ہزاروں میل سفر کرنے والے پھول، پیار کا اظہار بھی اور کاروبار بھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیز فریڈنبرگ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
دو صدیوں سے زائد عرصے تک ہالینڈ کٹے ہوئے پھولوں کی تجارت کا مرکز رہا ہے۔ ان پھولوں کی دنیا کی سب سے بڑی بولی ایک شراب خانے میں شروع ہوئی۔ ایک تاجر نے اپنے ساتھیوں سے استفسار کیا کہ کتنے کی بولی لگی ہے؟
یہ سوال دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد تجارتی مرکز میں ہونے والی بولی کا محض آغاز تھا۔ ایمسٹرڈیم کے قریب آلسمیر میں فلورا ہالینڈ نیلام گھر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ایک بڑا گودام اب بڑی ٹیٹریس گیم کا مسکن ہے جہاں پھولوں کو ان کے تنوں سمیت ایک ٹرالی پر لایا جاتا ہے اور اس کے بعد خرید کر بیچا جاتا ہے اور پھر خریدار کے پتے پر بھیج دیا جاتا ہے۔
یہ سالہا سال سے ہو رہا ہے، رائل فلورا ہالینڈ کا اب بھی اہم کردار ہے، جہاں دنیا کے 40 فیصد پھولوں کو درآمد اور پھر برآمد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پھولوں کی تجارت میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت سے اب اس پیداوار میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ جیسے جیسے ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں جدت آ رہی ہے، افریقہ سمیت دنیا کے ہر کونے میں پھولوں کی پیداوار کرنے والے ممالک ہالینڈ کی اس صنعت میں اس روایتی سبقت کو چیلنج کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کٹے ہوئے پھولوں کی عالمی منڈی بڑی ہوتی جا رہی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2018 میں صرف برطانیہ میں کٹے ہوئے پھولوں اور سجاوٹی پودوں کی مارکیٹ 1.3 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔
قریباً 90 فیصد پھول درآمد کیے جاتے ہیں جن کا بڑا حصہ اب بھی ہالینڈ سے ہی درآمد کیا جاتا ہے۔ سنہ 2015 میں عالمی سطح پر ہونے والی پھولوں کی تجارت کی مالیت 15 بلین یورو تک پہنچ گئی تھی۔
دنیا بھر میں پھولوں کی مانگ کو پورا کرنے کے مرحلے میں محنت کشوں، کسانوں، تھوک فروشوں، ایئرلائنز، سامان بردار بحری جہازوں، تاجروں، گل فروشوں اور سپر مارکیٹوں کا ایک نازک توازن شامل ہوتا ہے۔ پھولوں کے گلدستوں کی مانند کسی چیز کو خوبصورتی سے بغیر کسی نقصان کے ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے کر جانا ٹیکنالوجی کے بل پر ہی ممکن ہے۔
کٹے ہوئے پھولوں کو جلدی سے لے جاتے ہوئے ٹھنڈا رکھنے کے لیے فارم ہاؤسز، گاڑیوں، جہازوں اور کشتیوں میں ریفریجریٹر جیسی سہولیات یقینی بنانی ہوتی ہیں جس سے پھولوں کو ایسا رکھا جاتا ہے کہ وہ آخری منزل تک تازہ رہیں۔
پھولوں سے متعلق عالمی تنظیم کی سیکرٹری جنرل سلوی مامیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر پھولوں کو جہاز سے لایا جاتا ہے تو پھر ان کو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر فارم سے دکان تک پہنچانا ضروری ہو جاتا ہے۔
اس عمل میں وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر پھولوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے دوران ایک دن بھی اضافی لگ جائے تو ان کی قیمت میں 15 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلدان کی زندگی
