آپ کووڈ 19 کے وائرس سے بچنا کیوں چاہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زاریہ گورویٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
تاریخِ عالم میں انسان کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ انفیکشن سے بچنے کے لیے غیر معمولی اقدامات لیتا رہا ہے۔
قرونِ وُسطیٰ میں وباؤں کے دوران گھروں سے باہر نکلنے سے پہلے لوگ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ’چوروں کے چار سرکوں‘ سے بھِگوتے تھے۔۔۔ یہ مختلف جڑی بوٹیوں کو سیب کے سِرکے میں پکا کر تیار کیا گیا ایک محلول ہوتا تھا۔
روایات کے مطابق، قبریں کھود کر مردوں کی اشیا چرانے والوں نے اپنے آپ کو مردوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ محلول ایجاد کیا تھا۔ ان ہی وارداتوں کے دوران یہ چور گرفتار بھی ہوئے، لیکن حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان چوروں کو چھوڑ دیا جائے گا اگر وہ اس محلول کا راز بتا دیں۔
16ویں صدی میں اٹلی کے جزیرہِ سارڈینیا میں کافی سائنسی ترقی ہو چکی تھی۔ اُس وقت کے ایک حکیم کوِینٹو ٹائیبیریو اینجیلیریو نے اُس زمانے میں لوگوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا تھا جس کے مطابق ’کوئی بھی شخص جب گھر سے باہر نکلے گا تو وہ اپنے ساتھ ایک چھ بالشت لمبا ڈنڈا رکھے گا، اور جب تک یہ ڈنڈا اس کے ہاتھ میں ہو گا کوئی دوسرا اس کے قریب نہیں جائے گا۔‘
اسی دور میں اٹلی کے الگیرو نامی شہر میں وبا پھوٹنے کے دوران صحت و صفائی کے لیے ان حکیم کے یہ پُراِسرار نسخے اپنائے گئے تھے۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ ایک خاندان کا صرف ایک فرد ہی گھر کا سودا سلف اور ضروریات کا دیگر سامان خریدنے کے لیے گھر سے باہر نکلے، اور کسی دوسرے سے مصافحہ کرتے وقت نہایت احتیاط سے کام لیں۔
سنہ 1793 میں امریکی حکومت نے فِلاڈلفیا، جو اس زمانے میں امریکی دارالحکومت تھا، کی پوری آبادی کو شہر سے باہر نکال دیا تھا تاکہ اسے تبِ زرد کی وبا سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد صرف ایک ماہ کے عرصہ میں شہر بدر ہونے پر مجبور ہوئے تھے جو کہ شہر کی نصف آبادی بنتی تھی۔
ہمارے بزرگوں نے جو دیگر احتیاطی نسخے تجویز کیے اُن میں مینڈک کی قے اور اس کو جلا کر اُس سے تیار کیے گئے سفوف کو چوس کر گلا صاف کرنے کی دوا کے طور پر استعمال کرنا بھی شامل تھا۔ یہ طریقہ معروف سائنسدان آئزیک نیوٹن نے اُس زمانے میں طاعون پھیلنے کی وجہ سے دریافت کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1940 میں دانتوں کے علاج کے لیے ایک طریقہ بہت زیادہ مقبول تھا، یعنی ایسی عورتیں جن کا کوئی ایک دانت بھی سڑ جاتا تو وہ اپنے تمام دانت نکلوا دیتی تھیں۔ بیماری کو روکنے کا یہ طریقہ کافی معروف تھا جو بعض اوقات شادی کے موقع پر ایک تحفے کے طور پر دیا جاتا تھا، یا اٹھارہویں سالگرہ کے موقع پر ایک نوجوان لڑکی کو دیا جاتا (سالگرہ مبارک، اب آپ کو مصنوعی بتیسی کی ضرورت ہے)۔
یہاں تک کہ صدیاں پہلے بھی ہمیں، مہین سے جراثیموں، اینٹی باڈیز یا ویکسینیشن کے بارے میں علم تھا، لوگوں کو کافی اندازہ تھا کہ کس بیماری کے انفیکشن سے ہر حال میں بچنا بہت ضروری ہے۔
سنہ 2020 میں اس پرانی آفاقی سوچ میں دراڑیں نظر آنا شروع ہوگئیں۔ کووِڈ 19 کی وبا کے پھوٹنے کے آغاز میں ایسی خبریں آئیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر کووِڈ-19 وائرس کا شکار ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہ تیزی سے ایک معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکیں۔
