آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جانور آخر گنتی کیسے کرتے ہیں؟
- مصنف, اینڈریئس نیڈر
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
گذشتہ دہائی میں دریافت ہونے والی چیزوں میں ایک کلیدی بات یہ ہے کہ ہماری اعداد کو سمجھنے کی صلاحیت کی جڑ ہمارے حیواناتی پُرکھوں میں موجود ہے، نہ کہ ہماری زبان یا نُطق کے استعمال سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے جن میں انسان علم الاعداد کو استعمال کرتا ہے، ان اعداد کے بغیر تو انسان کی زندگی کا تصور محال لگتا ہے۔
لیکن ہمارے پُرکھوں کے لیے انسان بن جانے تک اعداد استعمال کرنے کی صلاحیت کے کیا فائدے تھے؟ سب سے پہلے تو یہ کہ جانور ان نمبروں کو کس طرح سمجھتے تھے؟
اب یہ معلوم ہوا ہے کہ اعداد کو سمجھنے کے طریقے کے زندہ بچ جانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے یہ صلاحیت کئی قسم کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ ایسی کئی تحقیقات جن میں جانوروں کا ان کے ماحول میں رہتے ہوئے مطالعہ کیا گیا ہے، بتاتی ہیں کہ یہ اعداد کو اپنے لیے خوراک کے ذرائع تلاش کرنے میں، اپنی تباہی سے بچنے کے لیے، اپنی سمتوں کا تعین کرنے میں اور اپنی سماجی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے میں، اسے استعمال کرتے ہیں۔
علم الاعداد پر قدرت رکھنے والی مخلوق کے ارتقا سے پہلے خوردبین سے دیکھا جانے والا خلیہ --- دنیا میں زندہ رہنے والا قدیم ترین حیات --- اعداد کی معلومات کو استعمال کرنا جانتی تھی۔ بیکٹیریا اپنے ارد گرد کے ماحول سے اپنی غذا کے انتخاب کر نے کے عمل سے زندہ رہتا ہے، زیادہ تر جب وہ اپنی نمو کے لیے اپنے آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ تاہم مائیکروبائیولوجی کے ماہرین نے حالیہ برسوں میں دریافت کیا ہے کہ بیکٹیریا کی بھی ایک اپنی معاشرتی زندگی ہوتی ہے اور دوسرے بیکٹیریا کی موجودگی اور عدم موجودگی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دیگر الفاظ میں وہ بیکٹیریا کے اعداد کو محسوس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مثال ہی کو لے لیجیے، سمندری زندگی کا وِبرو فیشری بیکٹیریا۔ اس میں ایک مخصوص قسم کی صلاحیت ہوتی ہے جو اسے ایک عمل کے ذریعے روشنی خارج کرنے کی اجازت دیتی ہے جسے حیاتیاتی تنویر (بائیولیومینینس) کہا جاتا ہے، جو کہ جگنو کے روشنی خارج کرنے کے عمل سے ملتا جلتا ہے۔
اگر یہ بیکٹیریا پانی کے کمزور محلول میں ہوں گے (جہاں یہ عموماً تنہا ہوتے ہیں) تو ان سے روشنی خارج نہیں ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ ایک خاص تعداد میں بڑھ جاتے ہیں تب یہ سارے کے سارے ایک ہی وقت میں روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس لیے وِبرو فیشری اس بات میں تمیز کرسکتے ہیں کہ کب وہ تنہا ہیں اور کب وہ ایک اجتماع میں ہیں۔
عقدہ یہ کھلتا ہے کہ وہ یہ سب جاننے کے لیے یہ ایک کیمیائی زبان استعمال کرتے ہیں۔ مواصلات کے لیے خفیہ مادّیزے ( مولیکیولز) اور ان مادّیزوں کا پانی میں ارتکاز ان کے خلیوں کے تناسب سے بڑھ جاتا ہے۔ اور جب یہ مادّیزے ایک خاص تعداد تک پہنچ جاتے ہیں جسے 'کورم' کہا جاتا ہے تو یہ دوسرے بیکٹیریا کو بتاتے ہیں کہ وہ اس ایک ہی جگہ کتنی تعداد میں ہیں، اور پھر تمام بیکٹیریا منور ہو جاتے ہیں۔