سلوی مامیاس کا کہنا ہے کہ جب پھول گاہک تک پہنچنے کے بعد 12 سے 15 دن تک تازہ رہتے ہیں۔ ان کٹے ہوئے پھولوں کے سب سے بڑے خریدار امریکہ اور برطانیہ ہیں مگر ہالینڈ، ایکواڈور، کولمبیا، کینیا اور ایتھوپیا ان پھولوں کے پیداواری ممالک ہیں۔
ان پھولوں میں خاص طور پر گلاب، کارنیشن اور کرسنتیمیمس یعنی گلِ داؤدی کا کھلنا بہت منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
برٹس فلورسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق برطانیہ میں 80 فیصد تک پھول ہالینڈ کے رستے سے آتے ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ان پھولوں کا سب سے بڑا پیداواری ملک کینیا ہے۔ کینیا سے کچھ پھول براہ راست نیروبی سے برطانیہ لائے جاتے ہیں، جہاں کچھ ایئرپورٹس نے پورے ٹرمینل پھولوں کو لے کر آنے والی پروازوں کے لیے مختص کر رکھے ہیں۔
سلوی مامیاس کا کہنا ہے کہ افریقہ کا 1970 سے پھول کی برآمد کی ایک وجہ تب شمالی ممالک میں تیل کے بحران سے گرین ہاؤسز کے درجہ حرارت میں اضافہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پھولوں کی پیداوار جنوب میں ہونے لگ گئی جہاں ان کی سال بھر کم محنت سے زیادہ پیداوار ہو جاتی تھی۔
اس کا مطلب ہے کہ اب یورپ کو زیادہ تعداد میں پھول اسرائیل اور ماراکو سے منگوانے ہوں گے اور پھر اس کے بعد مشرقی افریقہ سے جبکہ امریکی خریداروں نے لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھا دی ہے۔
پھول کے ان نئے پیداواریوں میں تین قدریں مشترک ہیں: زیادہ بلندی والے علاقے اور سرد راتیں، جس سے پھولوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ خط استوا پر واقع اس طرح کے علاقے ہیں جہاں سستی مزدوری کے ساتھ سورج کی روشنی زیادہ وقت پڑتی ہے۔
اس تبدیلی کا مطلب یہ بھی ہے کہ موسمی پیداوار ختم ہو جائے اور سال بھر کے 365 دن تک تجارتی مسابقت کا آغاز رہے۔
کینیا گلاب کی پیداوار میں ایک خاص مقام اہمیت رکھتا ہے۔۔ یونین فلیرز کے مطابق ملک یورپی یونین میں فروخت ہونے والے تمام گلاب کے پھولوں میں سے ایک تہائی سپلائی کرتا ہے۔ چائے کے بعد کٹے پھول اب کینیا کی دوسری سب سے بڑی برآمد بن چکے ہیں، جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد حصہ بنتا ہے۔
اب پھول کی صنعت ملک میں سب سے بڑے روزگار کا ذریعہ بھی بن چکی ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد براہِ راست پھولوں کی صنعت میں کام کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق بالواسطہ 20 لاکھ افراد اس کام سے جڑے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیا کا تمبوزی فلاور فارم
کینیا میں تمبوزی فلاور فارم ہر سال 22 ہیکٹر میں تین جگہوں پر تقریباً آٹھ ملین پھول کی پیداوار ہوتی ہے۔
کینیا کی بارش والی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ فارم، جو نیروبی کے شمال میں 180 کلومیٹر شمال کی جانب ہے۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی 1،800 میٹر پر بنتی ہے۔ کینیا یہ پھول برطانیہ، ہالینڈ، روس، آسٹریلیا، امریکہ اور چین سمیت دنیا بھر کے 60 ممالک کو برآمد کرتا ہے۔
