کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سردی کیوں برداشت کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ولیم پارک
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
ورزش کرنے کے بعد برفیلے پانی میں ڈبکی لگانے سے حاصل ہونے والی تازگی کا احساس ممکن ہے چند پیشہ ور ایتھلیٹس کی ترجیح میں شامل ہو جس سے وہ اپنی تھکاوٹ اتار سکتے ہیں۔ مگر سردیوں میں کوئی اپنے آپ کو تندرست رکھنے کے لیے اگر ایسا کرتا ہے تو پھر سردی اتنی ہی سخت ثابت ہو سکتی ہے جتنا کہ ایسا کرنے سے لطف حاصل ہوتا ہے۔
تفریحی مقاصد کے لیے تیراکی کرنے والے ماٹلدا ہیے کے لیے گرم یا سرد پانی میں نہانا کوئی انتخاب نہیں ہے۔ ٹھنڈے پانی میں نہانا ان کی صحت کے لیے مفید ہے مگر ایسا ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔
ان کے مطابق 'جب میں نے کھل کر تیراکی کرنے کی کوشش کی تو میں زیادہ دیر تک پانی میں نہیں ٹھہر سکا، میں چند منٹ تک ہی پانی میں ٹھہر سکا اور پھر باہر نکل آیا۔ کچھ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میری بہن زیادہ دیر تک پانی میں رہ سکتی ہیں۔ میرے خیال میں سردی برداشت کرنے سے متعلق ہم میں فرق ضرور ہے۔‘
میڈیا میں ٹھنڈے پانی میں نہانے کے کچھ ذہنی صحت کے فوائد تو ضرور بتائے گئے ہیں مگر یہ زیادہ واضح نہیں ہیں۔ یہ فوائد زیادہ تر ایک 24 برس کی خاتون کے تجربات پر مشتمل ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کیس سٹڈی اتنی مقبول کیونکر ہے۔
کیا ماٹلڈا اس حوالے سے درست کہہ رہے ہیں کہ کچھ لوگ سردی کا مقابلہ دوسروں سے مختلف انداز میں کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موسم بھی ہماری کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سردی میں ہمارے اعضا سست رو ہو جاتے ہیں، تناؤ میں زیادہ وقت لگتا ہے، اور یہ ہماری صلاحیت کو دو طرح سے متاثر کرتے ہیں: ہم جوبن میں آ جاتے ہیں اور جتنی بھی طاقت ہم اس سے حاصل کرتے ہیں اس پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ اگرچہ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے ہم ٹھنڈے پانی میں نہانے سے قبل اپنے آپ کو وارم اپ کر سکتے ہیں۔
سرد موسم میں کارکردگی کم ہونے کی وجوہات قدرے پیچیدہ ہیں، سردی میں ہماری برداشت کا انحصار ہماری جینیات، جلد کے نیچے کی چربی اور جسمانی سائز پر ہوتا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ جب ہمارا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہمارے جسم کے خلیوں میں توانائی کے اخراج کی شرح کم ہو جاتی ہے جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سردی میں ورزش کرنے کو دل کی صحت کے لیے اچھا کہا جاتا ہے، اس سے ایک مضبوط مدافعتی نظام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور یہ سفید خلیوں کو بھورے خلیوں میں تبدیل کر دیتا ہے، جو وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
لہذا اگر آپ ایسا محفوظ طریقے سے کرتے ہیں تو اس سے صحت کے بہت فوائد سمیٹے جا سکتے ہیں۔
ہم میں سے کچھ کو سردی میں ورزش کرنے کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ پانچ میں سے ایک فرد پٹھوں میں فائبر پروٹین اے۔ایکٹِنن۔3 کی کمی کا شکار ہے۔
یہ تبدیلی ہماری ارتقائی تاریخ پر کچھ روشنی ڈالتی ہے کہ کیسے کچھ ماڈرن ایتھلیٹس سرد موسم میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ دوسرے ایتھلیٹس ابتدا میں ہی کمزور پڑ جاتے ہیں۔