'امیونیٹی پاسپورٹ' اور 'ہرڈ امینیٹی' (ریوڑ سے استثنیٰ کے طریقے سے قوت مدافعت پیدا کرنا) جیسی اصطلاحتیں اب عام لوگوں کی لغت کا حصہ بن چکی ہیں، اور کم مقدار میں 'اینٹی باڈیز' کو ایک کامیابی سمجھنے کے بجائے اب ایک دھچکا قرار دیا گیا ہے۔
اب سائنسدانوں کے ایک گروپ نے ایک متنازعہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جسے 'گریٹ بریٹین کا اعلامیہ' کہا گیا ہے --- جو لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مذمت کرتا ہے اور اس کی بجائے مطالبہ کرتا ہے کہ صرف 'مخصوص قسم کی پابندیوں' کو ہدف بنایا جائے۔
یہ اعلامیہ جسے دو ماہرینِ وبائیات اور ایک ماہرِ اقتصادیات نے تیار کیا، دعویٰ کرتا ہے وہ افراد جو خطرے کی کم سے کم سطح پر ہیں 'انھیں اپنی مرضی کے ساتھ رہنے کی آزادی دی جانی چاہیے تاکہ وہ اس وائرس کے خلاف اپنی قوت مدافعت کو قدرتی طور پر لگنے والے انفیکشن سے مضبوط کر سکیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ صرف اُن کمزور لوگوں کو محفوظ کیا جائے جن کی زندگیاں زیادہ خطرے کی سطح پر ہیں۔'
اس اعلامیے کے جاری کیے جانے کے بعد اس پر ہزاروں افراد نے دستخط کیے ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کے دیگر گروہ ان کے کیے گئے دعوؤں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم بعض جگہوں پر تو انفیکشنز قومی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ سویڈن میں صحت معامہ کے محکمے نے ایک لحاظ سے یورپ کے کسی بھی ملک کی نسبت بہت ہی آرام دہ حل کا انتخاب کیا تھا۔ یہ ملک اب اپنے پہلے لاک ڈاؤن کی جانب جا رہا ہے، لیکن اس برس کے آغاز میں اس ملک میں لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا تھا اور معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
سویڈن کے سرکاری ماہرِ وبائیات اینڈرز ٹیگنل نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ لوگ ماسک نہ پہنیں، اور جب پورا یورپ گھروں میں قید ہو گیا تھا، سویڈن کی یہ نارڈک قوم بڑی آزادی کے ساتھ شراب خانوں، جمز میں، دوکانوں اور ریستورانوں میں گھومتی پھرتی رہی۔
اس برس جولائی میں اس ملک کے محکمہِ صحتِ عامہ نے دعویٰ کیج تھا کہ دارالحکومت سٹاک ہوم میں امیونٹی کی شرح شاید 40 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور وائرس کو اب پسپا کر رہی تھی۔
اب شاید یہ سب باتیں ہم بھول جائیں۔ اب امید ہے کہ کم از کم دو ویکسینیشنز جلد از جلد مہیا ہو جائیں، اور ان میں ایک کی دریافت میں ایک جرمن ماہرِ مناعیات (امیونولوجسٹ) کا بھی کردار ہے --- فائزر-بائیو این ٹیک ورژن --- نے حال ہی میں پیشین گوئی کی ہے کہ شاید اگلے برس سردیوں تک اس وائرس پر قابو پا لیا جائے۔
تاہم فی الحال یہ وبا جاری ہے۔ اس وقت امریکہ، فرانس، جرمنی، بیلجیئم، اٹلی، روس، برطانیہ، انڈیا، میکسیکو، سویڈن، یونان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روس نے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو رکھنے کے لیے ایک برف خانے کو ہسپتال کے مردہ خانے میں تبدیل کردیا ہے۔
انڈونیشا کے دارالحکومت جکارتہ میں قبروں کی کمی پڑ گئی ہے، اور سپین نے قومی سطح پر ہنگامی حالات کا اعلان کردیا ہے۔ امریکہ میں وبا کی صورتِ حال کو 'آخری بڑی لہر' قرار دیا جا رہا ہے۔
اب جبکہ ہم ابھی بھی لاک ڈاؤن بمقابلہ وسیع سطح پر انفیکشن کے دوراہے پر کھڑے ہیں، ماہرین اول الذکر حل کے حامی ہونے کے کئی دلائل دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آپ کو انفیکشن کا شکار کیوں نہیں ہونا چاہیے ہیں اور اس کی مضبوط وجوہات بھی ہیں۔
