کورونا وائرس دنیا کی ثقافتوں کے متعلق کیا بتاتا ہے؟

کورونا

،تصویر کا ذریعہPierre Suu

کہا جاتا ہے کہ انسان کا صحیح کردار کسی بحران کے دوران کھل کر سامنے آتا ہے۔ اگر کورونا وائرس کی وبا نے ہمیں ابھی تک کچھ سکھایا ہے تو یہی بات کسی ملک کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے، یعنی کسی ملک کا کردار بھی بحران کے دوران ہی کھل کر سامنے آتا ہے۔

جیسے جیسے دنیا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گھروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، اس دوران سامنے آنے والی سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کس طرح مختلف شہر اور ملک اس وبا کا سامنا کرنے کے لیے نت نئے تخلیقی، نرالے اور متاثر کُن طریقے استعمال کرتے ہوئے اپنا اپنا ’کوارنٹائن کلچر‘ (الگ تھلگ ہونے کی ثقافت) پیش کر رہے ہیں۔

اٹلی میں ’سیلف آئیسولیشن‘ یا خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے والے شہریوں کو ان کی بالکونیوں میں اوپیرا پرفارم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بیلجیئم کے مشہور ’فریٹیریز‘ ابھی بھی فرنچ فرائز بیچ رہے ہیں۔ اور سارے سکینڈینیویا میں کچھ لوگ ابھی بھی سائیکلوں پر کام پر جا رہے ہیں۔

کئی طریقوں سے یہ عالمی وبا یہ بھی بتا رہی ہے کہ مختلف اقوام کن معاملات کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں اور اس طرح اس دوران اس ملک کا کردار بھی سامنے آ جاتا ہے۔

اس سے ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کس طرح مختلف لوگ، ثقافتیں اور جگہیں دنیا کو اپنی اپنی خوبصورتی سے متنوع بناتی ہیں۔

کورونا بینر
لائن

ہم نے حال ہی میں اپنے کچھ نامہ نگاروں کو اپنے اپنے ممالک کا ’کوارنٹائن کلچر‘ کی تفصیل بیان کرنے کو کہا ہے جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

فرانس

کاسیا ڈیٹز

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرانس اپنی مشہور بیکریوں کے بغیر شاید کچھ بھی نہیں؟ اگرچہ بیرٹ (گول چپٹی ٹوپی) اب اتنا فیشن میں نہیں رہی، لیکن روایتی فرنچ ’بگیٹ‘ (فرانسیسی بریڈ) ہمیشہ مقبول رہے گا، یہاں تک کہ وبا کے دنوں میں بھی۔

اٹلی کے بعد فرانس نے بھی لاک ڈاؤن کے حوالے سے سخت اقدامات کیے ہیں جس کے تحت گھر سے باہر نکلنے والے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ انتظامیہ کو دستخط شدہ دستاویز دکھائے اور آگاہ کرے کہ وہ گھر سے باہر کیوں نکلا۔ فرانس میں تمام ’غیر ضروری‘ کاروبار بھی بند ہیں۔

سپر مارکیٹس اور دوائیوں کی دکانیں ضرورت کے اس وقت کھلی ہیں۔ فرانس کی وزارتِ صحت کی طرف سے جاری سرکاری حکم نامے میں 40 کاروباروں کو بھی بندش سے مثتثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ کاروبار ملک میں زندگی کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔

ان میں بیکریاں، قصاب کی دکانیں، پنیر اور وائن کی دکانیں اور گلی کوچوں میں قائم تمباکو کی دکانیں شامل ہیں۔

اب بھی ہر صبح پیرس سے لے کر پرونس تک تقریباً 33 ہزار کھلی ہوئی بیکریوں سے نکلنے والی بھینی بھینی خوشبو فرانس کی ویران گلیوں کو مہکا رہی ہے۔

میری رہائش کے نزدیک واقع مقامی پیسٹری کی دکان سے لوگ اپنے معمول کے مطابق ہر صبح ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے تازہ بگیٹ لے کر جاتے ہیں۔

فرانس کی ’نیشنل کنفیڈریشن آف فرنچ پیٹیسری اینڈ بیکریز‘ (سی این پی بی ایف) کے صدر ڈومینیک اینٹریکٹ کے مطابق ’بگیٹ‘ فرانسیسی ثقافت کا نشان ہے۔