پٹھوں میں موجود ’پھرتی کے جین‘ فائبر پروٹین اے۔ایکٹِنن۔3 ایتھلیٹس کو نسبتاً فائدہ پہنچاتی ہے جب وہ اپنی جسمانی توانائی خرچ کر کے اپنے پٹھوں کو مضبوط بنا رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ دیگر حالات میں شاید زیادہ مفید نہ ہو۔
ہمارے پٹھے دو طرح کے فائبر (ریشوں) کا مرکب ہوتے ہیں یعنی سست اور تیز رفتار والے ریشے۔
پٹسبرگ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات کورٹینے ڈن لیوس کا کہنا ہے کہ اگرچہ پٹھوں میں دونوں طرح کے ریشے موجود ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک کی شرح مختلف ہو سکتی ہے جس کا انحصار مختلف پٹھوں پر بھی ہوتا ہے اور مختلف انسانوں میں بھی اس کی شرح مختلف ہو سکتی ہے۔
سست رو حرکت والے ریشے ایروبک ایکشن کی سست روی کا باعث بنتے ہیں۔
یہ ریشے ہمیں سیدھا کھڑا رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے سر کو گرنے سے بچاتے ہیں اور ہمارے جبڑوں کو کھلنے سے بچاتے ہیں اور یہ ہمیں چلنے اور دوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
اگر آپ نے کبھی یوگا یا مراقبہ کرنے کی کوشش کی ہے اور آپ کو یہ ہدایات دی گئی ہوں کہ اپنے جسم کے تمام اعضا کو ڈھیلا چھوڑیں تو ایسے میں آپ کو اندازہ ہو گا کہ پس منظر میں کتنے پٹھے لاشعوری طور پر ہی متحرک ہو جاتے ہیں۔
یہ پٹھوں کا تناؤ نہیں ہے۔ یہ جسم کا ایک معمول ہے جسے ٹونس کہا جاتا ہے، جس کے تحت سست رو ریشوں والے پٹھے ہمیں ادھر ادھر جھولنے سے بچاتے ہیں۔
دوسری طرف تیز حرکت کرنے والے ریشے ایناروبیکلی (آکسیجن کے بغیر) طریقے سے سانس لینے کے دوران فوری طور پر حرکت میں آ سکتے ہیں مگر اس سے آسانی سے تھکن ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ ریشے صرف اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ہم کچھ وزنی چیز اٹھا رہے ہوں، چھلانگ لگا رہے ہوں، تیز دوڑ رہے ہوں اور اس قسم کی کوئی ورزش جس سے ایناروبک ورزش کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اے۔ایکٹنن۔3 پروٹین جین صرف پٹھوں میں تیزحرکت کرنے والے ریشوں میں پائے جاتے ہیں۔
ڈن لیوس کے مطابق 80 فیصد ایتھلیٹس کے پٹھوں میں ریشے یا تو تیز یا سست روی سے حرکت کرنے والے ہوتے ہیں یعنی زیادہ قوت لگانے والے ایتھلیٹس کے اعضا میں زیادہ حرکت والے ریشے ہوتے ہیں جبکہ طویل دورانیے والے ایتھلیٹس میں یہ سست رو ہوتے ہیں۔
میراتھن ریس والے کے لمبے، دبلے پتلے جسم پر غور کریں، جس کے پٹھوں میں سست روی سے حرکت کرنے والے ریشے کم ہو سکتے ہیں مگر وہ تھکاوٹ سے بچاتے ہیں اور وہ ایسی قوت دیتے ہیں کہ ریس لگانے والا کئی کلومیٹر تک دوڑتا رہتا ہے۔
اس طرح کا شخص مقررہ وقت میں کم جسمانی توانائی خرچ کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک امریکی فٹ بالر یا ہاکی کے کھلاڑی کے پٹھوں میں تیزی سے حرکت کرنے والے ریشے ہوتے ہیں، جو طاقت اور رفتار کے ساتھ حرکت کرتے ہیں مگر وہ جلد تھکاوٹ کا باعث بن جاتے ہیں۔
ایسے ایتھلیٹ جن کے پٹھوں میں 80 فیصد تک ایک ہی قسم کے ریشے ہوں تو وہ خوش قسمت پیدا ہوتا ہے۔ عام انسانوں میں یہ دونوں اقسام کا تناسب ففٹی ففٹی ہوتا ہے۔ اس تناسب کا تعین پیدائش کے وقت ہی سے ہو جاتا ہے۔
ریشے کی قسم کا تعین اعصابی نظام سے ہوتا ہے لہٰذا یہ ورزش سے بھی تبدیل نہیں ہو سکتا ہے۔
آپ مرغی پر غور کرنے سے بھی ان دو قسم کے ریشوں میں فرق کو واضح کر سکتے ہیں۔ مرغی کی ٹانگ پر گوشت کالا ہوتا ہے کیونکہ اس میں سست رو ریشے ہوتے ہیں اور اس میں مائیوگلوبین پایا جاتا ہے، جو ایک ایسی پروٹین ہے جو آکسیجن سے جڑی ہوئی ہے، جو ایروبک طریقے سے سانس کے ذریعے پٹھوں تک ترسیل کو ممکن بناتی ہے۔
