموش احتجاج بن گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک کی معاشی مشکلات سے بوریت کا شکار ہیں۔ گلیوں میں چائے کی کیتلی کے گرد جمع ہونا اس ملک کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ چائے کے بننے اور اپنا مستقبل سنورنے کا انتظار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ٹولین یونیورسٹی میں ثقافتی اینتھروپولوجی کی پروفیسر ایڈلین مسکیوئلر کہتی ہیں کہ ’نیجر کے نوجوان ایک جملہ کہا کرتے ہیں۔۔۔ ’بیٹھنا پتلون کا قتل ہے‘۔ یہ اس غیر یقینی کی عکاسی ہے جو انسان اس وقت محسوس کرتا ہے جب آپ کا مستقبل رُکا ہوا ہو۔ ان کی زبان ہوسا میں محاوروں کا استعمال بہت زیادہ ہے۔
قتل سے یہاں مراد گِھس جانا ہے۔ اس کا مطلب یہاں یہ ہے کہ جاگنے کے وقت میں بیٹھے رہنے سے پتلون گِھس چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
ان لڑکوں کے عزائم بہت سادہ ہیں، نوکری، شادی، گھر بنانا۔ ایک کریں گے تو دوسرا کام ہوگا۔ بغیر نوکری کے شادی تو مشکل ہے۔ جب نوکریاں ہیں ہی نہیں تو انتظار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
یہ نوجوان ابھی ذمہ داریوں کی عمر کو نہیں پہنچے۔ بلکہ اس وقت بوریت کا شکار ہیں اور ایک غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنا وقت چائے کی نظر کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ہم بور کیوں ہوتے ہیں؟
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر لیسا فلڈمن اپنی کتاب ’جذبات کیسے بنتے ہیں‘ میں کہتی ہیں کہ سب کے جذبات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کوئی ایسا خوشی یا خوف کا احساس نہیں ہے جو تمام کائنات پر لاگو ہوتا ہو۔
وہ کہتی ہیں ہم کیسا محسوس کرتے ہیں اس میں ہمارے معاشی اور ثقافتی سیاق و سباق کا گہرا تعلق ہے۔ اور کبھی کبھار تو اس میں ہمارے الفاظ کا بھی اثر پڑتا ہے۔
زبانوں میں تھوڑا سا فرق ہمارے جذبات بنانے میں اثر ڈالتا ہے۔ فرانسیسی زبان میں بوریت کے لیے استعمال ہونے والے لفظ کا مطلب تخلیقی صلاحیت کا کم ہوجانا ہے جبکہ جرمن میں اس کا مطلب ہے طویل وقت۔
روسی زبان میں بوریت کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب وہ آواز ہے جو مرغی بار بار نکالتی رہتی ہے اور جس کا مطلب ہے وقت کا ضیاع۔ لوگ اپنے ارد گرد کی چیزوں کی مدد سے الفاظ زبان میں لاتے ہیں۔
انگریزی میں لفظ بورڈم کا استعمال 19ویں صدی کے آغاز میں ہوا۔ اور مؤرخین کہتے ہیں کہ اس سے قبل یہ ہوتی ہی نہیں تھی۔ یعنی کم از کم جس انداز میں ہم اس لفظ کو لیتے ہیں اس انداز میں نہیں۔
’بور ہونے‘ کے لیے آپ کے پاس بور ہونے کی وجہ ہونا ضروری تھی اور وقت کا احساس ہونا ضروری تھا۔ مزدوروں کے لیے تو یہ مسئلہ ہی نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس تو سارا وقت کام ہی کام ہوتا تھا۔ اور وقت کی قید کے بارے میں کوئی سخت بندش بھی نہیں تھی۔ کہا جاتا تھا کہ کوئی کام دن کے وقت کرنا بہتر ہے، اس سے زیادہ وقت کی قید نہیں تھی۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں اینتھرپولوجی کی پروفیسر یاسمین مشارباش کہتی ہیں کہ بوریت کا احساس ایک مغربی احساس ہے۔
سکالرز کا کہنا ہے کہ جدید دور کی طرز کی بوریت کا احساس انڈسٹریئل ریولوشن (صنعتی انقلاب) کے ساتھ آیا۔ اس میں گھڑی کی اہمیت بڑھی۔ سٹیم انجن کے آنے سے ٹرینوں کو وقت پر چلنا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ مقبول ہوئی تو یہ جاننا ضروری ہوگیا کہ کس وقت کہاں ہونا ہے۔ فیکٹریاں آئیں تو یہ جاننا پڑا کہ کس وقت کوئی کام پر آیا اور کس وقت کوئی گیا۔
