سیکس کے نئے معنی تلاش کرنے والی خواتین جو پوشیدہ خواہشات کے بارے میں لکھ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کلیئر تھورپ
- عہدہ, بی بی سی کلچر
لیلیئن فشمین کے پہلے ناول ’ایکٹس آف سروس‘ کی پہلی لائن میں ہی ایک راز کی بات بتائی جاتی ہے: ’میرے فون میں سینکڑوں برہنہ تصاویر ہیں لیکن میں نے یہ کبھی کسی کو نہیں بھیجیں۔‘
ایو کی عمر 20 سال سے کچھ زیادہ ہے۔ وہ اکثر وقت یہ سوچنے میں گزارتی ہیں کہ اچھا انسان ہونے کا کیا مطلب ہے۔ ہمیں جلد پتا چلتا ہے کہ ہماری کچھ ادھوری خواہشات ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرا جسم رو رہا تھا کہ میں اپنا مقصد پورا نہیں کر رہی۔ مجھے سیکس کرنا تھا، شاید انگنت لوگوں کے ساتھ۔‘
ایک رات ایو ’بے حد خوبصورت اور تنہا‘ محسوس کر رہی تھیں جب انھوں نے آن لائن اپنی برہنہ تصویر پوسٹ کر دی۔ اس کے نتیجے میں وہ اولیویا نامی ایک خاتون سے ملیں۔
انھوں نے ایو کو اپنے امیر، دلکش اور خواتین کے لیے تعصب رکھنے والے بوائے فرینڈ نیتھن سے ملایا۔ تو یوں تینوں کے درمیان جنسی تعلق اور طاقت کے توازن کا کھیل شروع ہوا جس کی تفصیل دو ہزار صفحوں پر درج کر دی گئی۔
اگر آپ روزمرہ کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نوجوانوں کے بیچ جنسی تعلقات کم ہونے لگے ہیں۔ شاید ہم ’سیکس کے ایک بحران‘ سے گزر رہے ہیں اور اس سے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کا ذمہ گھروں کے بحران سے لے کر عالمی وبا پر ڈالا گیا ہے جبکہ گذشتہ دہائی کے دوران ڈیٹنگ ایپس بھی تنقید کی زد میں آئی ہیں۔
مگر ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں سیکس روزانہ کے ایجنڈے میں شامل ہے اور وہ ہے ادب، خاص کر ایسی کتابیں جنھیں خواتین نے تحریر کیا ہے۔ خواتین مصنفین نے ایسی کئی افسانوی اور غیر افسانوی کتابیں لکھی ہیں جن میں جنسی تعلقات سے متعلق خواہشات کا کُھل کر اظہار کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں سیکس محض ایک مختصر واقعے تک محدود نہیں بلکہ بحث کا موضوع ہے۔

،تصویر کا ذریعہLillian Fishman
رواں سال 28 سالہ فشمین کے ناول کو بہت پذیرائی ملی ہے۔ اخبار ’دی گارڈین‘ نے تو اسے ’سیکس ماسٹر پیس‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کتاب میں سیکس کو بطور ایک سنجیدہ موضوع لیا گیا ہے۔ اس میں سیکس کے مقاصد پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور اپنی خواہشات کے احترام کے معنی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، حتی کہ وہ خواہشات بھی جو زندگی بھر سیکھی گئی باتوں کے متضاد ہیں۔
فشمین نے بی بی سی کلچر کو بتایا ہے کہ ’جنسی تعلقات سے متعلق خواہشات کے برعکس یہ ایک ایسی کتاب ہے جو عام توقعات سے مفاہمت کے بارے میں بتاتی ہے۔‘
’اس کتاب میں اس مسئلے پر بات کی گئی ہے کہ مخالف جنس کو پسند اور ناپسند کرنا ایک ہی جگہ سے اُبھرتے ہیں۔ میں اس ناول میں اسے مسئلے پر بات کرنا چاہتی تھی جو اسے ڈرامائی اور جذبات سے بھرپور بنائے۔‘
فشمین نے ہم جنس پرستی سے متعلق ایک کہانی لکھنا چاہی تھی جس میں وہ بتائیں کہ آپ خود سے اور معاشرہ آپ سے کیسے مایوس ہوتا ہے خاص کر اس وقت جب آپ مخالف جنس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنسی شناخت اور اظہار سیاسی تناؤ سے گزر رہے ہیں۔
فشمین کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے مجھ سے پہلے کی نسل اور میری نسل کے لوگوں کو انسانی جنس اور اس کی دریافت کی اہمیت پر بہت یقین ہے اور وہ اس کے لیے اپنی زندگی بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ ایسی دنیا میں شناخت کے اردگرد آپ کی برادری بہت اہم ہے۔‘