ویکسین زیادہ محفوظ ہو سکتی ہیں
فروری سنہ 2009 میں میکسیکو کے مشرقی حصے میں خنزیروں کے ایک فارم میں ایک نئی قسم کا وائرس ظاہر ہوا تھا۔
کہانی کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ ان خنزیروں کو کھانسی آنا شروع ہوئی یا جب وہ آواز نکالتے تو بہت خراش زدہ آواز نکلتی شوروغل کرنے والی بطخوں کی طرح چنگھاڑنے جیسی آوازیں نکالتے، اس بیماری کا شکار خنزیروں کو ناک سے بہنے والے چپکنے والے لعاب اور سرخ آنکھوں کی وجہ سے باآسانی پہچانا جاسکتا تھا۔
یہ کھلے منہ کے ساتھ سانس لیتے اور کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہونے کے بھی قابل نہ رہے تھے۔ کچھ کو بخار ہوگیا اور چھینکوں کے دورے پڑتے لیکن دیگر خنزیروں پر کسی بھی قسم کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک بیمار خنزیر کی وجہ سے یہ بیماری ایک چھ برس کے بچے، جو غالباً ایک لڑکی تھی، کو لگ گئی۔ وہاں سے یہ وائرس پوری دنیا میں بہت تیزی کے ساتھ پھیل گیا۔ اُس برس مئی کے مہینے تک، کم از کم 18 ممالک متاثر ہو چکے تھے۔ اور جولائی تک یہ وائرس 168 ممالک میں پہنچ چکا تھا۔ اور تقریباً ہر براعظم میں متاثرین کے کیسز تھے۔ یہ ایک وبا تھی۔
لیکن جب ساری دنیا کی توجہ اس پُر اسرار وائرس کے پھیلاؤ کی کھوج میں لگی ہوئی تھی، اسی وقت کچھ بہت ہی غیر معمولی بھی وقوع پذیر ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں فلو جیسے دیگر وائرسوں کے خلاف ایک مضبوط دفاعی نظام پیدا ہو رہا تھا۔
اگر متاثرین کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو ہمارا دفاعی نظام وائرس کے سر پر ضرب لگانے کا رجحان رکھتا ہے جن سے جسم میں ایسے اینٹی باڈیز پیدا ہوتے ہیں جو وائرس کے اس حصے کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن یہ ایک غلطی ہے۔ فلو بہت ہی زیادہ چالاک وائرس ہے اور اس کے سر کا تیزی سے ارتقا ہوتا ہے یعنی یہ انتہائی تیز رفتاری سے بدلتا رہتا ہے ۔۔۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ عموماً آپ کو صرف اس خاص قسم کی بیماری سے تحفظ دے گا جس کا آپ شکار ہوئے ہیں۔
فلو کی باقی دیگر اقسام کی شناخت نہیں ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم فلو کے وائرس کا بار بار شکار ہوسکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ خطرے کی حالت والے افراد کو ہر برس فلو ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس مرتبہ معاملہ ذرا مختلف تھا۔ اب کی مرتبہ کچھ ایسا ہوا کہ جب سوائن فلو پھیلا، بعض اوقات ہمارے مدافعاتی نظام عمومی غلطیوں سے کنارہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔۔۔ اور وہ زیادہ مستحکم قسم کے وائرسوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں جو کہ مختلف اقسام میں ایک جیسا ہوتا ہے۔
جارجیا کے ایموری ویکسین سینٹر کے ڈائریکٹر احمد رفیع کہتے ہیں کہ 'جب ہم نے وائرس سے متاثرہ افراد کے اینٹی باڈیز کا تجزیہ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ اینٹی باڈیز جو جسم میں بنے تھے وہ کئی قسم کے وائرسوں کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے تھے۔' اس کا مطلب تھا کہ وہ نہ صرف H1N1 کے خلاف موثر تھے، جن کے خلاف وہ جسم میں بنے تھے ---- بلکہ وہ دیگر قسم کے فلو وائرسوں کے خلاف بھی موثر تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کا نتیجہ بہت زبردست تھا۔ وائرس کو شناخت کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ فائدے مند سمجھی گئی، کچھ سائنسدانوں نے سوچا کہ یہ وبا کے دوران ایک اور بات کی وضاحت کرتا ہے جو اسی دوران وقوع پذیر ہو رہی تھی۔ ہر قسم کا انفلوئنزا A جو انسانی تاریخ میں اب تک دیکھا گیا تھا --- یہ وہ واحد انفلوئنزا ہے جو وبا کا سبب بنتا ہے، اور ساتھ ساتھ موسمیاتی فلو کا بھی --- اچانک غائب ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ جسم کو دیگر قسم کے فلو کے وائرسوں کو شناخت کرنے کی تربیت دینے سے H1N1 کے قریبی قسم کے وائرسوں کو معدوم کردیا ہو۔
لیکن اگر آپ یہ سوچنے لگیں کہ سوائن فلو سے متاثر ہونا اچھی بات ہے تو پھر آپ کو اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ سنہ 1918 کی وبا کی طرح، اس وائرس نے نوجوانوں کو ہلاک بھی کیا تھا۔ اس وائرس کا خود کار دفاعی نظام پیدا ہونے کے حالات سے بھی ایک تعلق جوڑا گیا ہے جیسا کہ ٹائپ 1 ذیابیطس اور نیند کی بیماری۔ اگرچہ اس سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہوئی تھی، لیکن کم تعداد کو ثابت کرنے میں کئی برس لگے تھے۔
اس کی جگہ سوائن فلو کی وجہ سے حاصل ہونے والے تجربے اور معلومات سے یہ فائدہ ہوا کہ اس سے ہر قسم کے فلو کی ویکسین دریافت کی گئی۔ احمد رفیع کہتے ہیں کہ 'اس پر ہونے والی تحقیق سے وہ حکمت عملی بنی جس کا اب دیگر تحقیقی کاموں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔' اس دریافت سے پہلے اس کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ آیا ایسا ممکن بھی تھا۔ لیکن سنہ 2018 میں، سوائن فلو کی وبا کے ایک دہائی بعد، اس قسم کی ویکسین تیسرے درجے کے کلینیکل ٹرائیل تک پہنچی --- انسانوں پر بہت بڑی تعداد میں اس کی آزمائش کی گئی جس کی وجہ انسانوں پر ادویات کے ذریعے مداخلت کے اثرات اور فائدے کے بارے میں معلومات میسر ہوئیں۔
یہ جدید ویکیسن کے لیے سب سے بڑا فائدہ تھا۔ لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں انفیکشن اور امیونیٹی کے پروفیسر اور اسی ادارے کے ویکسین سینٹر کی ڈائریکٹر، بیٹ کیمپین کہتی ہیں کہ 'تمام انفیکشن دیرپا قسم کی امیونیٹی (قوت مدافعت) پیدا نہیں کرتے ہیں۔ یہ کووِڈ-19 کے لحاظ سے ایک بڑا کام ہے کیونکہ کورونا وائرس عموماً اس طرح نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ ویکیسن کا سوچتے ہیں تو، اگر آپ دیرپا امیونیٹی چاہتے ہیں، تو پھر آپ کو قدرت سے زیادہ بہتر کام کرنا پڑے گا۔'
ایسی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے، سائنس دانوں کو ایسی ویکسین بنانے کے لیے کو ایک صدی سے زیادہ کا علم اور مہارت کو استعمال کرنا ہوگا۔ ایسی دیرپا امینویٹی (قوتِ مدافعت) پیدا کرنے کے لیے کچھ میں تو مخصوص قسم کی پروٹین ہوگی جن کا ان کی صلاحیت کے مطابق بہت ہی محنت کے بعد انتخاب کیا جائے گا - جیسا کہ وہ پروٹینز جو سوائن فلو میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں عموماً اضافی عناصر موجود ہوتے ہیں --- شارک مچھلی کے جگر کے تیل سے لے کر ایلومنیم تک --- جو اس کی موثریت بڑھانے میں اہم کردار اد کرتے ہیں۔
پھر ان ویکسینز کو دیے جانے کے کئی طریقے ہوتے ہیں --- ویکسینز کو پٹھوں کے نیچے سرنج سے انجیکٹ کیا جا سکتا ہے، ایک سپرے کی طرح جلد پر لگائی جاسکتی ہے، باریک سے سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کی جاسکتی ہے، چینی کے ساتھ کھائی جاسکتی ہے، سانس کے ذریعے سونگھ کر لی جا سکتی ہے۔
کیمپمین کہتی ہیں کہ ' آپ جو ٹیکنالوجی ویکسینیشن کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ آپ کے دفاعی نظام کو تھوڑا بہت بدل بھی سکتی ہے۔'