ان بیکٹیریا کا یہ رویہ 'کورم سینسنگ' (ضروری تعداد کا احساس) --- بیکٹیریا اشارہ دینے والے مادّیزوں کے ہمراہ ووٹ دیتے ہیں، پھر ان ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے، اور پھر اگر ایک تعداد (کورم) پوری ہوجاتی ہے تو ہر بیکٹیریا جواب دیتا ہے۔ وِبریو فیشری کا اس قسم کا رویہ غیر معمولی نہیں ہے --- تمام قسم کے بیکٹیریا اس قسم کی کورم سینسنگ کو اپنے خلیوں کی تعداد دوسرے بیکٹیریا کو بتانے کے لیے سگنل دینے والے مادّیزوں کو استعمال کرتے ہیں۔
کمال کی بات یہ ہے کہ کورم سینسنگ صرف بیکٹیریا تک محدود نہیں ہے --- دیگر جانور بھی اپنے معاملات کے لیے اس عمل کو استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جاپانی چیونٹیاں (مائرمیسینا نپونیکا) اپنی پوری آبادی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ کی جانب ہجرت کا فیصلہ اس وقت کرتی ہیں جو وہ اپنا ایک مخصوص کورم محسوس کرتی ہیں۔ اس طرح کے مکمل اتفاقِ رائے سے فیصلہ کر نے کی وجہ سے یہ چیونٹیاں اپنے ہمراہ اپنے بچوں کو بھی اپنی پوری آبادی کے ہمراہ نئی جگہ منتقل ہوتی ہیں بشرطیکہ کہ نئی جگہ پر ان چیونٹیوں کی ایک مخصوص تعداد پہلے سے موجود ہو۔ اس کے بعد وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ اب ان کے لیے اپنے بچوں کو نئی جگہ لے جانا محفوظ ہے۔
یورپ کا ایک چھوٹا کالے، سفید اور خاکی پروں والا 'جِکڈی' کہلانے والے پرندے اپنے نام کے مطابق 'چِک-اے-ڈی' کا الارم بجاتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اس الارم کے اختتام پر 'ڈی' کے نوٹس کی تعداد سے یہ خطرے کے درجے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے
علم الاعداد کا ادراک جانوروں کے لیے سفر کے دوران سمت کے تعین اور اپنی خوراک کی تلاش کی حکمت عملیوں کے دوران کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سنہ 2008 میں ماہرِ حیاتیات میری ڈیک اور مندیام سرینی واسم نے ایک بہت ہی زبردست اور مکمل طور پر کنٹرولڈ تجربہ کیا تھا جس میں انہوں نے دریافت کیا تھا کہ شہد کی مکھیاں اپنی خوراک تک پہنچنے کے لیے ایک ہوائی رستے میں مختلف مقامات پر اپنے نشانات بنا سکتی تھیں --- چاہے اُس ہوائی رستے کا محلِّ وقوع تبدیل ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔ شہد کی مکھیاں ہوائی رستوں کے ان نشانات سے خوراک کے ذریعے کا اپنے چھتّے تک کا فاصلہ ماپنے میں مدد لیتی ہیں۔ ان اعداد سے جائزہ لینا ان کے زندہ رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