جب وقت کا احساس مغربی معاشرے میں بڑھا تو فارغ وقت کا احساس بھی جنم لینے لگا۔ جلد ہی مغربی لوگ بور ہونے لگے اور بوریت لیے دوسرے ممالک میں جانے لگے۔
بوریت کا علاج
یاسمین مشارباش 1994 سے آسٹریلیا میں شمالی علاقات میں مقامی قبیلوں وارلپیری سے ملنے جاتی ہیں اور ان پر تحقیق کرتی ہیں۔ ہر سال وہ ان کے ساتھ اپنا وقت بڑھاتی جاتی ہیں۔ اور گذشتہ چند سالوں میں انھیں احساس ہوا ہے کہ اس قبیلے کے نوجوان کیسے بوریت محسوس کرنے لگے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’روایتی طور پر اور اس سے میری مراد نوآبادیاتی دور سے پہلے بوریت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوگی۔
’بوریت وہ احساس ہے جب آپ وقت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ پہلا ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ نوآبادیاتی کے بعد سکولوں کی گھنٹی سے لے کر دن کے اوقات تک، وقت ایک قید بن گیا ہے۔‘
وارلپیری قبیلے کے نوجوانوں کو وقت کے بارے میں سمجھا کر آپ نے ان کو پریشان کر دیا ہے اور اب ان میں سے بہت ساری یورپی آسٹریلوی اوقات اپنانے لگے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
اینتھروپالوجسٹ وکٹوریہ بربینک کہتی ہیں کہ یورپی آسٹریلوی اندازِ زندگی اور آسٹریلیا کے قدیم قبیلوں (ایب اوریجنل لوگوں) کا طرزِ زندگی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ یورپی آسٹریلوی اپنے بچوں کو سونے کے اوقات سیکھانے میں بہت وقت لگاتے ہیں جبکہ یہاں کے مقامی باشندے ایسا نہیں کرتے۔
’سونے کا وقت ہمیں کام کے وقت کے بارے میں سکھاتا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ کچھ چیزیں کرنے کا کوئی خاص وقت ہوتا ہے۔ یہ ایک مشکل سبق ہے۔ مگر یہ اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ وقت آپ کا باس ہے۔‘
مشارباش کہتی ہیں کہ ’مقامی آسٹریلوی لوگوں پر وقت نے ظلم کیا ہے۔ مگر بوریت سے بچنے کے لیے انھیں اس ظلم سے نکلنا پڑے گا۔
’اگر آپ صرف حال ہی میں رہیں تو پھر کوئی ظلم نہیں ہے، وقت بس شروع ہوتا ہے اور چلتا رہتا ہے۔ آپ سوتے ہیں، شکار کرنے جاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، آگ کے گرد بیٹھتے ہیں،اور کہانیاں سناتے ہیں۔
’آپ گہرے اور دلچسپ فلسفے بناتے ہیں اور یہ کرنے کے لیے آپ کے پاس بے حساب وقت ہے۔‘
آپ کی پاس وقت کی مانگ اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب آپ کو گھڑی کی پریشانی ہی نہ ہو۔
19ویں صدی کے یورپ کی طرح ہمیں یہ تو پتا نہیں کہ کیا ان لوگوں میں یہ احساس اس لفظ کی ایجاد سے پہلے تھا بھی یا نہیں۔ مگر مشارباش کہتی ہیں کہ بڑی عمر کا بوریت سے واسطہ کم ہی ہے، چاہے ان میں یہ احساس تھا یا نہیں۔
’ہر کوئی ایک وقت پر نہیں سوتا، آپ کو جب ضرورت ہے تو آپ سوتے ہیں، بھوک لگے تو کھا لیں، کوئی چیز آپ کو یہ نہیں بتاتی کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔ مغربی لوگوں کے لیے یہ سوچنا بڑا مشکل ہے۔‘
مستقبل کا راستہ
وہ فراغت جو مشارباش اور مسکیوئلر نے وارلپیری کی کمیونٹی اور نیجر کے لوگوں میں دیکھی اسے دیگر غیر مغربی ثقافتوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔
ہمیں ایک چیز متحد کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت گزارنے کے لیے ہم کون سے غیر صحت بخش راستے اپناتے ہیں۔ لوگ چاہیں کہیں سے بھی ہوں، جب وقت ان پر بھاری پڑ جائے تو وہ اسے گزارنے کے لیے کچھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ مشارباش کے مطابق یہ کام اصولی طور پر تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ جیسے لوگ ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں، ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں یا انھیں جوئے اور منشیات کی لت لگ جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
نیجر میں نوجوان لوگوں کو اکثر ’قوم کا مستقبل‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مسکیوئلر کے مطابق ’نیجر کے تعلیم یافتہ نوجوان خود کو بیروزگاری کا شکار سمجھتے ہیں، جبکہ (معاشرے میں) روایتی طور پر مرد باہر نکل کر پیسے کماتے ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ یہ اس لیے کیونکہ بہنوں سے زیادہ ان کی تعلیم کو فوقیت دی گئی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بیروزگاری کے ساتھ ان مردوں سے ایسے حالات میں رہنے کی امید کی جاتی ہے جن میں کوئی فارغ وقت نہیں چونکہ ان کا تو وقت ابھی شروع ہوا ہی نہیں۔‘
مسکیوئلر نے نیجر کے نوجوانوں کے انٹرویو کیے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے وقت میں اس قدر خلش ہے جسے ’بھرا جائے یا مار دیا جائے۔‘
ہوسا زبان میں بوریت کے لیے ’ہاشی‘ کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے مراد ’قلت‘ کے ہیں۔ ’ہاشی دا دی‘ کا مطلب ’اطمینان یا خوشی کی قلت۔‘ نیجر میں بوریت سے مراد کسی کمی کے ہیں۔
مشارباش کہتے ہیں کہ اگر وقت ضائع کرنا تباہ کن ہے تو اس کے اچھے استعمال کا مطلب موثر ہونا ہے۔ ان کے چائے کے وقت کا یہی مقصد ہوتا ہے۔
نیجر میں ایک نوجوان نے بتایا کہ ’چائے پینے کی عادت ہم میں وائرس کی طرح پھیلی ہے۔ چائے ہمارے لیے نشہ ہے۔‘
چائے کو نشہ کہنے والا یہ شخص دراصل بتانا چاہتا ہے کہ کیسے کسی لت جیسے منفی رویوں سے وقت ضائع ہوسکتا ہے، جیسے مشارباش نے بھی کہا۔ ان مردوں کے لیے چائے پینے کا مقصد اپنے وقت کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ چائے پینے سے ان کا وقت بے مقصد نہیں رہتا، اس سے ایک شخص لوگوں میں گھل مل سکتا ہے اور مثبت رویہ اپنا سکتا ہے۔
مسکیوئلر کہتی ہیں کہ چائے کا وقت نیجر کے مردوں کا ’حال‘ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ نوجوانوں میں وقت کی سست رفتار دو پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ ایک طرف انھیں مستقبل میں کسی ممکنہ کام کے لیے تیار رہنا ہے، اور اس کے لیے چائے تو ضروری ہے نا۔
دوسری طرف وہ تیز رفتار وقت میں خود کو مصروف کرسکتے ہیں۔ اس کا متبادل ہوگا کہ کپ میں ایک ٹی بیگ رکھیں اور اپنے لیے خود چائے کا بندوبست کر لیں۔ لیکن اس میں کیا لطف؟
وہ کہتی ہیں کہ تاش کھیلنے کے دوران چائے کا انتظار کرنا ’ان لوگوں کے لیے ایک بامقصد کام ہے جو حال میں جیتے ہیں اور بوریت کے بوجھ سے نجات چاہتے ہیں۔‘
اس سے انھیں اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے کوئی وجہ مل جاتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ روزگار کے طویل مدتی مقاصد کا پیچھا کریں۔
چائے پینے والے مرد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے مقاصد ہونا اچھا ہے لیکن بوریت سے نمٹنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ حال میں جیتے رہیں اور مستقبل قریب میں آنے والے کاموں کا لطف لیں۔











