کئی ممالک کی پولیس کو سالوں چکمہ دینے والے ماہی گیر قزاق

بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہSea Shepherd

،تصویر کا کیپشنبحری جہاز ’اینڈری ڈوگلوویا ایس ٹی ایس-50‘ برسوں تک بحرِ جنوب میں غیرقانونی ماہی گیری کرتا رہا
    • مصنف, رچرڈ گرے
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

یہ اپریل کی ایک ابر آلود سہ پہر کی بات ہے جب اینڈری ڈوگلوو نامی ایک زنگ آلودہ بحری جہاز کو آخری مرتبہ گہرے سمندر میں اپنے پیچھے لگی سرکاری کشتیوں سے فرار ہوتے دیکھا گیا تھا۔

جوں جوں اس کے گرد دائرہ تنگ ہو رہا تھا توں توں جہاز پر سوار لوگوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی اور وہ جس حد تک ممکن اسے تیز بھگا رہے تھے۔

اس افراتفری میں جہاز اتنے ہچکولے کھا رہا تھا کہ اس کے پیندے میں جمع گندا تیل مسلسل سمند میں گر رہا تھا۔

اس افراتفری کی وجہ وہ سبک رفتار اور اسلحے سے لیس نیوی کا جدید چھوٹا بحری جہاز تھا جو اس بے ڈھنگے پُرانے جہاز کا پیچھا کر رہا تھا۔ اس مرتبہ اس کے فرار ہو جانے کے امکانات بہت کم رہ گئے تھے۔

نیوی کی مدد کے لیے فضا میں ایک ڈرون اور چھوٹا طیارہ بھی موجود تھے۔ جب فرار کے تمام راستے مسدود ہو گئے تو اینڈری ڈوگلوو پر سوار لوگوں نے خود کو انڈونیشیا کی بحریہ کے حوالے کرنے میں ہی عافیت جانی۔

یہ بھی پڑھیے

اب بھی سوچیں تو یقین نہیں آتا کہ وہ زنگ آلودہ جہاز جس کے انگ انگ سے شور سنائی دیتا تھا، اصل میں حکام کو سب سے زیادہ مطلوب بدمعاش جہاز تھا۔

اس کے باوجود جدید آلات سے عاری یہ جہاز کئی مواقع پر اپنا پیچھا کرنے والے جہازوں اور جدید موٹر کشتیوں کو دھوکہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

ٹُوتھ فِش

،تصویر کا ذریعہChristopher Jones/NOAA

،تصویر کا کیپشنٹُوتھ فِش دنیا بھر کے ریستورانوں میں ملتی ہے اور اسے عموماً چلی کی سی بیس کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے

اینڈریو ڈوگلوو پر سوار قزاقوں نے اسے ’سی بریز ون‘ کا نام دے رکھا تھا اور یہ لوگ کئی برسوں سے سمندر سے برآمد ہونے والا وہ زندہ خزانہ لوٹ رہے تھے، جسے ہم مچھلی کہتے ہیں۔

یہ قزاق اکیلے نہیں تھے بلکہ یہ لوگ ایسے بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے جس نے سرکاری حکام کی بدعنوانی اور مبہم سمندری قوانین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔

جس ڈرامائی کارروائی میں آخر کار اس جہاز کو پکڑا گیا، اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام گیا تھا۔ کئی ماہ پر محیط ان مشترکہ کوششوں میں جو کردار پولیس، سمندی نگرانی کے ذمہ دار حکام اور سراغ رسانوں نے ادا کیا اور جس طرح مصنوعی سیاروں کی مدد سے اس جہاز کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی گئی، ان سب کو سامنے رکھیں تو یہ کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہیں لگتا۔

اس جہاز کو پکڑنے کے لیے انڈونیشیا کے صدر نے جو ٹاسک فورس بنائی تھی اس کے ایک رکن اینڈراز ادتیا سلیم بھی تھے اور انھوں نے اس کارروائی میں مرکزی کردار ادا کیا جس میں اینڈریو ڈوگلوو کو جال میں پھانسا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب جہاز کو پکڑا گیا تو اس کا کپتان اور عملہ حیران ہو گیا۔ وہ کہنے لگے کہ وہ تو مچھلیاں نہیں پکڑ رہے تھے اور نہ ہی جہاز پر کوئی فریج ہے جس میں وہ پکڑی ہوئی مچھلیاں رکھ سکتے اور یہ کہ ان کے جہاز کے کئی حصے بھی ٹوٹے پھوٹے ہیں۔