جب خوراک کے حصول کے لیے مناسب حد تک بہترین حمکتِ عملی بنانے کا موقع آتا ہے، تو اس وقت زیادہ تر مزید خوراک کے حصول کا اصول اپنایا جاتا ہے، اور یہ واضح نظر آتا ہے جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن بعض اوقات اس عمومی اصول کے خلاف والی حمکتِ عملی بھی اختیار کی جاتی ہے۔ میدانوں میں رہنے والا چوہا چینوٹیوں کو خوراک کے طور پر پسند کرتا ہے، لیکن چیونٹیاں ایک خطرناک شکار بن جاتی ہیں اور کاٹتی ہیں جب وہ خطرہ محسوس کرتی ہیں۔ جب اس میدانی چوہے کو چیونٹیوں کی دو گروہوں کے درمیان چھوڑا جائے تو یہ حیران کن حد تک اس جانب شکار کے لیے جائے گا جس جانب چیونٹیوں کی تعداد کم ہوگی۔ ایک تحقیق کے مطابق، چوہے جو پانچ کے مقابلے میں 15، پانچ بمقابلہ 30 اور دس بمقابلہ 30 چیونٹیوں کے درمیان انہیں انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیشہ کم تعداد پر حملہ کرنے کو ترجحیح دی۔ میدانی چوہے چھوٹے گروہ کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ ایک آسان شکار کو یقینی بنا سکیں اور بار بار کاٹے جانے سے بچ سکیں۔
عددی اشارے اس وقت بھی خاص کردار ادا کرتے ہیں جب گروہ کی صورت میں شکار کیے جاتے ہیں۔ اس بات کا امکان کے بھیڑیے ہرن کا شکار کریں گے یا ایک بھینسے کا، اس کا انحصار اس بات پرہوگا کے شکار کرنے والے گروہ کا سائز کتنا بڑا ہے۔ بھیڑیے عموماً ہرن یا بھینسے جیسے بڑے جانور کا شکار کرتے ہیں، لیکن بڑا شکار انہیں دولتّی مار کر یا پاؤں تلے روند کر کسی کو ہلاک کر سکتا ہے۔ اس لیے ان میں ٹھہر کر حملہ کرنے کی ایک ترغیب ہوتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے کسی دوسرے بھیڑیے کو حملہ کرنے دیا جائے، ایسا خاص طور پر بڑے شکاری غولوں میں ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھیڑیوں کے شکار کے لیے ایک مناسب تعداد کے ارکان کے غول ہوتے ہیں۔ ایک ہرن کے کامیاب شکار کے لیے دو سے چھ بھیڑیوں کی تعداد مناسب ہوتی ہے۔ تاہم ایک بھینسے کے لیے جو کہ ایک طاقتور شکار ہوتا ہے، نو سے تیرہ بھیڑیوں پر مشتمل غول کامیاب شکار کی ضمانت ہوتا ہے۔ اس لیے بھیڑیوں کے لیے شکار کے دوران اعداد میں ایک طاقت ہوتی ہے، صرف اس حد تک کہ شکار کتنا مشکل ہے۔
وہ جانور جو یا تو کمزور ہوتے ہیں یا جو اپنا دفاع نہیں کر پاتے یں وہ عموماً اپنے سماجی طور پر قریبی گروہوں میں پناہ لیتے ہیں ---- زیادہ تعداد میں بچنے کے فائدے کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن عددی لحاظ سے ایک بڑے گروپ میں چھپ کر شکار ہونے سے بچنا ہی کوئی ایک حمکت عملی نہیں ہے۔
سنہ 2005 میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرینِ حیاتیات نے دریافت کیا کہ سیاہ سر والا یورپ کا 'چکڈی کہلانے والا پرندہ ایک عجیب و غریب طریقے سے اپنے ساتھی پرندوں کو شکار کرنے والے جانور کی موجودگی اور حملے کے خطرے کا سگنل دیتا ہے۔ کئی ایک جانوروں کی طرح چکڈی جب شکار کرنے والے جانور ، مثلاً عقاب، کا خطرہ دیکھتا ہے تو اپنے دیگر ساتھیوں کے لیے ایک خطرے کے الارم بجاتا ہے۔ تاک لگائے حملہ آور کے لیے یہ گانا گانے والے پرندے اپنے نام کے مطابق 'چِک اے ڈی' کا الارم بجاتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اس الارم کے اختتام پر 'ڈی' کے نوٹس کی تعداد سے یہ خطرے کے درجے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔
دو نوٹس والی آواز یعنی 'چِک-اے-ڈی-ڈی' یعنی دو مرتبہ 'ڈی' ایک کم خطرے، مثلاً کسی سیاہ مائل اُلُّو کے بارے میں ایک الارم ہے۔ سیاہ مائل اُلُّو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ تیزی سے پلٹ نہیں سکتے ہیں اور پھرتیلے چِک-اے-ڈی کو پکڑ نہیں سکتے ہیں، اس لیے وہ ایک سنگین خطرہ نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، چھوٹے اُلُّو کے لیے ان جنگلات میں پلٹنا اور جھپٹنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ہے، اسی لیے انہیں چھوٹے پرندوں کا سب سے خطرناک شکاری سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک چِک-اے-ڈی ایک چھوٹے اُلُّو کو دیکھتا ہے تو اس کی آواز میں 'ڈی' کے نوٹس کی تعداد بڑھ جاتی ہے یعنی 'چِک-اے-ڈی-ڈی-ڈی-ڈی' کی آواز کا الارم بجنے لگتا ہے۔ یہاں ان نوٹس کی تعداد سے یہ چھوٹے پرندے اپنی حفاظت کی مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کرتے ہیں۔
گروہ یا ایک گروہ کا سائز بھی اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب ایک رکن وسائل کا دفاع نہیں کر پاتا ہے --- اور اپنے گروہ کے ارکان کی تعداد کا حملہ آور گروہ کی تعداد کے مقابلے میں جائزہ لینے کی صلاحیت صورت حال کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔
دودھ دینے والے جانوروں کے بارے میں جنگلی ماحول میں کئی تحقیقات ہوئی ہیں، اور ان سب میں مشترکہ بات یہ نکلی ہے کہ عددی برتری ان کی لڑائی کے نتائج کا تعین کرتی ہے۔ ایک اہم تحقیق میں ماہرِ حیاتیات، کیرن میکامب اور یونیورٹی آف سسیکس میں ان کے ساتھیوں نے سیرینگٹی نیشنل پارک میں ایک ببر شیرنیوں کی زندگی میں اچانک کسی کی مداخلت پر اس کے قدرتی ردعمل کا مطالعہ کیا۔ تحقیق کرنے والوں نے یہجاننے کی کوشش کی کہ جنگلی جانور ایسی آوازوں پر ردعمل کرتے ہیں جو کہ کسی سپیکر سے پیدا کی جاتی ہیں اور یہ ایک خطرے کی آواز ہو۔ اگر اس طرح بجائی جانے والی کسی ایسے ببرشیر کی ہو جو کہیں اور سے آیا ہے اور اس ماحول کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے تو ببر شیرنی بہت جارحانہ انداز میں لاؤڈ سپیکر کو دشمن سمجھتے ہوئے اس کی جانب لپکے گی۔ اس آواز سے ان کے رویے کو سمجھنے والی تحقیق میں مصنفین نے اجنبی ببر شیرنیوں کے دھاڑنے کی معاندانہ مداخلت کی آوازیں اس علاقے کے رہنے والی ببر شیرنیوں کو سنائیں۔
ببر شیرنیاں مداخلت کرنے والی آواز کی جانب جارحانہ انداز میں اس وقت لپکیں جب اُنہوں نے اپنی تعداد کو حملہ آوروں کی تعداد سے زیادہ سمجھا --- جو کہ جانور کی اس صلاحیت کا ایک ثبوت ہے کہ وہ عددی معلومات پر غور کرتے ہیں
اس تحقیق کے دوران ببر شیرنی کے سامنے دو قسم کے حالت پیش کیے گئے تھے: یا تو ایک ببر شیرنی کے دھاڑنے کی آواز یا تین ببر شیرنیوں کے ایک گروہ کے اکھٹا دھاڑنے کی آوازیں۔ تحقیق کرنے والے یہ جاننا چاہتے تھے کہ حملہ آوروں کی تعداد سے حملے کا شکار ہونے والوں کی تعداد سے ان کی اپنے دفاع کی حمکت عملی پر کوئی اثر نظر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ نکلی کہ ایک تنہا ببر شیرنی مداخلت کرنے والی ببر شیرنی یا تین ببر شیرنیوں کی جانب لپکنے کے بجائے ان دھاڑوں پر اپنے ردعمل میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ تاہم مداخلت کے خلاف دفاع کرنے والی تین ببر شیرنیاں مداخلت کرنے والی ایک ببر شیرنی کی دھاڑنے کی آوازوں کی جانب لپکیں، لیکن جب مداخلت کرنے والی تین ببر شیرنیوں کی آوازیں اکھٹا بجائی گئیں تو وہ ان پر حملے کے لیے نہ لپکیں۔