اس فارم کے مالک میگی ہوبس جو دو دہائیوں سے یہ کاروبار زندگی چلا رہے ہیں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے کینیا کے پھولوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تو تمبوزی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔
میگی ہوبس کا کہنا ہے کہ ہم بیس لوگوں کی مدد سے باہر کھلی جگہ پر گلاب کی کاشت کرتے ہیں جبکہ پانچ سو سے زائد لوگ تین جگہوں پر ہیں جو پلاسٹگ گرین ہاوسز میں ان کی پیداوار پر مامور ہیں۔
یہ فارم 30 کلومیٹر کے علاقے میں ملازت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس سے 3،000 سے زیادہ لوگوں کا کاروبار جُڑا ہوا ہے۔ مصدقہ فیئرٹریڈ فارم کے طور پر بیچے گئے پھولوں کی قیمت کا دس فیصد مزدوروں کے حصے میں آتا ہے۔
تمبوزی فارم میں 80 اقسام کے پھول اگائے جاتے ہیں، لیکن ڈیوڈ آسٹن کے خوشبو دار گلاب میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس میں موسم گرما کے پھول جپسوفِلا، ایمی بھی کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں فلرز کی کاشت گلدستوں کے لیے کی جاتی ہے جیسے دونی، پودینہ اور لیوینڈر شامل ہیں۔
فارم کے ایچ آر اور ماحولیات کے منیجر کرسٹین شیکوکو کا کہنا ہے کہ اس پیکنگ ہاؤس میں حیرت انگیز خشبو آ رہی ہے اور ایسے ہی ہمارے گرین ہاؤسز بھی خوشگوار رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’دفتر میں بیٹھے بیٹھے جب میں دباؤ محسوس کرتا ہوں تو میں بس گرین ہاؤسز میں چلنا شروع کر دیتا ہوں، یہ ایسی تھراپی ہے کہ جیسے سب تھکن اتر جاتی ہے۔ میرا کوئی ایک پھول پسندیدہ نہیں ہے یہ سب بہت پیارے ہیں۔‘
گلاب کے پھول کا انتخاب کر کے اس کا فارم پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کیا اس میں وہ خوشبو ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں، اس کے پتوں کی تعداد کتنی بنتی ہے اور اسی طرح ان کی مختلف کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت کتنی ہے، کیا رنگ ہے اور پیداوار کتنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV
تجارتی گرین ہاؤسز میں کارکن مٹی کے پی ایچ اور نامیاتی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں، ناکاسی کو یقینی بناتے ہیں، نک سک کے علاوہ گلاب کی نشونما کو یقینی بناتے ہیں۔
نالی کے دریعے آبپاشی سے ہر پلانٹ تک پانی پہنچ جاتا ہے اور اس سے پانی کا ضیاع بھی کم ہوتا ہے۔
پودوں کو کیڑوں اور بیماری سے بچانے کے لیے پھولوں پر سپرے کیا جاتا ہے اور شکاری ذرات کو چھوڑا جاتا ہے، جو کیڑے مکوڑوں کو کھا جاتے ہیں جیسا کہ پھول کے پتوں پر چپک کر مکڑی کے جال بن جاتے ہیں۔
آٹھ ہفتوں کے بعد مزدو گلاب کی تنوں کو اس جگہ سے موڑ دیتے ہیں جہاں سے جڑ کے قریب ٹہنیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ کمزور تنوں کو کاٹ کر علیحدہ کر لیا جاتا ہے جبکہ مضبوط تنوں کو رہنے دیا جاتا ہے۔
تنوں کو درجہ بندی سے پہلے فوراً کولڈ سٹور میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں انھیں چار سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں رکھا جاتا ہے۔ پیکنگ ہاؤس میں ان کے جُھنڈ بنا دیے جاتے ہیں اور پھر انھیں واپس کولڈ سٹور میں رکھ دیا جاتا ہے۔
بالآخر یہ ایک ریفریجریٹر بس میں نیروبی ایئر پورٹ پر بھیج دیا جاتا ہے۔