جب انڈونیشیا کے افسران آبنائے ملاکہ میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد جہاز پر پہنچے تو انھیں وہاں ماہی گیری کے لیے استعمال کیے جانے والے چھ سو باریک جال ملے جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 18 میل بنتی تھی۔ یاد رہے کہ آبنائے ملاکہ وہ سمندری راستہ ہے جو جزیرہ نما مالے کو انڈونیشیا کے سماٹرا کے ساحل سے ملاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندر میں ایک پھیرے میں یہ لوگ اتنی مچھلی پکڑ لیتے تھے جس کی مالیت ساٹھ لاکھ ڈالر تک ہوتی تھی۔ غیر قانونی طور پر پکڑی جانے والی مچھلی یہ لوگ اس قانوی طور پر پکڑی جانے والی مچھلی میں ملا کر فروخت کر رہے تھے جو دوسرے ماہی گیر پکڑتے تھے یا یہ لوگ اسے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیتے تھے۔

بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہSea Shepherd

،تصویر کا کیپشنجب اسے تحویل میں لیا گیا تو جہاز پر سے کئی کلومیٹر لمبے جال بھی برآمد ہوئے

یہ مچھلی پھر کئی ممالک کی بڑی بڑی دوکانوں اور سٹورز پر فروخت ہو جاتی اور یوں ہمارے کھانے کی میزوں تک پہنچ جاتی۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ہمپٹن سے منسلک، سمندری حیات کی ماہر کیٹی سینٹ جان گلو کہتی ہیں کہ ’دنیا بھر میں شکار کی جانے والی مچھلی میں سے بیس فیصد ایسی ہوتی ہے جو غیرقانونی ہوتی ہے، جس کا کہیں اندراج نہیں ہوتا یا وہ قانون کے دائرے سے باہر ہوتی ہے۔‘

’اس کے اثرات دور دور تک جاتے ہیں جس سے سمندر میں مچھلی کی مقدار، ماہی گیر کی صنعت اور صارفین کے اعتماد، سب پر بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر اس قسم کی غیر قانونی ماہی گیری سے آخر کار سمندر میں مچھلی کی کل مقدار کو دھچکہ پہنچتا ہے تو اس سے دنیا بھر کے ماہی گیروں کا روزگار بھی تباہ ہو سکتا ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق دس سال کے عرصے میں اینڈری ڈوگلوو پر سوار گروہ نے جتنی مچھلی مختلف سمندروں سے لُوٹی ہے اس کی مالیت پانچ کروڑ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ اس رقم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجرموں کے گروہوں کے لیے غیر قانونی ماہی گیری کتنا پرکشش دھندہ ہے۔

بین الاقوامی پولیس، انٹرپول کے غیر قانونی ماہی گیری کے انسداد کے لیے کام کرنے والے شعبے سے منسلک الیسٹر میکڈونلڈ کے بقول اینڈری ڈوگلوو جیسے بحری جہاز ’ان بین الاقوامی پانیوں سے مچھلی پکڑتے ہیں جو کسی ملک کی سمندری حدود میں نہیں آتے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا یہ مجرم ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

لیکن اس غیر قانونی کام کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں اور اس میں پیسہ بنانے والوں میں صرف مجرم گروہ ہی شامل نہیں ہوتے۔

اس میں سرکاری حکام کی بدعنوانی بھی شامل ہوتی ہے، فراڈ ہوتا ہے، کالے دھن کو سفید کرنے کا عمل ہوتا ہے اور یہاں تک کہ اس میں غلامی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ اس قسم کے غیرقانوی جہازوں پر کام کرنے والے لوگوں میں سے اکثر سے زبردستی مزدوری کرائی جاتی ہے اور انھیں اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور سمندر میں جہاز پر ہی قید رکھا جاتا ہے۔

غیرقانونی ماہی گیری کے قدرتی ماحول پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہSea Shepherd

،تصویر کا کیپشناس جہاز کا تعلق روس کے کچھ گروہوں سے بھی رہا ہے جو اسے غیرقانونی ماہی گیری کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں

عالمی ادرۂ خوراک کے فشریز کے شعبے کے سربراہ میتھیو کیملری کہتے ہیں ’سمندروں میں مچھلی کی مقدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو سب سے زیادہ خطرہ غیرقانونی ماہی گیری سے ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ جس قسم کے جال اور آلات استعمال کرتے ہیں وہ سمندری نباتات کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری پوری کوشش کر رہی ہے کہ غیرقانونی ماہی گیروں پر قابو پایا جائے۔‘

اینڈری ڈوگلوو کی کہانی

غیرقانونی ماہی گیری میں استعمال کیے جانے والے بحری جہاز اینڈری ڈولگوو نے اپنی زندگی کا آغاز اس کام سے نہیں کیا تھا۔

کوۂ فِجی کے دامن میں واقع جاپان کے شِمیزو کے ساحل پر واقع شِپ یارڈ میں جب اس 54 میٹر طویل جہاز کو سنہ 1985 میں بنایا گیا تھا تو اس کا مقصد ایک ایسا طویل بحری جہاز بنانا تھا جو خاص طور پر ٹُونا فِش پکڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جب اس 570 ٹن وزنی جہاز کو پہلی مرتبہ سمندر میں اتارا گیا تو اسے شِنسی مارو نمبر 2 کا نام دیا گیا۔ اگلے کئی برس تک اس پر جاپان کا قومی پرچم لہراتا رہا اور اس دوران یہ بحرِ اوقیانوس اور بحر ہند کے پانیوں میں قانونی ماہی گیری کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

اور اس کے بعد یہ جہاز سنہ 1995 تک مختلف کمپنیوں کی ملکیت میں رہا۔ اس کے بعد سنہ 2008 تک یہ فلپائن کی ایک کمپنی کے ہاتھ میں رہا اور پھر اسے جنوبی کوریا نے خرید کر اپنے ماہی گیری کے بحری بیڑے میں شامل کر لیا۔ اگلے صرف ایک سال کے کم عرصے میں کم از کم چار مرتبہ اس کی ملکیت تبدیل ہوئی جس دوران یہ مسٹر بُو-اِن پارک کی تحویل میں بھی رہا اور ایس ٹی ڈی فشریز کارپوریشن کی ملکیت بھی رہا۔

لگتا ہے کہ سنہ 2008 اور 2015 کے درمیانی عرصے میں کسی وقت اس جہاز پر کچھ نئی چیزیں بھی لگائی گئیں اور اسے قطب جنوبی کے سمندر میں پائی جانے والی مچھلی ٹُوتھ فِش کو طویل عرصے تک جہاز پر سٹور کرنے کے قابل بنا دیا گیا۔

بحرِ جنوب میں پائی جانے والی یہ سفید مچھلی بہت مہنگی ہوتی ہے اور اسے بعض اوقات "سفید سونا' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مچھلی پکڑنے کے لیے کچھ خصوصی اجازت نامے یا لائسینس درکار ہوتے ہیں۔

سیٹلائٹ

،تصویر کا ذریعہOceanMind

،تصویر کا کیپشنمصنوعی سیاروں سے موصول ہونے والی تصاویر سے سمندروں میں جہازوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے

اگرچہ خیال یہی ہے کہ اس جہاز کو کم سے کم دس برس تک غیرقانونی ماہی گیری میں استعمال کیا جاتا رہا، تاہم یہ عالمی سطح پر حکام کی نظروں میں پہلی مرتبہ اکتوبر 2016 میں اس وقت آیا تھی جب چینی حکام نے دیکھا کہ اس سے غیرقانونی طور پر پکڑی جانے والی ٹُوتھ فِش اتاری جاری رہی ہے۔

اس وقت تک اس کا نام اینڈری ڈوگلوو رکھا جا چکا تھا، اس پر کمبوڈیا کا پرچم لہرا رہا تھا اور یہ جہاز وسطی امریکی ملک بلیز کی ایک کمپنی کے زیرِ استعمال تھا۔

اس سے ایک ہی سال قبل اس کی ایک تصویر اس وقت اتاری گئی تھی جب یہ جہاز چِلی کے سمندر میں مٹر گشت کر رہا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تک اسے بحرِ جنوب میں سفید سونا جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