وہ فرانسیسی ثقافت میں بیکریوں کا کردار بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بطور ایک چھوٹے بچے کے جس پہلی جگہ پر آپ اپنے بچپن میں بریڈ لینے جاتے ہیں وہ بیکری ہے۔ جبکہ بزرگوں کے لیے دن کے اوقات میں واحد انسانی رابطہ اکثر بیکرز ہی ہوتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وبا کے دوران بیکریوں کو کھلا رکھنے کا مقصد بالکل ٹھیک ہے۔ ’فرانسیسی لوگوں کو کھانا مہیا کرنا کے لیے بیکریاں ایک بنیادی ضرورت ہیں، خاص کر ان فرانسیسوں کے لیے جو سپر مارکیٹس کے نزدیک نہیں رہتے۔‘

پیرس میں وائن بھی اتنی ہی قابلِ قدر ہے جتنا کہ آج کل ہینڈ سینیٹائیزر۔

فرینچ وائن انسٹرکٹر تھیئری جیون کہتے ہیں کہ ’فرانسیسی وائن کے بغیر کسی اچھے کھانے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ بریڈ کے بغیر کھانا کھایا جائے۔‘

کچھ مقامی دکانوں نے کوارنٹین میں رہنے والوں کے لیے ایک درجن اور آدھا درجن بوتلوں کا پیک گھر پر پہنچانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

سماجی دوری کی پریکٹس کی وجہ سے اگرچہ ہماری بوسہ لینے کی عادت رک رہی ہے، لیکن کوئی بھی وبا ہم سے زندگی کا مزہ نہیں چھین سکتی۔

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

جرمنی

کرسٹین آرنیسن

جرمنی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برلن میں رات کے اوقات میں زندگی (نائٹ لائف) بالکل افسانوی ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے ’ٹریسر‘ اور ’برگھین‘ جیسے نائٹ کلبوں نے شائقین میں اپنا ایک مقام بنایا ہوا ہے۔ لیکن حال ہی میں جرمنی کی حکومت کی جانب سے دو سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ جمعہ کی رات (یا منگل، یا اتوار) کو پارٹی کہاں کریں۔ تو جواب ہے گھر پر۔

یہاں آتی ہے ’یونائیٹڈ وی سٹریم‘ (یو ڈبلیو ایس)۔

یہ برلن کلب کمیشن کا ایک حکومتی حمایت یافتہ اقدام ہے۔ برلن کلب کمیشن 245 کے قریب کلبوں اور کنسرٹ وینیوز کی ایک ایسوسی ایشن ہے۔

یو ڈبلیو ایس روزانہ کلبز کے فلورز سے ڈی جے سیٹس کے ذریعے ان لوگوں کے لیے میوزک لائیو سٹریم کرتی ہے جو گھروں میں بیٹھے ہیں۔ اگرچہ ہم عام طور پر کلبوں کے باہر رات دو بجے لائن بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہاں لائیو سٹریمز شام سات بجے سے آدھی رات تک ہوتی رہتی ہیں اور دیکھنے والوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ کوارنٹین کی وجہ سے متاثر ہونے والے کلبوں اور آرٹسٹوں کی مدد کریں۔

سنہ 1991 میں بننے والے ٹریزر کلب کے بانی دمیتری ہیجیمان کہتے ہیں ’یہ یو ڈبلیو ایس آن لائن پارٹی برلن کے کلبوں کے درمیان گہری یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہے اور اس بات کا بھی کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔‘

ہو سکتا ہے کہ اکثر لوگوں کو یہ غیر معمولی لگے لیکن برلن کی رہائشی کیئسا برجر کہتی یں کہ اپنے صوفے پر بیٹھے ہوئے، جبکہ آپ کا کتا بھی سات ہی اونگھ رہا ہوتا ہے، اپنے پسندیدہ ڈی جے کو سپن کرتے ہوئے دیکھنے کا مطلب ہے کہ دونوں دنیاؤں کا بہترین مزہ۔

’میں نے واقعی اپنی پارٹی کا مزہ لیا۔ بلکہ ایک موقع پر تو میں اپنے کمرے میں ڈانس کر رہی تھی۔‘ وہ کہتی ہیں کہ آدھی رات کو سٹریم بند ہو جاتی ہے اور آپ سونے کے لیے جا سکتے ہیں اور اگلے دن آپ تروتازہ اٹھتے ہیں، شام سات بجے اگلے ورچوئل کلب کے لیے تیار۔‘