کیونکہ مائیوگلوبین میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو کچھ کچھ خون کی طرح ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ پٹھوں کو کالا اور سرخی مائل بنا دیتی ہے۔
درحقیت جب آپ اس کے حصے بخرے کرتے ہیں تو اس میں سے جو سرخ مادہ باہر آتا ہے وہ خون نہیں بلکہ مائیوگلوبین ہوتا ہے، جو متعلقہ ہیموگلوبین سے یہ رنگ حاصل کرتا ہے۔
مرغی کے سینے کا گوشت ہلکے رنگ کا ہوتا ہے کیونکہ یہ کثیف ہوتا ہے اور اس میں تیز حرکت کرنے والے ریشے ہوتے ہیں۔ مائیوگلوبین میں گوشت زیادہ کثیف نہیں ہوتا۔ مرغی کے سینے کے پٹھوں کی مختصر، تیز، اینیروبک قسم کی سرگرمیوں کے لیے ضرورت ہوتی ہے جب پرندے اپنے پروں کو ہلاتے ہیں۔ جبکہ ان کی ٹانگیں زیادہ تواتر سے استعمال ہو رہی ہوتی ہیں۔
انسانوں میں یہ فرق کم واضح ہوتا ہے۔ ہمارے پٹھے کم و بیش دونوں ہی طرح کے ریشوں کا مرکب ہوتے ہیں۔
یہ ریشے ہمیں گرم رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سردی ہوتی ہے تو ہمارے تیزی سے حرکت کرنے والے ریشے بار بار اور جلدی سے اپنا کام انجام دے رہے ہوتے ہیں۔۔ جس سے ہم سردی سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو مزید سکیڑ رہے ہوتے ہیں۔
جب ہم کسی حد تک گرم ہوتے ہیں تو پھر اس دوران ہماری توانائی صرف ہوتی ہے۔ یہ توانائی صرف کرنا جسم کو گرم رکھنے کا طریقہ ہے مگر یہ فوری مؤثر ہوتا ہے۔
ڈن لیوس کا کہنا ہے کہ #جسم کا درجہ حرارت بڑھانے کے لیے ایک مؤثر ترین طریقہ پٹھوں کو سکیڑنا ہے۔ دراصل ورزش کرنے سے 70 سے 80 فیصد تک کیلوریز گرمی کی وجہ سے جلتی ہیں۔‘
ہمارے سست رو ریشے ٹونس کے طرز پر کام کرتے ہیں، جن سے کافی مقدار میں تپش نکلتی ہے۔
پروٹین اے۔ایکٹکٹن۔3 کا جین دنیا میں ڈیڑھ ارب لوگوں میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کے اندر تیزی سے حرکت کرنے والے ریشے موجود ہوتے ہیں۔ ان کے پٹھوں میں پھرتی کم اور وہ سست روی سے حرکت کرنے والے ریشوں سے کثیف ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طرح کے کھیل جن میں زیادہ طاقت اور پھرتی درکار ہوتی ہے اس کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحقیقی مقالے کے مصنف کے مطابق اس طرح کے لوگ ایسے کھیل میں ضرور کامیاب ہوتے ہیں جو طویل دورانیے کے ہوتے ہیں۔ وہ اینیروبک قسم کی سرگرمیوں کے لیے تو ان کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے مگر وہ توانائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔
اے۔ایکٹینن۔3 جینیات میں تغیر پذیر ہونے کے نتیجے میں انسانوں کے باپ دادا جو 50،000 سال قبل افریقہ سے یورپ چلے گئے تھے اپنے پروٹین جین کھو رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ اس جینیاتی تغیر نے یورپ میں رہنے والوں کے آباؤ اجداد کو سرد موسم کا مقابلہ کرنے میں مدد دی ہو۔۔ کیونکہ جسم کو سکیڑنے سے ان کی توانائی کم خرچ ہوتی تھی بجائے کہ وہ ٹونس پر انحصار کرتے۔
ڈن لیوس کے مطابق اس طرح کے جینوٹائپ گرم و آب و ہوا کے علاقوں میں رہنے والے نسلی گروہوں میں کم کثرت سے پایا جاتا ہے۔ کینیا اور نائیجریا کے باشندوں میں یہ صرف ایک فیصد، ایتھوپین میں 11 فیصد، سفید فام (یورپ، وسطی ایشیا) 18 فیصد اور 25 فیصد ایشائی باشندوں میں پایا جاتا ہے۔