تمبوزی فارم سال بھر پھولوں کی کاشت کرتا ہے۔ روزانہ پھولوں سے لدا ایک ٹرک یہاں سے نکل کے جا رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ پیک ٹائم میں جیسا کہ مدرز ڈے، ویلنٹائن ڈے اور انٹرنیشنل ویمن ڈے پر اس کی طلب دگنا ہو جاتی ہے۔
شیکوکو کا کہنا ہے کہ پھول کٹائی سے لے کر برطانیہ میں خریدراوں تک تین یا چار دنوں تک پہنچ جاتا ہے۔
تمبوزی کی محتاط مینیجمنٹ کے باوجود اس فارم کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ شیکوکو کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیاں اس کی کاشت کو بہت مشکل بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ’گذشتہ برس ایسے سیلاب آئے جو میں نے پہلے زندگی بھر کبھی نہیں دیکھے۔ اور پھر جب خشک سالی ہوتی ہے تو یہ ایک اور انتہا ہوتی ہے جو ہر سال بری سے بری تر ہوتی جا رہی ہے۔‘
اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فارم بارش کے پانی کو ذخیرہ کر لیتا ہے اور شمسی توانائی کو محفوظ کرنے کے لیے سولر پینل نصب کیے جاتے ہیں اور اپنی پیداوار کے کچھ حصے کو چار دیواری کے اندر لے آتا ہے تاکہ وہ ماحول کے مطابق پھول کی پیداوار کو یقینی بنا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہLion TV
ایک شفاف ڈیل
یہ فارم اب آہستہ آہستہ ملازمت کے مواقع بھی بہم پہنچا رہا ہے۔ پچاس برس کی ونجیرو کرانجا اسے اپنی زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
ونجیرو کرانجا تمبوزی فارم ہاؤس پر گذشتہ پانچ برس سے کام کر رہی ہیں اور پھول چننے سے اپنے سفر کا آغار کرتے ہوئے اب وہ 64 افراد پر مشتمل ٹیم کی لیڈر بن چکی ہیں۔ وہ درزی اور کپڑے بنانے کا اپنا کاروبار چلا رہی تھیں مگر کم تنخواہ کی وجہ سے انھوں نے اس پھولوں والے فارم پر ملازمت اختیار کر لی۔ ذیادہ پیسوں کے باوجود یہ ایک ایسا کام ہے جس میں زیادہ حوصلہ درکار ہوتا ہے۔
ونجیرو کرانجا فارم سے کوئی چھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہتی ہیں۔ دو گھنٹوں کی یہ مسافت وہ ہفتے کے چھ دن پیدل طے کرتی ہیں۔ وہ صبح ساڑھے سات بجے کام کرنا شروع کر دیتی ہیں لیکن اس سے قبل وہ صبح سویرے پانچ بجے اٹھ کر اپنی فیملی کے لیے ناشتہ تیار کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ انھوں نے فیئر ٹریڈ فارم پر ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا بچہ پرائمری سکول میں اور دوسرا بزنس کامرس کا طالبعلم ہے۔
’تمبوزی نے مجھے بچوں کی یونیورسٹی اخراجات اٹھانے کے لیے پیسے دیے۔‘
ٹیم لیڈر کے طور پر ونجیرو کرانجا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو یہ سیکھنے میں مدد دی کہ پھول کے ان پودوں کو کیسے کاٹا جاتا ہے، صفائی کی جاتی ہے اور انھیں کس طرح خوراک دی جاتی ہے۔ اسے اپنے کام سے محبت ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ مضر جڑی بوٹیوں کو پھول سے علیحدہ کرنے کا عمل ایک بہت مشکل کام ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV
فارم کے پارٹنر شپس آفیسر کیلون نگاری کے مطابق تمبوزی فارم پر خواتین ملازمین کی کل تعداد 55 فیصد بنتی ہے۔
فئیر ٹریڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے نتیجے میں اب تمبوزی فارم مزید اور خواتین کو بھی لیڈرشپ کا کردار ادا کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