مگر اس کتاب کا ایک جزوی عنوان یہ بھی ہے کہ آپ کیسے ایک ایسی چیز کی طرف راغب ہوتے ہیں جو کہ درحقیقت آپ کو ناگوار لگنی چاہیے۔ ’اس کے بارے میں بتانے کے لیے میں نے جنسی تعلقات کا سہارا لیا ہے لیکن ایسی ہی ایک اچھی کتاب اس بارے میں بھی لکھی جا سکتی ہے کہ لوگ امیر بننا کیوں چاہتے ہیں۔‘
اس افیئر کے دوران ایو اِسی چیز میں خوشی اور اطمینان حاصل کرتی ہیں کہ انھیں اب ’سب کی من چاہی لڑکی‘ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ ان کا یہ انتخاب اُن کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ وہ ایک فیمنسٹ اور سرمایہ داری نظام کی مخالف ہوتے ہوئے ان خواہشات کو روک نہیں پاتیں۔ ایو کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنی پسند کی چیزوں سے خود کو دور رکھا تاکہ میں ایک مختلف اور بہتر انسان بن سکوں۔‘
کتاب میں ایو اخلاقی اقدار کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرتی ہیں اور انھیں خود بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے، خاص کر نیتھن کے ساتھ جن پر کام کی جگہ پر جنسی بدسلوکی کا الزام ہے۔ ایو کے لیے سکیس ’سچ جاننے کا ذریعہ ہے جو اُن کا منتظر ہے۔‘
’ایکٹس آف سروس‘ اور ’ففٹی شیڈز آف گرے‘ دو مختلف کتابیں ہیں لیکن اکثر ان کا ذکر ایک ہی جملے میں کیا جاتا ہے۔ فشمین اس پر ناراض نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتی تھی کہ یہ کتاب فلسفیانہ ہو، لیکن یہ لوگوں کے لیے حوصلہ افزا بھی ہو اور انھیں اسے پڑھ کر مزہ آئے۔ تو میرے لیے یہ کامیابی ہے کہ لوگ اس کا موازنہ کر رہے ہیں۔‘
سب کچھ یا کچھ بھی نہیں
اگر فشمین کی کتاب میں ایک خاتون کا خیال ہے کہ ان کے جسم کا مقصد سیکس ہے تو ایک اور حالیہ کتاب میں اس کے برعکس کہا گیا ہے: یعنی جنسی تعلقات اور شادی سے دور رہیں۔
ایما فاریسٹ کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’بزی بیئنگ فری‘ میں شادی ختم ہونے کے پانچ برس بعد کے احوال درج ہیں جن میں انھوں نے سیکس کی جگہ تنہائی کا انتخاب کیا۔ یہ وہی پانچ برس تھے جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر تھے۔
انھوں نے بی بی سی کلچر کو بتایا کہ ’جب ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو اسی دوران میری طلاق ہوئی۔ میں 40 برس کی تھی۔‘
’دنیا کا بدترین مرد اب سب سے طاقتور شخص تھا۔ اور سب سے طاقتور مرد درمیانی عمر کی خواتین کے لیے خوفناک جذبات ظاہر کر چکے تھے۔ تو میرا فیصلہ تھا کہ ان کے صدراتی دور کے دوران اس سے مکمل طور پر دور رہا جائے۔‘
کتاب میں اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس عمر میں خواتین کو کہا جاتا ہے کہ ان کی جنسی کشش کم ہو رہی ہے۔ گروہ میں منتخب ہونے کے لیے انھیں خود کو جذبانی اور جسمانی طور پر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا میں یہ کھیل نہیں کھیلوں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہAgnes Wonke Toth
اس سے قبل فاریسٹ کی کتاب ’یور وائس اِن مائی ہیڈ‘ شائع ہو چکی ہے اور انھوں نے ایک فلم ’انٹوگیدر‘ کی ہدایتکاری کی ہے۔ انھوں نے کئی رومانوی تعلقات پر مبنی زندگی گزاری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں 16 برس کی عمر سے جنسی طور پر فعال رہی۔ اس عمر سے میں اچھے یا بُرے کے لیے رومانس سے جڑی رہی۔ مجھے معلوم تھا کہ میرا یہ فیصلہ کچھ نیا ہو گا۔‘