لیکن اس سے پہلے کہ چینی حکام اس کے خلاف اگلا قدم اٹھاتے، جہاز پر سوار لوگ اسے بھگا کر بحرِ ہند میں لے جا چکے تھے۔ تاہم اس مرتبہ اتنا ضرور ہوا کہ اس جہاز کو آئی یو یو قرار دے دیا گیا، یعنی ایک ایسا بحری جہاز جو حکومتی اجازت نامے کے بغیر غیرقانونی ماہی گیری میں ملوث ہے اور اس کا کہیں اندراج بھی نہیں ہے۔

اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جب اس جہاز نے ماریشیس کے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی کوشش کی تو حکام نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اور پھر جنوری 2017 تک نہ صرف اس کا نام تبدیل کر کے ’سی بریز ون' رکھا جا چکا تھا بلکہ اس پر ٹوگو کا پرچم لگا دیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں ٹوگو نے جہاز کا نام اپنی سرکاری دستاویزات سے خارج کر دیا تھا لیکن پھر بھی یہ جہاز ایک ساحل سے دوسرے کی طرف سفر کرتا رہا اور اس کا نام ایک مرتبہ پھر بدل کر ’اے وائی ڈی اے‘ رکھ دیا گیا۔

اس عرصے میں یہ جب بھی کسی ساحل پر پہنچتا تو عملہ ہمیشہ کوئی جعلی دستاویز دکھا کر جہاز کی اصلی شناخت چھپا لیتا اور یہ دعویٰ کرتا کہ اصل میں اس جہاز کا تعلق آٹھ مختلف ممالک سے ہے جن میں ٹوگو، نائجیریا اور بولِویا بھی شامل ہیں۔

مسٹر میکڈونلڈ بتاتے ہیں کہ یہ اس قسم کے کام کرنے والوں کا یہ عام حربہ ہے۔ ’یہ لوگ بار بار جعلی رجسٹریاں بنوا لیتے ہیں اور یوں جہاز کی اصلی شناخت کے حوالے سے حکام کو دھوکہ دیتے ہیں۔‘

بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہSea Shepherd

،تصویر کا کیپشناس جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے سرکاری حکام دو مرتبہ دور سمندر میں گئے مگر کامیابی نہیں ہوئی

کسی ملک کے ساحل سے دو سو میل تک کی حدود سے آگے ماہی گیری کے صرف ایسے جہاز جا سکتے ہیں جن پر اس ملک کا قومی پرچم لہرا رہا ہوتا ہے لیکن غیرقانونی ماہی گیری کرنے والے جہازوں پر ایسے ملکوں کے پرچم ہوتے ہیں جنہیں اس علا قے میں ماہی گیری کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ماہی گیری کے کسی بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس قسم کے جہازوں پر آئے روز پرچم بھی بدلتے رہتے ہیں اور یہ لوگ ان ممالک کے مصدقہ ماہی گیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو ان سے اپنا تعلق توڑ چکے ہوتے ہیں۔

اور پھر آخر کار حکام اینڈری ڈوگلوو کا پیچھا کرتے کرتے فروری 2018 میں اس وقت میڈاگاسکر کے ساحل پر پہنچ گئے جب جہاز کے کپتان نے حکام کو ایک مرتبہ پھر جعلی دستاویزات پیش کیں۔ میڈاگاسکر کی حکومت نے اس کی اطلاع اس تنظیم کو دے دی جو بحرِ جنوب میں ماہی گیری کی نگرانی کرتی ہے۔

لیکن ایک مرتبہ پھر جہاز کا عملہ اسے میڈاگاسکر کے ساحل سے فرار کرنے میں کامیاب ہو گیا، تاہم اس مرتبہ وہ کچھ ایسے نشان چھوڑتے گئے جن سے معلوم ہو سکتا تھا کہ جہاز گیا کہاں۔

اس وقت تک اس جہاز میں ایسا خودکار نظام نصب ہو چکا تھا جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دور سمندر میں مختلف جہازوں کو معلوم ہوتا رہے کہ کون سا جہاز کس جانب سے آ رہا ہے تاکہ جہاز آپس میں ٹکرا نہ جائیں۔