ظاہر ہے کے اپنے تین مُخالفین سے لڑائی کی صورت میں اپنے زخمی ہوجانے کے امکانات انہیں روکے ہوئے تھے۔ اگر اس جگہ رہنے والی ببر شیرنیوں کی تعداد پانچ سے زیادہ ہوتی تو یہ حملہ آور تین ببر شیرنیوں کی دھاڑنے کی آواز کی جانب لپکتیں۔ دیگر الفاظ میں اس جگہ کی رہائشی ببر شیرنیوں نے صرف اُس وقت حملہ آور ببر شیرنیوں کی دھاڑ سن کر حملہ کرنے کا سوچا جب ان کی اپنی تعداد زیادہ تھی ---- یہ بھی ایک اور مثال ہے کہ جانور اعداد کے بارے معلومات کو اپنی حساب میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انسان سے قریب ترین ممثلت رکھنے والا جانور، چمپانزی، بھی اسی سے ملتا جلتا رویہ دکھاتے ہیں۔ سپیکروں سے خطرے کی آوازیں بجانے کی ترکیب کے ذریعے ہارورڈ یونیورسٹی کے مائیکل وِلسن اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ چیمپانزیوں نے فوجی ماہرین جیسا ردعمل دکھایا۔ انہوں نے جبلتی طور پر اُسی طرح کے فارمولوں پر کام کیا جو فوجی اپنے مخالف کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے کرتے ہیں۔ خاص کر چمپانزی تو لنکاسٹر کے 'سکوئر لا' کے نمونے پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ اس ماڈل سے جب دو متحارب گروہوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہو تو اس بات کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ آیا چمپانزی دشمن کے مقابلے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ عموماً چمپانزی اپنے دشمن کے مقابلے میں اپنی تعداد ڈیڑھ گنا دیکھتے ہیں تو وہ لڑائی لڑتے ہیں، خاص کر جنگلی چمپانزی ایسا ہی کرتے ہیں۔
سائینسی لحاظ سے زندہ رہنا ہی اپنے مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے، اور اس کا اصل مقصد اپنے جینز (اپنی نسل) کو فروغ دینا ہے۔ کھانوں میں پائے جانے والے کیڑوں (ٹینیبریو مولیٹور) میں، کئی ایک نر کئی ماداؤں کے ساتھ جماع کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ بہت ہی سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ اس لیے ایک نر کیڑا کئی ایک مادہ کیڑوں کی طرف جائے گا تاکہ وہ اپنے جماع کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر سکے۔ جماع کرنے کے بعد یہ نر کیڑا مادہ کیڑوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ دوسرے نر کیڑوں کے ساتھ جماع نہ کر پائیں۔ ایک نر کیڑا جتنے زیادہ دوسرے نر کیڑوں کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے تصادم کر چکا ہو گا وہ اتنے ہی زیادہ عرصے تک مادہ کیڑے کے ساتھ جماع کے بعد اس کی حفاظت کرے گا۔
یہ ظاہر ہے کہ اس طرح کا رویہ نسل کشی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے اس کی حالات کے مطابق ڈھل جانے کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اعداد کا اندازہ لگانے کی صلاحیت سے نر کیڑے کی جماع کرنے کی صلاحیت میں مقابلہ کرنے کی طاقت بڑھتی ہے۔ شاید یہی مزید پیچیدہ قسم کے اعداد کو سمجھنے کے معاملات کی صلاحیت ان کے ارتقائی سفر میں ان کی رہنمائی کرتی ہو۔