ریکل فیداتو جو مشہور برلن پارٹی ’پورنسیپچوئل‘ کے روح رواں ہیں وہ یو ڈبلیو ایس کو کمیونٹی کے اکٹھے ہونے کے طریقے کے طور پر دیکھتی ہیں۔

انھوں نے اپنے پارٹنر کے ساتھ مل کر حال ہی میں متے کے ایک کلب ’آلٹے مِنزے‘ سے ایک سیٹ سٹریم لائن کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’اپنے ڈی جے فرینڈز کو دوبارہ پلے کرتا دیکھنے کا تجربہ بڑا روحانی تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ سکرین کے سامنے ڈانس کرنا ذرا عجیب لگا، لیکن میرے ذہن سے اس عجیب وقت کا دھیان نکل گیا جس سے ہم گزر رہے ہیں۔‘

چاہے یہ جتنا بھی عجیب وقت ہے لیکن برلن نائٹ لائف کی روح ابھی کہیں نہیں جا رہی، کم از کم اس وقت تک جب تک لوگ ورچوئل اکٹھے ہوتے رہیں۔ اور جب یہ وبا ختم ہو گئی تو؟ ہیجیمان کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں پتہ کہ زیادہ عرصے کے لیے کیا ہو گا۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ (کووڈ 19) کے بعد، لوگ اپنی اپنی زندگی دوبارہ شروع کریں گے اور پارٹی بند نہیں ہو گی۔‘

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

انڈیا

چاروکیسی رامادورائے

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گذشتہ ہفتے 21 دن کے لیے دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ مودی نے لوگوں کو کہا کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔

لوگ لاک ڈاؤن کی افادیت کو ابھی تک سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح اپنی ضروری اشیا کی خریداری اور ادویات کی ضرورت پوری کریں گے۔ لیکن غسل خانے میں رفع حاجت کے بعد پانی کا استعمال کرنے والی قوم کو ابھی تک ٹوائلٹ پیپرز کی ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں پڑی۔

مودی کے اعلان کے فورا بعد انڈیا کے سب سے مشہور جوڑے، انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی اور ان کی اہلیہ انوشکا شرما، نے ٹوئٹر پر اپنے 55 ملین فالوورز کو بتایا کہ ’جو (حکومت کی طرف سے) بتایا گیا ہے وہ کریں اور متحد رہیں۔‘

تاہم انڈیا کے باشندوں کے لیے اگلے تین ہفتوں میں سب سے مشکل چیز اس بات کو سیکھنا ہے کہ کس طرح مناسب فاصلہ اختیار کر کے کھڑا ہوا جائے۔

ہو سکتا ہے کہ ہم انڈیا والوں میں بہت سی دوسری خوبیاں ہوں لیکن قطار بنانا ان خوبیوں میں سے نہیں ہے۔

اتنی بڑی آبادی والے ملک میں ’پرسنل سپیس‘ یعنی ذاتی جگہ کا تصور تقریباً وجود ہی نہیں رکھتا۔ اور انڈیا آنے والوں کو معلوم ہو گا کہ یہاں سیدھی قطار عموماً ایک دائرہ ہوتا ہے جس میں درجنوں اجنبی اِرد گرد گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے اونچا اونچا بول رہے ہوتے ہیں تاکہ دکان کے کاؤنٹر تک ان کی آواز سنی جا سکے۔

سُو لاک ڈاؤن کے دوران سپر مارکیٹس لوگوں کو یہ سکھانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایک محفوظ فاصلے پر کیسے کھڑا ہوا جاتا ہے اور دکان کے باہر لگے ہوئے دائروں میں سے ہوتے ہوئے ایک کے بعد ایک چیز خریدنے کے لیے آگے بڑھنا ہے۔

مغربی بنگال کی ریاست کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے بغیر بتائے ایک سپر مارکیٹ کا دورہ بھی کیا اور اپنے ہاتھوں سے سڑک پر دائرے بنا کر لوگوں کو سماجی دوری کا تصور سمجھایا۔