نگاری کے مطابق ’ہم نے دیکھا ہے کہ خواتین نے پھول کٹائی سے لے کر مینجرز تک ترقی کر کے پہنچ گئی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میری جیسی خواتین اب پہلے سے رائج فرسودہ رسموں کو چیلنج کر رہی ہیں۔۔ اپنے بچوں کو ایسی اعلیٰ تعلیم دلوا رہی ہیں جس کا ہمارے گاؤں میں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔‘
چار ممالک۔۔ کینیا، ایتھوپیا، ایکواڈور اور تنزانیہ۔۔ 98 فیصد پھول کی مصدقہ فیئر ٹریڈ پیداوار کرتے ہیں۔ اس پیداوار میں دنیا کی پھول کی 67 میں سے 39 مصدقہ فیئر ٹریڈ تنظیموں کے ساتھ کینیا کا حصہ ذیادہ بنتا ہے۔
اس میں لگ بھگ 30،500 افراد شامل ہیں جن کی ملک میں پھول کی صنعت میں 30 فیصد نمائندگی بنتی ہے۔
فیئر ٹریڈ فاؤنڈیشن کے مطابق فیئر ٹریڈ پریمیم کینیا میں پھول کی صنعت سے جڑے کارکنان اور کمیونٹی کے لیے 7.5 ملین ڈالر کو یقینی بناتا ہے۔
یہ کارکنان مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اس رقم کو کیسے خرچ کرنا ہے، یہ براہِ راست انھیں اور ان کے خاندانوں کو بھیج دی جاتی ہے یا کمیونٹی کی خدمات کے لیے خرچ کی جاتی ہے، جس میں تعلیم اور ہاؤسنگ کے شعبے شامل ہیں۔
یہ پریمیم صرف صحت کی سہولیات کے لیے بھی وقف کیا جاتا ہے تاکہ دیہی علاقوں میں انتہائی ضروری صحت کی سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔
پھول کے کچھ فارم اس سے بھی آگے بڑھ کر خدمات انجام دیتے ہیں اور وہ اپنے ملازمین اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے مفت علاج کی سہولت مہیا کرتے ہیں اور مقامی آبادی کے لیے سستے داموں صحت کی سہولیات دی جاتی ہیں۔
فیئرٹریڈ فاؤنڈیشن کے فلاورز سپلائی اور پروگرامز مینیحر انا بارکر کا کہنا ہے کہ مشرقی افریقہ میں حالیہ برسوں میں پھول کی صنعت کی ترقی سے ان ممالک کے معاشی حالات میں بہتری آئی ہے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور ملازمتوں کے مواقع میسر آئے ہیں۔
تاہم بہت سے لوگوں کو کم اجرت اور نامساعد حالات میں کام کرنے پر مجور ہوئے ہیں۔
جب ہم برطانیہ میں فیئر ٹریڈ پھولوں کے ایک جھرمٹ کو چنتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہاں کام کرنے والوں کو محفوظ سہولیات میسر ہیں اور ان کے خاندان والے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے قابل ہیں اور انھیں صحت جیسی بہتر سہولیات تک رسائی بھی حاصل ہے۔
برطانیہ میں فیئرٹریڈ فلاورز کی کل مالیت 21 ملین پاؤنڈ بنتی ہے، جو سرکاری اعداوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی طور پر پھول اور پودوں کی مارکیٹ کا دو فیصد بنتا ہے۔
عالمی سطح پر پھولوں کی مارکیٹ پھل پھول رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیئر ٹریڈ فاؤنڈیشن کے مطابق 829 ملین فیئر ٹریڈ فلاور سنہ 2016 میں 15 ممالک میں فروخت ہوئے جس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ تعداد سنہ 2017 میں بڑھ کر 834 ملین تک پہنچ گئی۔
تاہم یہ 3.8 ملین پھول جو 2016 میں فیئر ٹریڈ ورکرز کے ذریعے پیدا کیے گئے ہیں یہ ان کا 20 سے 30 فیصد تک ہی بنتی ہے۔