افریقہ سے باہر کے ماڈل کے مطابق جن لوگوں نے سرد خطوں کی طرف ہجرت کی ان میں پولی مورفزم (کثیر المثالیت) میں اضافہ ہوا ہے۔ جن لوگوں میں اے۔ایکٹکٹن۔3 میں کمی ہوتی ہے تو وہ بہتر طور پر گرم رہ سکتے ہیں اور ان میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ وہ سخت موسمی حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ہمارے جینیات کے تعین میں اس بات کا بھی عمل دخل شامل ہے کہ ہم سردی کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں: ہمارے جسم میں پائے جانے والی چربی۔ جیسا کہ ہم دو طرح کے ریشوں والے اعضا کے مالک ہیں تو اس طرح ہمارے جسم میں دو طرح کی چربی پائی جاتی ہے۔۔ سفید اور بھوری چربی۔ جن میں سے ایک جسم کو گرم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بھوری چربی تھرموجینک ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمارے سست رو ریشے ہمیں کپکپانے سے پہلے ہی گرم کر دیتے ہیں۔
کرسٹن سٹینفورڈ، ایک سیل ماہر حیاتیات اور اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں ان کے شریک مصنفین نے ہمارے جسمانی درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے میں بھوری چرپی کے کردار پر ایک تحقیق شائع کی ہے۔
بھوری رنگ کی چربی تھرموجینک ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سست رو ریشے ہمیں کپکپانے سے پہلے ہی گرم کر دیتے ہیں۔ سردی لگتے ہی ہماری بھوری چربی حرکت میں آ جاتی ہے، جس سے ہمارا وزن کم ہوتا ہے۔ کرسٹن سٹینفورڈ کے مطابق اسی طریقے سے موٹاپے کا علاج بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ورزش سے ہماری بھوری چربی پر متضاد اثر پڑتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ورزش اس سرگرمی کو روکتی ہے۔ شاید اس لیے کہ جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہم دوسرے میکانزم کے ذریعے کافی حرارت پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔۔ حالانکہ مصنفین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ابھی تحقیق کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ڈن لیوس کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ سرد موسم بھوری چربی کو جلانے سے روکتا ہے اور ہمارے اعضا میں اعصابی ترغیب کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جس سے ہماری کھیلوں میں کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ عملی طور پر اگر کسی فرد کا جسمانی درجہ حرارت مناسب ہے ... ان کا جسم خود کو آسانی سے گرم کر دیتا ہے۔‘
یہ سردی میں ورزش نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بن سکتی۔
ان کے مطابق حقیقت میں میراتھن کا بہترین وقت سرد موسم میں ہوتا ہے کیونکہ سردی ورزش کے دوران پیدا ہونے والی گرمی کو بہتر طور پر ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر یہ ٹھنڈے موسم کا معاملہ نہ ہوتا تو انسانی جسم پٹھوں کی کارکردگی سے ہٹ کر دیگر ذرائع کو بروئے کار لاتا تاکہ گرمی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
سب بڑے کھلاڑی سردی میں بہتر کارکردگی نہیں دکھاتے۔ سردی کا موسم ورزش سے متاثرہ دمہ کو بڑھاتا ہے، جو موسم سرما کے 35 فیصد اولمپک ایتھلیٹس کو متاثر کرتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کم مرطوب ہوتی ہے کیونکہ ہوا میں نمی جم جاتی ہے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خشک ہوا پھیپھڑوں میں اشتعال انگیز ردعمل کا باعث بن جاتی ہے۔
لہٰذا ایسی جینیاتی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم میں سے کچھ دوسرے کے مقابلے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اے۔ایکٹکٹن۔3 میں تغیر پذیری سے لوگوں کو کچھ فائدہ یہ ہوا کہ وہ صبح کے وقت اٹھ کر کھلے پانی میں تیراکی کریں جبکہ باقی گھر سے نکل کر دوڑ لگانے کی کوشش کریں۔
ماٹلڈا ہے کے لیے اس کے گھر کے قریب رش والا عوامی تالاب فی الحال کافی ہو گا۔