وہ اس سلسلے میں بی سی جی انجیکشن کی مثال دیتی ہیں۔ ٹی بی کی ویکسین جلد میں دی جاتی ہے بجائے پٹھوں کے نیچے دیے جانے کے --- اور یہ انجیکشن لینے والے کے T سیلز کے ساتھ اس طرح بہتر تعامل کرتی ہے جن کا کام اینٹی باڈیز بنانے کے بجائے متاثرہ (انفیکٹڈ) سیلز پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی طریقہ مرض پھیلانے والے جرثوموں سے لڑنے کے لیے ایک بہترین حکمت عملی ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیمپمین کہتی ہیں 'اس طرح ویکسین مختلف انداز میں تقسیم ہوتی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے قوت مدافعت کا ایک گلیوں کا نقشہ ہو اور اگر کسی اور جانب جانے کے بجائے، آپ ایک جانب ویکسین لے کر جائیں تو آپ موٹروے 1 کی بجائے موٹروے 25 کا انتخاب کر رہے ہیں۔'
اس وقت 'زوسٹر،' ایچ آئی بی، ایچ وی پی اور تشنج کی ویکسنز کی طرح کی پہلے ہی بہت ساری ویکسینز موجود ہیں جو قدرتی انفیکشنز کے مقابلے میں زیادہ موثر ہو سکتی ہیں۔
وہ افراد جنھیں 'زوسٹر' وائرس ویکسین کی صورت میں دیا گیا، ان میں سِنِ بلوغت میں خسرہ نکلنے کی نسبت جلدی بیماری پیدا ہونے کے بیس گُنا کم امکانات تھے ۔۔۔ جو کہ عموماً اُسی وائرس سے بچپن میں ہوتی ہے۔ ایچ آئی بی ویکسین ۔۔۔ جو 'ہیمو فیلس انفلوئنزا ٹائب b بیکٹیریم' سے محفوظ رکھتی ہے، یہ ان بچوں میں خاص کر موثر ہوتی ہے جن میں قدرتی انفیکشن سے قوت مدافعت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جنھیں تشنج ہوا ہوتا ہے ان کی قوت مدافعت ک نظام کمزور ہوتا ہے اور وہ پھر سے کسی بھی انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں، ایسے افراد ویکسینیشن سے 100 فیصد محفوظ ہوجاتے ہیں۔
اور اب جبکہ ایچ پی وی کے ساتھ قدرتی انفیکشن کم سے کم مدافعتی ردعمل پیدا کرتے ہیں ۔۔۔ کچھ لوگوں کے جسم قابل ذکر اینٹی باڈیز پیدا ہی نہیں کر پاتے ہیں ۔۔۔۔ ویکسین ایسے افراد کو نو برس تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ زبردست ٹیکنالوجی پروٹین سے تیار کی گئی ہے جو وائرس سے مل کر بنتی ہے، یہ اپنے آپ خود سے ایسے ذرات تیار کرتی ہے جو اس سے ملتے جلتے ہیں ۔۔۔ اور جب یہ بن رہے ہوتے ہیں اس وقت انھیں وائرس جیسے ذرات کہا جاتا ہے۔ ویکسین میں وائرس کی نسبت پروٹین زیادہ بہتر حالت میں موجود ہوتی ہے، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ قوت مدافعت کے عمل کو زیادہ موثر بناتی ہے۔
دوسرے معاملات میں ویکسینیشن کو قدرتی طور پر لگنے والے انفیکشن پر ترجیح دی جائے گی کیونکہ ایک بار جب قدرتی انفیکشن لگ جائے تو اس کے مرض پیدا کرنے والے (پیتھوجینز) کبھی ختم نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی مشہور مثالوں میں ایچ ایس وی-2 ہے، جو کہ جنسی اعضا میں بیماریاں پیدا کرتا ہے اور ایچ آئی وی بھی شامل ہیں۔ اس وقت باقاعدہ لائسنس شدہ ویکسین موجود نہیں ہے جو ان میں سے کسی بھی مسئلے سے محفوظ رکھ سکے، لیکن پہلی بیماری کی ویکسینیشن کے طور پر ایک ایسی ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری بیماری کی ویکسینیشن انسانی آزمائش کے پہلے مرحلے سے کامیاب گزر چکی ہے۔
ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہے کہ کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کا شاید، ویکسین لگنے جتنا فائدہ نہ ہو۔