ہم صرف قطار بنانے کا سبق ہی نہیں لے رہے۔ گذشتہ چند روز سے جو بھی انڈیا میں کال ملانے کی کوشش کرتا ہے اسے پہلے ایک ریکارڈ شدہ پیغام سننا پڑتا ہے جس میں کھانستے ہوئے اپنے منھ کو ڈھانپنے اور ہاتھ دھونے کی افادیت بتائی جاتی ہے۔

لیکن کیرالا پولیس آفس کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہاتھ دھونے کی اہمیت اور بھی دلکش اس وقت ہو جاتی ہے جب صحت سے متعلق پیغام میں بالی وڈ سٹائل کا ڈانس اور گانے بھی شامل کر دیے جائیں۔

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

برطانیہ

مائیک میک ایچرن

برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت کم مقدار یا بالکل الحکوحل فری ڈرنکس کے دور میں بھی برطانوی شراب خانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمیشہ سے تھی: یعنی ثقافتی اقدار اور ماحول۔

ایسی چیز ہو کیوں ٹھیک کیا جائے جو خراب ہی نہ ہو؟ جیسا کہ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن، جو خود بھی کورونا وائرس سے متاثر ہیں، نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ برطانوی شہریوں کا کبھی نہ چھینا جانے والا اور پیدائشی حق ہے کہ وہ ’پب (شراب خانے) جائیں۔‘

کورونا وائرس کی وبا نے ایک دم سب کچھ بند کر دیا ہے۔

شراب نوشی کرنے والوں نے اپنے آخری آرڈر جمعہ 20 مارچ کو دیے، لیکن ہم جیسے برطانوی شہریوں کو کام کے بعد تھوڑی مقدار میں شراب نوشی کے لیے ذرا زیادہ تخلیقی ہونے کے ضرورت پیش آ رہی ہے۔

واٹس ایپ، سکائپ، زوم اور ہاؤس پارٹی جیسی ایپس کے ساتھ جو سینٹ آئیوز سے لے کر سوانسی تک دوستوں کے ساتھ پارٹی کا پلیٹ فارم دے رہی ہیں، ’ڈیجیٹل ڈرنکنگ اور ورچوئل ہیپی آور‘ کے نئے دور نے جنم لیا ہے۔ اسی طرح کا ایک پب ڈنڈی میں قائم ’جم اینڈ جینیز ورچوئل پب‘ ہے جس کے اب 13 ہزار ممبر بن ہیں اور شام کے لیے یہ ایک اچھی کمپنی ہے۔

سو اب ہم نے ورچوئل برتھ ڈے پارٹی، سٹیگ پارٹی اور آن سکرین پب کوئز کو اپنا لیا ہے۔ لنکاشائر میں واقع ورچوئل پب کویز میں اس ہفتے 34 ہزار افراد نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سُو آپ اس ہفتے کے اختتام پر لاک ڈاؤن میں کیا کر رہے ہیں؟ ابھی بھی وقت ہے کہ ورچوئل پب میں شامل ہو جائیں، یا پھر آپ فلائنگ سکاٹس مین، گے گورڈنز اور ہائی لینڈ بارن ڈانس پر ناچیں۔

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

آسٹریلیا

کیتھرین مارشل

آسٹریلیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر آسٹریلیا کی کوئی ایک روایت جو آسٹریلوی باشندوں کو ان کے گھروں سے باہر نکلنے، بے فکر رویے اور مگر مچھ، شارک، خطرناک سانپوں اور مکڑیوں سے بھرے جزیروں پر رہنے کے حوالے سے جوڑتی ہے تو وہ ہے ایسٹر کیمپنگ۔

سردیوں کے آنے سے قبل عموماً سال کے اس وقت آسٹریلوی عوام کی ایک بڑی تعداد اختتام ہفتہ کی چھٹی کیمپ فائر کے گرد دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ باربی کیو کی تیاری کرنے میں مصروف ہوتی ہے۔

اگرچہ لوگ وبا کی وجہ سے گھروں میں واپس چلے گئے ہیں اور ایسٹر کی چھٹیاں منسوخ ہو چکی ہے لیکن ہم آسٹریلوی شہری بڑے اختراعی طبیعت کے مالک ہیں۔

اس ہفتے ’دی کاروان انڈسٹری آف آسٹریلیا‘ نے تین لاکھ سے زائد باشندوں، جو ایسٹر کیمپنگ کرتے ہیں، سے کہا ہے کہ وہ ایسٹر ویک اینڈ پر اپنے گھر کے عقبی حصوں میں ٹینٹ لگا لیں۔