شاید کوئی یہ سمجھے کہ کامیاب جماع سے ہر بات جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بات بعض جانوروں کے لحاظ سے حقیقت کے خلاف ہے، جن کے لیے اصل انعام ان کے مادّہِ تولید کا مادہ کیڑے کے انڈے کے ساتھ بار آور ہونا ہوتا ہے۔ جب ایک نر کیڑا اس عمل میں جماع کے کھیل میں اپنا کردار ادا کر چکا ہوتا ہے تو اس کا مادّہِ منویت مادہ کیڑے کے انڈوں کے ساتھ بھی بار آور ہونے کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ علم حیاتیات میں نسل کشی سب سے اہم مقصد ہوتا ہے، مادّہِ منویت کا بار آور ہونے کے لیے مقابلہ ان کے رویے میں کئی اقسام کی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔
کیڑوں اور کشیروں (ریڑھ کی ہڈی والے جانور) دونوں کے نر کے مقابلے کے حجم کا اندازہ لگانے کی صلاحیت اس کے جماع کے دوران انزال کے سائز اور اس کی تشکیل طے کرتی ہے۔ مثال کے طور پر بچھو کی چھوٹی قسم، کورڈیلوکرینز سکورپیوآئیڈز، میں متعدد نر بچھو ایک مادہ بچھو سے جماع کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پہلے نر کے جماع سے خارج ہوبنے والے مادّہِ منویت کے مادہ کے انڈوں سے مل کر بار آور ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ بعد میں جماع کرنے والے نر بچھوؤں کے بچے پیدا کرنے کے امکانات کم سے کم ہونا شروع جاتے ہیں۔ تاہم مادّہِ منویت کا اخراج کافی مہنگا ہوتا ہے، لیکن مادّہِ منویت کی قدر اس کے انڈے سے مل کر بار آور ہونے کا امکانات کی بدولت کی جاتی ہے۔
نر اپنے مد مقابل نر بچھوؤں کو سونگتا ہے جو اس سے پہلے ایک مادہ سے جماع کر چکے ہوتے ہیں اور پھر اپنے مادہ منویت کے اخراج کو مختلف نر بچھوؤں کی بو سونگنے کے ذریعے بدلتے جاتے ہیں، ان کے لیے اس تبدیلی کو سونگنے کے صفر سے تین تک کے درجے ہوتے ہیں۔
سار کہلانے والا مادہ پرندہ اُن میزبان گھونسلوں کی نگرانی کرتی ہے کہ کن کن جگہوں پر وہ گئی تھی اور وہاں اس کے پہلی مرتبہ جانے کے بعد انڈوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے
پرندوں کی کچھ اقسام ایسی بھی ہیں جنھوں نے کچھ ایسے حیلے اور طریقے دریافت کر لیے ہیں کہ وہ انڈوں کو سینچنے اور ان سے نکلنے والے چوزوں کو پالنے کا کام کسی اور پرندے سے کرواتے ہیں۔ آخر ایک نسل کو پیدا کرنا اور پھر ان کی پرورش کرنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ یہ اپنے انڈے دوسروں کے گھونسلوں میں دے کر انہیں دوسرے پرندوں سے وہیں سینچواتے ہیں اور انڈے سے نکلےہوئے نئے چوزے کو انہی سے خوراک کھلواتے ہیں اور پرورش بھی انہی سے کروا کر مفت میں اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔ یعنی مفت خوری کرتے ہیں۔ قدرتی بات ہے کہ میزبان گھونسلے والے اس بات پر خوش نہیں ہوتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنا استحصال نہ ہونے دیں۔ اور اس سلسلے میں میزبان گھونسلے والے پرندوں کے پاس جو حکمت عملی ہوتی ہے وہ یہ کہ وہ اپنے انڈوں کو گنیں۔