اکتوبر میں امپیریل کالج، لندن کے محقیقین نے اندازہ لگایا تھا کہ برطانیہ میں وائرس سے متعلقہ اینٹی باڈیز بنانے والے لوگوں کی تعداد جون سے اکتوبر کے درمیانی عرصے میں کم ہو گئی۔ اس دریافت کو بین الاقوامی میڈیا نے شہ سرخیوں کے ساتھ نشر کیا اور اس نے ایک تشویش بھی پیدا کی جس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ کووِڈ-19 کا باقاعدگی کے ساتھ بار بار انفیکشن لگ سکتا ہے --- اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ویکسین بھی مستقل طور پر وائرس سے پائیدار تحفظ نہیں دے سکے گی۔
تاہم ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ مثال کے طور پر اس ریسرچ نے T سیلز کی مدافعت پر غور نہیں کیا تھا --- یہ ایک پائیدار قسم کا دفاع ہوتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کووِڈ-19 کے شدید انفیکشن کی صورت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ویکیسنز اور قدرتی انفیکشن دو مختلف چیزیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کووِڈ-19 کے انفیکشن سے قدرتی طور پر پیدا ہونے والی قوت مدافعت کا اس وقت آزمائشی دور سے گزرنے والی ویکیسن سے پیدا ہونے والی قوتِ مدافعت سے کس طرح موازنہ کیا جا سکتا ہے، ان میں وہ ویکسینز بھی شامل ہیں جو فائزر-بائیو این ٹیک اور موڈرنا کمپنیاں بنا رہی ہیں، جنھوں نے اپنے ابتدائی نتائج میں کہا ہے کہ یہ 90 سے 95 فیصد تک موثر ثابت ہوئی ہیں۔
لیکن اس سے قبل جانوروں پر کی گئی آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جنھیں ویکسینز دی گئی تھی ان کے جسم سے قدرتی طور پر صحت یاب ہونے والے مریضوں کے جسم کی نسبت زیادہ مقدار میں اینٹی باڈیز پائے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ قدرتی انفیکشن کی نسبت ویکسین سے زیادہ محفوظ ہوں گے۔
ویکسینز کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی قوت مدافعت میں ایک ہی وقت میں اضافہ کرتی ہے۔
ہرڈ امینوٹی ویکسین سے پیدا ہوتی ہے
کووِڈ-19 کی وبا کے ابتدائی دنوں میں اٹلی کا اُن ممالک میں شمار ہورہا تھا جو اس سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ اور اٹلی کے اندر شمالی شہر برگمو جس کی گیارہ لاکھ کی آبادی ہے اور 2755 مربع کلو میٹر کا علاقہ ہے، اس وبا کا مرکز تھا۔
اگرچہ برگمو چیڑ کے درختوں، انگور کے باغات اور قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن یہ اچانک ایسی جگہ بن گیا تھا جہاں رات دن ایمبولینسوں کے سائرنوں کی آوازیں دہائی دیتی نظر آتی تھیں، ڈاکٹر دل شکن اخلاقی مخممصے کا شکار تھے کہ ہسپتالوں کے بستر کس مریض کو دیں، اور کئی بوڑھے مریض تنہائی میں موت کا شکار ہوئے۔
ایک 74 برس کے پادری کو پیروکاروں نے وینٹیلیٹر تحفے میں دیا تھا۔ شاید ان کی اس سے زندگی بچ جاتی --- لیکن انھوں نے یہ وینٹیلیٹر ایک نوجوان مریض کو عطیہ کر دیا، اور خود کچھ دیر بعد موت کی آغوش میں چلے گئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ برگمو شہر میں ستمبر کے مہینے تک 38.5 فیصد آبادی میں کووِڈ-19 کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو چکے تھے، جس کا مطلب ہے کہ سوا چار لاکھ افراد اس شہر میں متاثر ہوئے تھے۔ بہت کم ایسے خطے ہیں جو اتنی بری طرح اس وائرس سے متاثر ہوئے ہوں۔ برازیل کے شہر منوس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں 66 فیصد آبادی میں اینٹی باڈیز پیدا ہوئے۔
دونوں شہروں، برگمو اور منوس میں کووِڈ کیسوں میں ایک دم سے کمی واقع ہوگئی ہے، ممکن ہے کہ اس کی وجہ ہرڈ امیونیٹی ہو جس سے وائرس کا پھیلاؤ رک گیا ہو۔ لیکن اس بات کے کئی دلائل ہیں کہ اس پر ویکسین سے قابو پایا جا سکتا ہے --- اور قدرتی انفیکشن کے سیاق و سباق میں اس خیال پر بحث کرنا کیوں اتنا غیر معمولی ہے۔