اس کے علاوہ باقی سب نان فیئر ٹریڈ مارکیٹ کو چلا جاتا ہے کیونکہ ابھی تک اس کی طلب بہت ذیادہ نہیں ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پھول کی صنعت میں کام کرنے والے ان پھولوں کی اس اضافی رقم کو وصول نہیں کر رہے ہیں۔
فیئر ٹریڈ پریمیم سے اور ذیادہ ورکرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے صارفین کی طلب اور فیئر ٹریڈ کے ذریعے مزید کاروباری مواقع پیدا کر کے پھولوں کی فروخت میں اضافہ ضروری ہے۔
دنیا میں پھول کی طلب میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ نیروبی کے جومو کینیاتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھولوں کے لیے ایک ٹرمینل مختص کر دیا گیا ہے۔
تمبوزی فارم سے ایئرپورٹ تک پھول پہنچانے کے لیے 118 کلومیٹر تک کی مسافت طے کرنا ہوتی ہے۔ ایک بوئنگ 747 طیارہ 90 ٹن تک پھول لے کر جا سکتا ہے۔ مندی والے ہفتے میں تقریباً 30 پروازیں مسافروں اور ایک حصے میں پھول رکھے نیروبی ائیرپورٹ سے باہر روانہ ہوتے ہیں۔
تاہم ویلنٹائن ڈے کے قریب یہ اعدادوشمار 100 تک پہنچ جاتی ہے۔
کچھ عرصے میں امریکہ، برطانیہ اور چین کے لیے براہِ راست پروازیں متعارف کرانے سے ان ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
پھولوں کو ہزاروں میل دور لے کر جانا یقیناً مختصر فاصلے پر لے جانے سے ایک مشکل کام ہے مگر خط استوا پر رہنے کا مطلب یہ ہے کہ خود پھولوں کے فارم میں خود توانائی کم ہو سکتی ہے۔
یونین فلرز کی سلوی مامیاس کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنے گرین ہاوسز کو گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کو سورج کا زیادہ خطرہ ہے، یورپ میں بڑھتے ہوئے پھولوں سے توانائی کا استعمال بہت کم ہو گا۔
فیئر ٹریڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے کرائی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہوائی نقل و حرکت کے فرق کے باوجود کینیا میں کاشت اور یورپ میں فروخت کیے جانے والے گلاب ہالینڈ میں پیدا ہونے والوں پھولوں کے مقابلے میں 5.5 گنا کم گرین ہاؤس گیس کا اخراج کرتے ہیں۔
جب پھول اپنے اصل مقام تک پہنچتے ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے اس کا انحصار جگہ پر ہوتا ہے۔
مامیاس کے مطابق برطانیہ یورپ میں وہ واحد ملک ہے جہاں ان پھولوں کی بڑی تعداد سپر مارکیٹ میں لائی جاتی ہے اور پھر یہاں زیادہ لوگ خریداری کے لیے پھول فروخت کرنے والوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ پہنچنے والے پھولوں کی سپلائی کا طریقہ کار مختصر ہو جاتا ہے کیونکہ سپر مارکیٹ سپلائی کرنے والوں سے براہ راست خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے مڈل مین کے کردار کو ختم کر کے اخراجات کم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعض اوقات وہ برطانیہ میں تھوک فروش مل سکتے ہیں جس سے وہ اپنے گلدستے ایک ساتھ رکھیں اور پوری دنیا کے پھولوں کو ملاسکیں۔
خاص پھول فروش اکثر پھول تھوک فروشوں سے خریدتے ہیں یا پھر لندن کی نیو کووِنٹ گارڈن فلاور مارکیٹ چلے جاتے ہیں جہاں براہِ راست ہالینڈ سے یہ پھول آتے ہیں۔
جنوبی لندن میں مقیم سائمن لیسیٹ پھولوں کے کاروبار میں سب سے زیادہ مہارت حاصل کرنے والے اور انتہائی مقبول ہیں۔