جہازوں کی شناخت کے اس نظام کو آٹو میٹک آئیڈنٹیفیکیشن سسٹم یا اے آئی ایس کہا جاتا ہے۔ اس سے ایسے ریڈیائی سگنل نکلتے ہیں جنہیں زمین پر بھی ریڈیو کی مدد سے سنا جا سکتا ہے اور خلائی سیاروں کے ذریعے بھی۔

لیکن اس کے باوجود بھی ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ جب حکام نے اِس جہاز کا شناختی نمبر اپنے نظام میں ڈالا تو ان کے سامنے جہاز کے سفر کا جو نقشہ آیا وہ دنیا بھر کے سمندروں پر پھیلا ہوا تھا اور کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر یہ کن پُرپیچ راستوں پر سفر کرتا رہا ہے۔

نقشے کے مطابق حکام کو بیک وقت یہ جہاز فاک لینڈز، فِجی اور ناروے کے پانیوں میں دکھائی دے رہا تھا جبکہ حقیقت میں یہ تینوں مقامات ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور ہیں۔

بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کی حکومت غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف سخت اقدامات کی شہرت رکھتی ہے

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک برطانوی غیر سرکاری تنظیم اوشن مائینڈ سے منسلک تجزیہ کار چارلس کِلگور کہتے ہیں کہ اصل میں جہاز کا عملہ اپنے شناختی سگنل میں چھیڑ چھاڑ کر کے حکام کو دھوکہ دے رہا تھا۔ یہ لوگ ایک ایسی ٹیکنیک استعمال کر رہے تھے جس سے اینڈری ڈوگلوو ایک ہی وقت میں آپ کو سمندر میں تقریباً ایک سو مختلف مقامات پردکھائی دے رہا تھا۔

اینڈری ڈولگوو کا تعاقب

لیکن پھر اچانک ہی حکام کو سکرین پر ایک نیا اشارہ ملا جس کے مطابق جہاز موزمبیق کے دارالحکومت مپوتو کے ساحل کے قریب دکھائی دیا۔ موزمبیق کے معائنہ کار فوراً جہاز تک پہنچ گئے جہاں انھیں مچھلیاں پکڑنے والے جال بھی دکھائی دیے اور رجسٹریشن کے جعلی کاغذات بھی۔

انھوں نے جہاز کو سرکاری تحویل میں لے لیا، کاغذات ضبط کر لیے اور عملے کے پاسپورٹ بھی اپنی تحویل میں لے لیے لیکن اس سے پہلے کہ حکام مزید تفتیش کر پاتے، اینڈری ڈوگلوو ان کی انگلیوں سے پھسل گیا اور عملہ ایک مرتبہ جہاز کو بھگا لیجانے میں کامیاب ہو گیا۔

لیکن اس مرتبہ چارلس کِلگور اور ان کی ٹیم کو کم از کم جہاز کی اصل شناخت معلوم ہو گئی اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ موزمبیق کے ساحل سے فرار ہونے والا واقعی وہی جہاز تھا جس کی ان کو برسوں سے تلاش تھی اور جب یہ ساحل سے فرار ہو رہا تھا تو عین اس وقت مصنوعی سیارے نے اس کی تصویر بھی اتار لی تھی جس سے ٹیم کو معلوم ہو گیا کہ وہ جس سگنل کا پیچھا کر رہے تھے وہ واقعی اسی جہاز کا سگنل تھا۔

اس کے علاوہ چارلس اور ان کی ٹیم سیارے سے ملنے والی انفرا ریڈ تصاویر بھی استعمال کر رہی تھی جس سے انھیں رات کی تاریکی میں بھی جہاز کی نقل و حرکت کے بارے میں علم ہو رہا تھا۔

اسی دوران سمندر میں موجود قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سی شیپرڈ کا ایک چھوٹا جہاز بھی سمندر میں موجود تھا، جس نے اینڈری ڈوگلوو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔

تنزانیہ کی بحریہ کی زیر نگرانی یہ جہاز کئی دن تک مفرور جہاز کا پیچھا کرتا رہا جس دوران یہ سیشیلز کے ساحلوں کی جانب بھاگ رہا تھا۔

غیر قانونی ماہی گیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا غیر قانونی ماہی گیر میں ملوث سینکڑوں جہازوں کو آگ لگا کر غرق کر چکا ہے