ہرڈ امیونیٹی (ریوڑ سے استثنیٰ والی قوت مدافعت) ایک قسم کی بیماری کے خلاف مزاحمت ہے جو ایک بڑی آبادی میں کئی افراد کی قوت مدافعت بڑھنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ وائرس کو ختم نہیں کر دیتی، بلکہ اس کے ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلاؤ کو روک دیتی ہے --- یہ انفیکشن کے خلاف کوئی کام نہیں کرتی جو دیگر طریقوں سے بھی پھیل رہ ہوتا ہے۔ اگر چند افراد مرض پیدا کرنے والے (پیتھوجینز) سے خطرے میں ہیں، تو وہاں اس کے پھیلنے کا مزید امکان نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عام خیال کے برعکس، اس بارے میں کوئی بھی قابل اعتبار ریسرچ نہیں ہے کہ وہ کون سی تعداد یا آبادی کا تناسب ہے جو لوگوں کے انفیکیٹڈ ہونے کے بعد ہرڈ امیونیٹی پیدا کرتی ہے، جیسا کہ کووِڈ-19 سے متاثرہ 66 فیصد آبادی جس کی بار بار مثال دی جاتی ہے۔
اس کی جگہ وہ تعداد یا تناسب جس پر ہرڈ امیونیٹی وقوع پذیر ہو اُس کا انحصار اُن وائرس کی افزائش پر ہوتا ہے جسے R نمبر کہا جاتا ہے، جو کہ اُس تعداد کی نمائندگی کرتا ہے جو بتاتی ہے کہ ایک متاثرہ شخص کتنے اور افراد کو اوسطاً متاثر کر سکتا ہے۔ جہاں R نمبر زیادہ ہوگا وہاں ہرڈ امیونیٹی کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ان لوگوں کی تعداد بھی زیادہ ہونی چاہیے جن میں قوت مدافعت موجود ہو۔
خسرے کے کیس میں یہی معاملہ ہے، جہاں ہر شخص مزید پندرہ افراد کو متاثر کرتا ہے اور آبادی کے تقریباً 90 سے 95 فیصد حصے کو ہر وقت محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اصل میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک قابل اعتماد نکتے یا تعداد کے بارے میں جاننا مشکل ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس کے بعد کووِڈ-19 کے خلاف ہرڈ امیونیٹی پیدا ہو جاتی ہے۔
دنیا بھر میں R نمبر مختلف ہوتا ہے اور اس کا انحصار ہمارے رویوں اور اس آبادی میں امیونیٹی کی مختلف سطح پر ہے۔
یہ تعداد آبادی میں ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ تعداد شہروں میں اور مخصوص نسلیتوں میں زیادہ ہو گی۔
ایک سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق، اس کے نتیجے میں آبادی کی وہ تعداد جسے وائرس کے خلاف امیون ہونا چاہیے تاکہ وبا کو ختم کیا جا سکے، وہ 85 فیصد بحرین میں ہو گی اور 5.66 فیصد کویت میں ہوگی۔
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ آبادی میں قدرتی طور پر ہرڈ امیونیٹی پیدا کرنے کے طریقے پر انحصار کرنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا ہے۔ وائرس کی متحرک فطرت کی وجہ سے اس کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہے اور یہ فوراً کچھ اور ہو سکتی ہے۔ یہ بالکل ہی ایک غیر عملی نوعیت کی ہوسکتی ہے۔
اگر اس تعداد کو حاصل کرنے کے لیے ایک آبادی کے 85 فیصد حصے کو انفیکٹ کرنے کی ضرورت ہو تو آپ اُس سطح تک پہنچ رہے ہیں جہاں آپ زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کو محفوظ نہیں بنا رہے جنھیں پہلے وائرس نہیں لگا ہے ۔۔۔ اور ایسی حالت میں معاشرے کے بہت کمزور لوگوں کو محفوظ رکھنا عملی طور پر شاید ممکن نہ ہو۔
دوسرے یہ کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ لوگ جنھیں کووِڈ-19 وائرس لگ چکا ہے انھیں دوبارہ بھی یہ انفیکشن لگ سکتا ہے اور یہ پھیل سکتا ہے، یہاں تک کہ ان میں دوسری مرتبہ انفیکشن لگنے کے بعد علامتیں ظاہر نہ ہوں --- جیسا کہ موسمِ سرما کے زمانے کے موسمیاتی وائرس میں ہوتا ہے۔ اگر اس قسم کی امیونیٹی وائرس کو مزید پھیلنے سے روک نہیں پاتی ہے تو ہرڈ امیونیٹی کبھی بھی وقوع پذیر نہ ہو۔