سائمن لیسیٹ اپنی تخلیقی صلاحتیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ پرنس آف ویلز اور ڈچس آف کارن وال کی شادی کو پھولوں سے سجانے والے بھی سائمن ہی تھے۔ انھوں نے ہیمپٹن کورٹ پیلس، رائل اوپِرا ہاؤس، سینٹ پال کیتھیڈرل اور کینسنگٹن پیلس کے لیے پھولوں کے انتظامات کیے ہیں۔
وہ جو تقربیاً دس فیصد گلاب خریدتا ہے وہ کینیا سے آتا ہے، جس میں ڈیوڈ آسٹن بھی شامل ہے جس کی پیداوار میں تمبوزی فارم کو خاص سبقت حاصل ہے۔
سائمن لیسٹ کے مطابق کینیا سے آنے والے پھول کئی پنکھڑیوں والے اور انتہائی جاذب نظر ہوتے ہیں۔ ان کی خوشبو غیر معمولی قسم کی ہوتی ہے۔ ’اگر کوئی اسے اپنے باغیچے میں واپس لے جانا چاہتا ہے تو وہ خوشبو کے ذریعہ فوراً لے جایا جاتا ہے۔‘
سائمن کی ٹیم روزانہ نیو کوونٹ گارڈن فلاور مارکیٹ سے یہ پھول خریدتی ہے۔
سنیچر کے ایک پروگرام کے لیے وہ منگل اور بدھ کو خریداری کر لیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ پھول اس دن بھی صیحح اپنی اچھی حالت میں رہیں۔ یہ گلاب گتے کی پیکنگ میں بھر کر لائے جاتے ہیں اور پھر سائمن اور اس کی ٹیم اس کے تنوں کو دوبارہ کاٹتے ہیں ،پتیوں کو اتار کر پھولوں کو ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV
ایک عام شادی پر سائمن 20،000 گلاب کا استعمال کرتے ہیں، تاہم وہ سینکڑوں مختلف اقسام کے پھول خریدتے ہیں، جس میں ہائیڈرنجاس، پونی اور آرکڈز پھول شامل ہیں۔
ہر گاہک کہے گا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ اسے سب اچھا نظر آیا۔ سائمن کے مطابق اس میں پھول کا اثر، خوشبو، کثرت اور کمال سجاوٹ شامل ہیں۔
کینیا جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے کٹے پھولوں کی صنعت انتہائی مطلوب روزگار اور دیگر مواقع لے کر آئی ہے اور یہ ان ممالک کی معاشی ترقی کا ایک بڑھتا ہوا اہم جزو ہے۔
کینیا میں پھولوں کی برآمدات سے تقریباً چار فیصد آبادی کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے جبکہ جنوبی امریکہ میں یہ تجارت کولمبیا اور ایکواڈور میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔
لیکن ابھی آگے اس صنعت کو کئی اور چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک تو اس صنعت کی غریب ورکرز کے لیے نامساعد حالات ہیں جس میں کم اجرت کا ملنا بھی شامل ہے۔
فیئرٹریڈ فاؤنڈیشن کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی ممالک میں ورکرز کے لیے کام کے حالات میں بہت بہتری بھی آئی ہے۔
دوسرا بڑھتا ہوا چیلنج ماحولیاتی تبدیلی کا ہے، جس میں تمبوزی جیسے فارم ایسی کوششوں میں ہیں کہ وہ پانی کے کم ہوتے ہوئے اور کم زرائع کا بہتر استعمال کر سکیں۔
پھول کے کھیت سے لے کر خریدار تک پھول کے پہنچنے کا سفر خاصا طویل اور کسی کٹے ہوئے نازک پھول کی نزاکت کو برقرار رکھنا پیچیدہ بھی ہے۔ کسی کھلے ہوئے پھول کو اپنی قدر برقرار رکھنے کے لیے اسے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی ترو تازہ اور برقرار رہنا ضروری ہوتا ہے۔
کئی برسوں بعد ٹیکنالوجی کے زریعے پھولوں کا تازہ دکھائی دینا کسی نازک فن سے کم نہیں ہے۔
اگلا بڑا قدم یکساں طور پر مضبوط سماجی اور ماحولیاتی حل تلاش کرنا ہو گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تجارت صیحح معنوں میں شفاف اور پائیدار ہے۔