تنہائی کو ایک جائز انتخاب سمجھنا کچھ انتہا پسندانہ لگتا ہے، مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ مگر یہ ایک اچھا فیصلہ لگتا ہے اگر ہر اکیلی خاتون کے بارے میں یہ خیال رکھا جائے تو ان میں کسی چیز کی کمی ہے۔
فاریسٹ کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے کچھ عرصے بعد کئی دوستوں نے انھیں نیا پارنٹر ڈھونڈنے میں مدد دینا چاہی مگر ان کی اب اس میں دلچسپی نہیں رہی تھی۔ کتاب میں فاریسٹ کی ایک دوست پریشان ہیں کہ وہ تنہا رہ کر خود کو کھو دیں گی۔ اُن کی والدہ کو بھی اس فیصلے سے پریشانی ہے۔
مگر فاریسٹ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے تنہائی سے ہی ایک رومانوی تعلق جوڑ لیا ہے۔ ’تنہائی نہ صرف برداشت کے قابل تھی بلکہ یہ بہترین تجربہ تھا۔ ایک خاتون دیر رات کو ہیڈفونز لگا کر دوڑ سکتی ہے اور اسے کسی کا خوف نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھیں سیکس نہ کرنے کی لت لگ چکی تھی۔ ’جتنا عرصہ میں سیکس کے بغیر رہی اتنا ہی مجھے اچھا لگا، جیسے اب اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کئی طریقوں سے یہ میری زندگی کا بہترین وقت تھا۔‘
تنہائی کے بارے میں کتاب ہونے کے باوجود اس میں جنسی تعلقات کا بہت زیادہ حوالہ دیا گیا ہے۔ ’یہ سمجھا جاتا ہے کہ 40 سال سے زیادہ عمر کی خاتون سیکس کے اعتبار سے اپنے عروج پر ہوتی ہے اور میرے لیے یہ بات صحیح تھی۔ یہ احساس ہونا اور اس کا اظہار نہ کرنا میرے لیے مختلف چیزوں میں تبدیل ہو گیا۔ کام کرنا آسان ہوگیا اور فیصلہ سازی بھی آسان ہوگئی۔ یہ بتانا آسان ہو گیا کہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں، مجھے مردوں میں، محبت میں اور سیکس میں کیا پسند ہے۔ مجھے اپنے بارے میں اور اپنی خصوصیات کے بارے میں علم ہوا۔‘
تنہائی اور کووڈ کے لاک ڈاؤن نے فاریسٹ کو ماضی کے رومانوی تعلقات اور سیکس کے بارے میں سوچنے کا وقت دیا۔ ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان چیزوں کی پیچھے بھاگ رہی تھیں جن کی انھیں ضرورت نہیں تھی۔ ’ایک خاتون ہونا اس توازن کو قائم کرنا ہے کہ ہم ایک خاص شخص کے ساتھ سیکس کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا ڈر اپنی مرضی کے بغیر کسی اجنبی کے ساتھ سیکس کرنا ہوتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتی ہیں کہ مرد ان کے لیے ’سمارٹ فون کی طرح تھے جن میں وہ کھو جاتی تھیں۔‘ ان کے فیصلے، کپڑے، نوکریاں، گھر سب مرد طے کرتے تھے۔ وہ کسی کی خواہش اور اپنی خواہش کے درمیان فرق کرنے میں غلطی کر بیٹھتی تھیں۔‘
’خواتین شاید ہمیشہ سے یہ سوچتی رہی ہیں کہ انھیں جواب دینا ہو گا کیونکہ وہ یہی چاہتی ہیں، جیسے کہ یہ کوئی شائستگی کا طریقہ ہے۔‘ ان کے مطابق تنہائی سے ’آپ خود کی خواہشات کا اظہار کرسکتے ہیں اور آپ کو دوسروں کی خواہشات محسوس کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘
کتاب کے اواخر میں انھوں نے دوبارہ ڈیٹنگ اور سیکس شروع کیا تو چیزیں مختلف تھیں۔ فاریسٹ کھل کر اپنی خواہشات کا اظہار کر سکتی تھیں اور ان میں یہ قوت آ چکی تھی کہ وہ ’اپنی خواہشات کے تحت جنسی تعلقات کو ڈھال سکتی تھیں۔‘
خفیہ زندگی
ادب کے شعبے میں خواتین جنسی تعلقات سے متعلق اپنی خواہشات دریافت کر رہی ہیں۔ جولیا می جونس کی پہلی کتاب ولادیمیر میں ایک کالج پروفیسر ایک نوجوان مصنفہ کی طرف جنسی طور پر متوجہ ہوتی ہیں جب ان کے شوہر ایک سیکس سکینڈل میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