سی شیپرڈ کے ایک ڈائریکٹر پیٹر ہمرسٹڈ کے بقول ’مزے کی بات یہ تھی کہ جہاز نے تنزانیہ کی حدود میں کوئی جرم نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود تنزانیہ کے حکام نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا تاہم بعد میں انھیں پیچھا کرنے والے جہاز سے اس وجہ سے اترنا پڑا کہ ان کے پاس کسی دوسری حدود سے گزرتے ہوئے جہاز پر سوار ہونے کا اختیار نہیں تھا۔‘

اس دوران چارلس کی ٹیم انٹرپول کو ہر چار گھنٹے بعد دور سمندر میں جاری اس تعاقب کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتی رہی۔

حکام کی خوش قسمتی یہ رہی کہ جب اس جہاز کا پیچھا کیا جا رہا تھا تو اس کا رخ ایک ایسے ملک کی جانب تھا جو غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے مشہور ہے۔ انڈونیشیا سنہ 2014 سے اب تک اس قسم کی 488 کشتیوں اور بحری جہازوں کو ضبط کر کے تباہ کر چکا ہے۔

لیکن جوں ہی یہ جہاز آبنائے ملاکہ میں داخل ہوا تو مصنوعی سیارہ اس سے نکلنے والے سنگل پر نظر نہ رکھ سکا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آبنائے بہت مصروف ہوتی ہے اور یہاں مختلف سگنلز کی بھرمار ہوتی ہے۔

اس موقع پر انڈونیشیا کی بحریہ نے چارلس کِلگور کے فراہم کردہ حساب کتاب کی مدد سے مفرور جہاز کا سراغ لگا لیا۔

بحریہ نے جہاز کو روکنے کے لیے اپنی ایک بڑی موٹر کشتی روانہ کر دی جو ساحلوں کی نگرانی کے لیے سمندر میں گشت کرتی رہتی ہے۔

انٹرپول کے افسر مسٹر میکڈونلڈ بتاتے ہیں کہ اس مشن کے آخری 72 گھنٹوں کے دوران، اس مہم میں شامل ہر شخص ساری ساری رات جاگتا رہا اور پھر جوں ہی ساحل سمندر پر کوسٹ گارڈ کے نظام کو جہاز کے سگنل ملنا شروع ہو گئے اور سمندر میں موجود بحریہ کی کشتی کو بھی جہاز نظر آنے لگ گیا تو انھوں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا۔

جہاز پر سوار مزدور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجہاز پر سوار مزدوروں کی اکثریت کو اچھی ملازمت کا جھانسہ دیکر اس کام میں شامل کیا گیا تھا

جب نیوی کے افسران مفرور جہاز پر پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ جہاز کا کپتان روسی ہے اور عملے کے پانچ دوسرے ارکان کا تعلق یوکرین سے ہے۔جہاز پر موجود دیگر افراد میں سے بیس کا تعلق انڈونیشیا سے تھا، جن کا کہنا تھا کہ انھیں بالکل معلوم نہیں تھا کہ وہ غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ یہ لوگ خود انسانی سمگلنگ کا شکار تھے اور ان سے جہاز پر غلاموں کی طرح کام لیا جا رہا تھا۔

جہاز کے کپتان کا نام الیگزینڈر متویو تھا جسے غیر قانونی ماہی گیری کے جرم میں چار ماہ قید اور دس ہزار آٹھ سو پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عملے کے دیگر روسی اور یوکرینی افراد کو انڈونیشیا سے ملک بدر کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس روانہ کردیا گیا۔

مسٹر میکڈونلڈ کہتے ہیں کہ اگرچہ اس مفرور جہاز کو پکڑ لیا گیا لیکن ابھی ایسے کئی سوال باقی ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول اس قسم کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ’تنظیموں کے آپس میں مراسم بہت گہرے ہوئے ہیں، یہ کام اکثر کئی خاندان مل کے کرتے ہیں یا یہ دھندہ جائز کاروباری کمپنیوں کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں مجرم اس قسم کے کاروبار کیسے شروع کرتے ہیں، ان کا بزنس ماڈل کیا ہوتا ہے اور پھر یہ لوگ مچھلی کو دولت میں کیسے بدلتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ لوگ کسی پکڑ دھکڑ کے خوف کے بغیر یہ کام کرتے رہتے تھے۔ تاہم اب یہ چیز بدل رہی ہے۔‘