مثال کے طور پر امریکی مرغابی اپنے ہمسائیوں کے گھونسلوں میں انڈے دینے کی کوشش کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ وہ اس کے چوزوں کو پالیں پوسیں گے۔ ظاہر ہے کہ اُس کے ہمسائے کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس دھوکے سے بچیں۔ مرغابیوں کی اپنی قدرتی حالت کی زندگی کے بارے میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جس جگہ مرغابی نے انڈہ دینا ہوتا ہے اس گھونسلے کے رہنے والے پرندے اپنے انڈوں کو گنتے رہتے ہیں اور اگر ان میں کسی ایک کا اضافہ ہو جائے تو وہ اسے رد کردیتے ہیں۔ اس لیے مرغابیاں اپنے انڈوں کی تعداد کو دیکھتی ہیں اور دوسروں کے انڈوں کو نظر انداز کردیتی ہیں۔
اور اس طرح کی عیارانہ مفت خوری کی قسم سار کہلانے والے پرندوں میں پائی جاتی ہے، جو ایک شمالی امریکہ کا ایک گیت گانے والا پرندہ ہے۔ اس قسم کے پرندے میں مادہ پرندہ دیگر قسموں کے پرندوں کے گھونسلوں میں جا کر اپنے انڈے دیتی ہے، ان میں چھوٹے سے پرندے سے لے کر مینا جیسے بڑے پرندے کے گھونسلے تک ہو سکتے ہیں۔ اور پھر انہیں اتنا عقلمند ہونا ہوتا ہے کہ ان کی نسل کی پرورش بہتر اور مستقبل روشن ہو۔
سار کے انڈے پورے بارہ دنوں میں سینچے جاتے ہیں، اگر صرف گیارہ دن گزریں تو اس میں چوزہ بنتا نہیں ہے اور وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سار کے انڈوں کے میزبان گھونسلے ان پرندوں کے ہوتے ہیں جن کے ہاں انڈے سینچنے کے دن گیارہ سے سولہ دن ہوتے ہیں، اور اوسطاً بارہ دن بنتے ہیں۔ گھونسلے کے میزبان پرندے فی دن ایک انڈہ دیتے ہیں --- جب ایک دن بغیر انڈہ دیے گزرجاتا ہے اور گھونسلے میں نئے انڈے کا اضافہ نہیں ہوتا ہے تو پھرمیزبان گھونسلے کا پرندہ انڈوں پر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈے کے اندر چوزہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔ سار کی مادہ کے لیے نہ صرف یہ اہم ہوتا ہے کہ وہ کوئی مناسب گھونسلہ تلاش کرے بلکہ یہ بھی کہ وہ بالکل اسی وقت پر انڈہ دے جو مناسب وقت ہو۔ اگر سار میزبان گھونسلے والے پرندے سے پہلے انڈہ دے دے گی تو پھر خطرہ یہ ہو گا کہ اس کا انڈہ پکڑا جائے گا اور تباہ کردیا جائے گا۔ لیکن اگر اُس نے اپنا انڈے تاخیر سے دیا تو اس کے انڈے میں چوزہ نکلنے سے پہلے ہی سینچنے کا وقت گزر چکا ہوگا۔
یونیورسٹی آف پینسیلوینیا کے ڈیوڈ جے وائیٹ اور گریس فریڈ-براؤن کا خیال ہے کہ مادہ سار میزبان پرندے کے گھر میں اس کے ہاں انڈوں کی تعداد کو دیکھتی رہتی ہے اور پھر اس کے سینچنے کے وقت کے مطابق اپنے انڈہ دینے کے وقت کو میزبان گھونسلے کے پرندے کے وقت کے مطابق ڈھالتی ہے۔ یہ اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ میزبان گھونسلے کے پرندے کے ہاں ابھی انڈے سینچنے کا وقت شروع نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سار کو ایسے گھونسلے کی تلاش ہوتی ہے جہاں اُس کے پہلی مرتبہ جانے کے بعد ہر دن کے گزرنے کے ساتھ ایک انڈے کا اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر سار دیکھے کے میزبان گھونسلے میں پہلی مرتبہ جانے کے موقع پر ایک انڈہ نظر آیا تو وہ اپنا انڈہ اس وقت وہاں رکھے گی جب میزبان گھونسلے میں تیسرے دن تین انڈے موجود ہوں گے۔ اگر اس گھونسلے میں اس کے پہلی مرتبہ وہاں جانے سے لے کر اب تک جتنے دن گزر چکے ہوں اور اُس سے کم انڈے ہوں گے تو تو وہ سمجھ جائے گی کہ انڈے سینچنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، تو پھر وہاں اس کے اپنے انڈے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ ناقابلِ یقین حد تک سوچنے اور عددی کام کرنے کا پیچیدہ کام ہے کیونکہ مادہ سار کو دن میں کئی مرتہ اس میزبان گھونسلے کے چکر لگانا پڑتے ہیں، گھونسلے میں انڈے رکھنے کی جگہ کے سائز کو یاد رکھیے گا، انڈوں کی تعداد میں پچھلی مرتبہ سے اب تک کی تبدیلی کا جائزہ، دنوں کے گزرنے کی تعداد کو یاد رکھنا، اور پھر ان اعداد کا اس طرح جائزہ لینا کہ آیا اسے یہاں انڈہ دینا ہے یا نہیں۔
لیکن بات صرف یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے۔ ماں سار اپنی اس منصوبہ بندی کو مزید پکا کرنے کے لیے اور بھی زیادہ چالاکیاں دکھاتی ہے۔ وہ ان جگہوں کی نگرانی کرتی ہے کہ اس نے کہاں کہاں انڈے دیے ہوئے ہیں۔ اپنے ان انڈوں کی حفاظت کے لیے سار پرندے مل کر مافیا گینگسٹروں کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ اگر سار کو پتہ چلے کہ ان کے انڈے میزبان گھونسلے میں تباہ کیے جا چکے ہیں یا انہیں وہاں سے ہٹایا جا چکا ہے تو وہ میزبان گھونسلے کے پرندے کے اپنے انڈوں کو تباہ کرکے انتقام لیتی ہے، ان کے انڈوں میں سوراخ کردیتی ہے یا انہیں گھونسلے سے نکال کر نیچے گرادیتی ہے۔ میزبان گھونسلے والے پرندے کی عافیت اسی میں ہوتی ہےکہ وہ سار کے انڈے سینچےاور ان کے چوزوں کو بھی فیڈ کرے، ورنہ ان کو بھاری قیمت دینا پڑے گی۔ میزبان والدین پرندوں کے لیے شاید، حالات سے سمجھوتا کرنے کے لحاظ سے یہ بہتر ہوتا ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کرلیں کہ وہ کسی دوسرے پرندے کا انڈا سینچ رہے ہیں۔
سار ایک زبردست مثال ہے کہ کس طرح ارتقائی عمل نے کچھ انواع کو اپنے جینز کو کس طرح فروغ دینے کے قابل بنایا ہے۔ موجودہ ارتقائی عمل میں بہتر راہ کے انتخاب کرنے کا دباؤ، چاہے یہ ماحول کے غیر مرئی اثرات ہیں یا دیگر جانوروں کا دباؤ، ان پرند و چرند کی آبادی کو مجبور کرتا ہے کہ یا تو وہ اپنے جینز کو برقرار رکھیں یا اپنے میں تبدیلی پیدا کریں جیسا ان کے حالات کا تقاضہ ہو۔ اگر اعداد انہیں زندہ رہنے اور اپنی نسل کو پھیلانے کی اس جد و جہد میں انہیں مدد دیتے ہیں تو وہ یقیناً اس کی قدر کریں گے اور اس پر بھروسہ کریں گے۔
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مختلف مخلوقات میں اعداد کی مہارت کتنی زیادہ پھیلی ہوئی ہے: اس کا ارتقا ہوا ہے کیونکہ ان کے آباؤ اجداد نے دریافت لیا تھا اور پھر اگلی نسلوں میں منتقل کردیا، یا اسے زندگی پانے والے تمام پرند و چرند میں ایجاد کیا گیا تھا۔
اس کے ارتقائی سفر کے اصل سے ہٹ کر ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے --- اعداد کو سمجھنے کی قدرت ڈھل جانے والی صلاحیت ہے۔