اینا فٹز پیٹرک کی کتاب گڈ گرل میں ایک خاتون اپنے فیمنسٹ خیالات کو چیلنج کرتی ہیں جب انھیں خود کو درپیش دکھ میں لذت حاصل ہونے لگتی ہے۔ جسیکا اینڈریوز کی کتاب ’مِلک ٹیتھ‘ میں ایک نوجوان خاتون یہ سمجھنا چاہتی ہیں کہ وہ محبت، سیکس اور زندگی میں آخر کیا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVanessa German
80 سالہ جین کیمپبل کی پہلی کتاب کیٹ برشنگ میں 13 معمر خواتین کی جنسی زندگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سی جے ہاسر اپنی کتاب دی کرین وائف میں بتاتی ہیں کہ انھیں احساس ہوا کہ انھوں نے اپنی اکثر زندگی اپنی خواہشات کے خلاف اس طرح گزاری جس کی ان سے توقع کی گئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اب بھی ایسے شرمندہ کرنے والے الفاظ سنتی ہوں: پیاسی، ضرورت مند۔ خواتین کے لیے یہ بدترین نام ہیں۔‘
دیشا فلیا کی کتاب ’دی سیکرٹ لائفز آف چرچ لیڈیز‘ میں جنوبی سیاہ فام خواتین کے ارمانوں پر مبنی کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کلچر کو بتایا کہ ’آغاز میں میری توجہ سیکس کے بارے میں لکھنے پر نہیں تھی مگر میں دراصل غیر مطمئن خواتین کے بارے میں لکھ رہی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ وہ ایسے احساسات سمجھ سکتی تھیں حالانکہ ’انھوں نے ہمیشہ سب صحیح راستہ اختیار کیا تھا۔ میں نے بچے پیدا کرنے سے پہلے ایک مرد سے شادی کی۔ اس کے باوجود میں ناخوش اور غیر مطمئن تھی۔ مجھے اطمینان اور تمناؤں کے گرد سوالوں میں تجسس تھا۔ اگر آپ توقعات ختم کر دیں تو کیا بچتا ہے؟ کیا ممکن ہے؟‘
فلوریڈا میں پرورش کے دوران ان میں اپنے گرد سیاح فام خواتین کی زندگیوں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ’مجھے ان کی جنسی زندگی کے بارے میں تجسس تھا اور اس دوران میں چرچ کی تعلیمات سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ تعلیمات لطف حاصل کرنے کے خلاف تھیں اور ان میں شرمندگی، خوف اور گناہ کا عنصر تھا۔‘
بالغ خاتون کے طور پر بھی ان خواتین کے بارے میں سوچتی تھیں۔ وہ ان کی پوشیدہ خواہشات اور اندرونی زندگیوں کے بارے میں سوچتی تھیں۔ اپنی کتاب میں بھی انھوں نے اسی پر بحث کی ہے۔ اس افسانوی کتاب کو پین فلکنر ایوارڈ ملا اور اسے ایچ بی او کی ایک منی سیریز میں بھی ڈھالا گیا۔
فلیا کے لیے اہم بات یہ تھی کہ سیکس اور لطف کے تعلق کو سمجھا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس خیال کو چیلنج کرنا چاہتی تھی کہ سیکس اور جنسی تعلقات دباؤ میں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ ہمیں ڈر، شرمندگی اور گناہ کے بارے میں سوچتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔‘
’تصور کریں کہ ہمیں پہلی بات یہ سمجھائی جائے کہ ہمارے جسم کوئی بُری چیز نہیں اور یہ ہماری ملکیت ہیں۔ یا پھر یہ کہ ہمیں اپنی خوشی کو فوقیت دینی چاہیے؟ کیا ہوتا اگر ہمیں اپنے اطمینان کو ترجیح دینا سکھایا جاتا، نہ کہ یہ کہ دوسروں کو خوش کیا جائے؟‘
ان کے کرداروں کو یہ سب نہیں سکھایا گیا تھا مگر وہ ان خیالات سے آزاد ہو کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ’اس کے نتائج مزید پیچیدگی اور الجھن پیدا کرتے ہیں۔‘