تیسرا یہ کہ ہرڈ امیونیٹی کے لیے ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اٹلی کے شہر برگمو میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ منوس شہر میں 500 سے 800 کے درمیان اموات اس وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔ کسی بیماری کے جراثیم سے انفیکٹ ہونا اور ہرڈ امیونیٹی پیدا کرنا ایک جُوا ہے ۔۔۔ اور یہ انسانوں کے لیے ایک نئے قسم کا جوا ہے۔
بعض اوقات انفیکشن کے اثرات کا ہمیں مہینوں یا برسوں تک علم نہیں ہوتا ہے۔ ایچ پی وی سے متاثر ہونے والے افراد کئی برسوں کے بعد بھی سروائیکل کینسر (بچہ دانی کے نچلے حصے کے کینسر) کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ حال ہی میں ایچ ایس وی-1 کا الزائمر یعنی بھولنے کی لاعلاج بیماری سے تعلق جوڑا گیا ہے۔
تازہ تحقیقات کے بعد پتہ چل رہا ہے کہ کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد میں لاتعداد قسم کی بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات ہیں --- جسے اب 'لانگ-کوِڈ' کا نام دیا جا رہا ہے۔
کوئی نہیں جانتا ہے کہ 'لانگ-کووِڈ' کے اثرات کب تک رہیں گے۔ دیگر علامتوں کے علاوہ تھکان محسوس کرنا، سانس چڑھ جانا، دماغ ماؤف ہونا، اور جوڑوں میں درد محسوس کرنا، یہ ایسے اثرات ہیں جو کہ ایسے 20 افراد میں سے ایک میں پیدا ہوتی ہیں جو کووِڈ-19 کے انفیکشن سے بیمار ہونے کے بعد بظاہر صحت مند ہوگئے ہوں۔ ابھی سے ایسے شواہد آرہے ہیں کہ اس وبا کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک ہمارے ساتھ رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک کے ابتدائی ڈیٹا کے مطابق 'لانگ-کووِڈ' سے 70 فیصد لوگ پہلی مرتبہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اپنے جسم کے کسی ایک یا ایک سے زیادہ اہم اعضا کی خرابی کا شکار ہورہے ہیں۔ 'لانگ-کووِڈ' میں دل، پھیپھڑے، گردے، جگر، لبلبہ اور تلّی وغیرہ میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
پچھلے پندرہ برس سارس نامی ایسی ہی ایک بیماری کے بعد ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو اس سے متاثر ہونے کے بعد ہسپتالوں میں داخل ہوئے تھے، ان کے بارے میں پتہ چلا کہ اگرچہ ان کے پھیپھڑے بہتر ہو گئے، اور وہ انفیکشن کے ایک برس بعد کافی ٹھیک ہوگئے تھے، لیکن ایک حد سے زیادہ ان میں بہتری نہیں ہوئی۔
اسی دوران مرس اور سارس انفیکشن سے متاثرہ افراد کے بارے میں ہونے والی تحقیقات اور ان کے کیسز کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان سے بچ جانے والے لوگوں کے لیے سخت جسمانی ورزش کرنا کافی مشکل ہوتا ہے اور صحت مند ہونے کے چھ ماہ بعد کوئی بہتری نہیں ہوتی ہے۔ ان میں نفسیاتی مسائل بھی کافی زیادہ پیدا ہوئے جو بعد تک موجود رہے ہیں۔ ایسی تحقیقات کرنے والوں کا خدشہ ہے کہ کووِڈ-19 سے متاثر ہونے والے افراد میں طویل المدتی مسائل پیدا ہوں گے۔
اگر یہ درست ہے تو تو قابلِ ترجیح یہ ہوگا کہ اس انفیکشن سے کم سے کم افراد متاثر ہوں۔ انسان کی مایوسی کی لمبی تاریخ کو دیکھا جائے تو انفیکشن سے بچنے کی غیر پسندیدہ حکمتِ عملیوں پر بھی آپ یہی کہیں گے کہ ہم کم سے کم یہی کرسکتے تھے۔
گھروں میں رہنا، دوسروں سے فاصلہ رکھنا، ماسک پہنے رہنا، اور ہاتھوں کو بار بار دھونا ہمارے لیے آسان ہونا چاہیے ۔۔۔ یقیناً مینڈک کی قے کے سفوف سے تیار کی گئی گولیوں کو چوسنے سے یا تمام دانت نکلوا دینے سے تو یہ بہتر ہے۔