گھروں میں کیمپنگ کرنے والے افراد مختلف کمپنیوں کی جانب سے چلائی جانے والی لائیو سٹریمز کے ذریعے آسٹریلیا کی وائلڈ لائف سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ اور تمام آسٹریلوی، کرکٹ آسٹریلیا کی طرف سے دکھائے جانے والے دلچسپ میچوں کے ذریعے گھروں کے عقبی حصوں میں کرکٹ سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔

کووِڈ 19 نے ہم میں سے زیادہ تر افراد کو گھروں تک محدود کر دیا ہے لیکن اس دوران بالکونی سے گائے جانے والے ’آئی سٹل کال آسٹریلیا ہوم‘ سے اوپرا آسٹریلیا کے پرفارمز ٹام ہیملٹن اور تھامس ڈیلٹن نے ہمیں ایک مرتبہ پھر یاد دلایا ہے کہ یہ کوئی بری جگہ نہیں ہے۔

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

کوریا

ہنا یون

کوریا

اپنی رات کو کھلنے والی مارکیٹوں، دن رات کام کا معمول اور بظاہر کبھی نہ ہار ماننے والے سمارٹ فون کلچر کے درمیان سیول ایک ایسے ملک کا دارالحکومت نہیں لگتا جسے ’لینڈ آف دی مارننگ کام‘ یا صبح کے سکون کی سرزمین کہا جاتا ہے۔

لیکن گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران جنوبی کوریا کی جارحانہ سماجی دوری کے اقدامات نے ایک خوش کُن، طمانیت کا احساس دلانے والا ایک عالمی ٹرینڈ شروع کیا ہے: پرسکون آن لائن ویڈیوز جن میں دکھایا جاتا ہے کہ کوریا کی ڈالگونا کافی کس طرح بنائی جائے۔

جنوبی کوریا میں ملنا ملانا اکثر کیفے میں ہوتا ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کوریا میں فی کس کے حساب سے دنیا میں سب سے زیادہ کافی کی دکانیں ہیں۔

لیکن کم لوگوں کے باہر نکلنے کے بعد کوریائی باشندوں نے گھروں پر بیٹھ کر اپنے کیفے کلچر کو بڑھاوا دیا ہے۔ وہ آن لائن مشقوں کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ کس طرح کافی، چینی، دودھ اور برف کو ایک ساتھ پھینٹ کر پھولی ہوئی ’پینٹ بٹر‘ کے رنگ کی کافی بنائی جاتی ہے، جسے مقامی طور پر ڈالگونا کہتے ہیں۔

گوگل ٹرینڈز کے مطابق یہ آن لائن پاگل پن فروری کے آخر میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اور کیونکہ دنیا کے بہت زیادہ لوگ گھروں پر محدود ہو گئے ہیں اس لیے زیادہ سے زیادہ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کوریا کی کافی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابھی تک ڈولگونا ویڈیو کے 35 لاکھ ویوز ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک حوالے سے ایک عالمی ٹرینڈ بھی ہے اور اس ہیش ٹیگ کے ٹِک ٹاک پر 64 ملین سے زیادہ ویوز ہیں۔

ڈولگونا کافی سے زیادہ یہاں اگر کوئی شے اہم ہے تو وہ ہیں ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں اور آج کل ہم شکریہ پر مبنی یہ تحریریں اپنے ملک کے محنت کش ڈلیوری ورکرز کو دے رہے ہیں۔

کوریائی ثقافت میں ہاتھ سے لکھی ہوئی شکریے کی تحریر زبانی یا ای میل سے لکھی ہوئی تحریر سے بہت زیادہ گہرا معنی رکھتی ہے۔ دی کوریئن ٹائمز نے ایک مرتبہ ایک کوریائی لسانی ماہر کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’ہمارے آباؤ اجداد سمجھتے تھے کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے خط میں انسان کے جذبات نظر آتے ہیں۔‘

انسٹاگرام پر دکھائی جانے والی ہزاروں ہاتھ سے لکھی ہوئی شکریے کی تحریروں کی تصاویر میں ڈلیوری کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے دعائیہ پیغامات میں جو سب سے زیادہ مشہور جملہ ہے وہ ہے کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ کورونا وائرس کے مزید متاثرہ افراد نہیں ہوں گے۔‘