دی سیکرٹ لائفس آف چرچ لیڈیز میں ایسے تجربات بتائے گئے ہیں جو خواتین کے جنسی تعلقات سے متعلق دیگر کتابوں سے مختلف ہیں۔ یہ سب کتابیں خواتین کے انفرادی تجربوں پر مبنی ہیں مگر ان میں عمومی بات یہ ہے کہ خواتین یہ جاننا چاہتی ہیں کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ وہ خود سے دوسروں کی توقعات چھوڑ کر اپنی اصل خواہشات کی طرف راغب ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔
پوشیدہ خواہشات
یہ ایک ایسا وقت ہے جب یہ موضوع تناؤ میں الجھا ہوا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران ٹرمپ، می ٹو تحریک، ریونج پورن اور اسقاط حمل سے متعلق عدالتی فیصلوں نے سیکس کے گرد کشیدگی کے ماحول کو بڑھاوا دیا ہے۔
کئی غیر افسانوی کتب اس بات کے گرد گھومتی ہیں کہ عورت مخالف اور پدرشاہی ماحول میں خواتین کے لیے جنسی تعلقات کی آزادی کا کیا مطلب ہے۔ خواہشات، ان کا اظہار اور ان کی پیروی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
فشمین کا کہنا ہے کہ ’آپ کچھ بھی کریں آپ اپنے اردگرد لوگوں کو مایوس کرتے ہیں۔‘
’ایک طرف اگر آپ کچھ فیمنسٹ ہیں تو آپ جنسی تعلقات کی آزادی کا اظہار اور اس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران آپ محبت اور خاندان کے تصورات پر یقین کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جذبات سے عاری سیکس سے زندگی میں اطمینان نہیں آئے گا۔ یہ ہر طرح سے ایک جال ہے۔ اور مجھے لگتا ہے ہم سب اس سے آگاہ ہیں۔‘
لیکن ماضی کی طرح آج بھی خواتین کے لیے آزادی ہے کہ وہ اپنی تمناؤں کی پیچیدگیوں کا کھوج لگا سکتی ہیں۔ فشمین کے مطابق ادب میں سیکس کا حوالہ بات پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ’کرداروں کے درمیان گفتگو سے آپ وہ کہہ سکتے ہیں جو آپ لفظوں میں بیان نہ کر پائیں یا اس سے خوفزدہ ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مصنفہ سیلی رونی اس کی ماہر ہیں۔ ’یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ ایک ناول کیا کر سکتا ہے اور وہ اس کام کو بخوبی نبھاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق 20ویں صدی کے مقابلے آج کے دور کے مصنفین سیکس کے بارے میں لکھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ ’میری مکارتھی کی طرح کچھ منصفین نے مجھے سکھایا کہ آپ سیکس کے بارے میں کیسے کھل کر لکھ سکتے ہیں۔ دی گروپ میں سیکس کے بارے میں کئی اہم حوالے ہیں۔‘
گذشتہ سال وفات پانے والی ایو بابٹز نے بھی ان کے کام کو اثر انداز کیا۔ ایما فاریسٹ کا کہنا ہے کہ ’وہ سیکس کو آرٹ کے طور پر دیکھتی تھیں، یعنی اچھا سیکس کسی فن کی طرح ہوتا ہے۔ ان کے لیے یہ مذہبی جذبات جیسا ہے۔‘
فلیا کا کہنا ہے کہ سیکس سے متعلق اچھی تحریر میں ’خواتین کھل کر اپنی خواہشات کا اظہار کرتی ہیں اور لطف حاصل کرتی ہیں، حتی کہ اگر اس میں دوسرے لوگوں کا نقصان ہو۔ ٹونی موریسن کی کتاب سولا میرے لیے ہمیشہ سنہرا معیار رہے گی۔‘
وہ گارتھ گرینویل کا حوالہ دیتی ہیں۔ گرینویل نے دی گارڈین میں لکھا تھا کہ ’سیکس کو انسانیت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ سیکس کے بارے میں کیوں لکھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی کسی دوسری چیز کے بارے میں کیوں لکھے۔‘
اگر ہم سیکس کے عنوان کی مدد سے انسانیت اور تہذیب کے بارے میں بڑے سوال کر سکتے ہیں تو یہ مصنفین کے لیے لطف کا باعث بھی ہے۔
فلیا کا کہنا ہے کہ ’میرے کردار ماحول میں خلل ڈالنے والے تھے اور انھیں اپنے کیے کا کوئی پچھتاوا نہیں تھا اس لیے ان کے بارے میں لکھ کر اچھا لگا۔‘
تو کیا ادب اس شہوت کو برقرار رکھ سکے گا؟ انھیں اسی کی امید ہے۔ ’دریافت کرنے کو ابھی بہت کچھ ہے۔‘













