مس مارول: پہلی مسلم سُپر ہیرو کمالہ خان کا پاکستان سے گہرا رشتہ جس نے اسے مقبول بنایا

،تصویر کا ذریعہMarvel Studios 2022
- مصنف, محمد ظہیر
- عہدہ, بی بی سی کلچر
ڈزنی کی نئی سیریز مس مارول سے شائقین کو بہت سی توقعات ہیں۔ اس کی وجہ حال ہی میں مارول کے دیگر شو جیسے وانڈا ویژن اور لوکی کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس سیریز سے منسلک آن لائن گہما گمی اور ناقدین کے تبصرے ہیں جن سے ایسا لگتا ہے کہ ڈزنی کے ہاتھ میں ایک اور ہٹ سیریز آ چکی ہے۔ لیکن اس سپر ہیرو سیریز کی کامیابی کا یقین ہر کسی کو نہیں تھا۔
سنہ 2013 میں جب مارول نے اعلان کیا کہ وہ مس مارول کے کردار کو ایک سنہرے بالوں والی جنگی ہیرو سے بدل کر ایک مسلمان پاکستانی نژاد امریکی لڑکی کمالہ خان کا روپ دینے جا رہے ہیں تو اسے متنازع اور خطرناک فیصلہ سمجھا گیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ کامک بُک کردار ماضی میں مردانہ اور سفید فام رہے ہیں جبکہ کمالہ خان ان سب کا اُلٹ تھیں۔ اس سے قبل کامک کرداروں کو متنوع بنانے کی کوششوں، مثلاً سپائیڈر مین کی نسل تبدیل کرنا، کو فینز نے کافی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
2017 میں مارول کے نائب صدر نے بیان دیا تھا کہ ان کو ریٹیلرز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کامکس کے قارئین ان کوششوں سے خوش نہیں۔ ’ہم نے سنا ہے کہ لوگ تبدیلی نہیں چاہتے۔ وہ کوئی ایسا کردار نہیں پسند کرتے جو خواتین پر مبنی ہو۔ ہم نے یہی سنا ہے، اب ہم اس پر یقین کریں یا نہ کریں۔‘
تاہم مس مارول کی کارکردگی نے کچھ اور ثابت کیا ہے۔ نارتھمبریا یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میل گبسن کا کہنا ہے کہ مس مارول بہت جلد ایک مقبول اور آن لائن سب سے زیادہ بکنے والا کامک بن گیا۔ ’اس کو ان صارفین نے بہت پسند کیا جو غیر روایتی سمجھے جاتے ہیں جیسے کہ خواتین، مسلمان یا پاکستانی۔ یہ خیال کہ کون کامک پڑھتا ہے، اب بدل رہا ہے۔ یہ نئے صارفین کو متوجہ کر رہا ہے۔‘
سنہ 2018 تک جب مس مارول پر کوئی ٹی وی شو یا فلم بھی نہیں بنی تھی اس کی پانچ لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ کمالہ خان کی مارول سنیما کی دنیا میں آمد بھی کوئی سوچی سمجھی اشتہاری کوشش نہیں تھی۔ اس کردار کی شہرت نے ہی اس کو ممکن بنایا۔

،تصویر کا ذریعہMarvel Studios 2022
جی ولو ولسن جنھوں نے سنہ 2017 میں کمالہ خان کا کردار لکھنے میں مدد کی تھی، کہتی ہیں کہ اس کردار کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انصاف پر ایمان رکھنے والی ایک روایتی لڑکی ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرح کی کہانی کے منتظر تھے۔
کمالہ کا مذہب یقیناً ان کو دیگر کرداروں سے مختلف بناتا ہے۔ کامک کتابوں میں مسلمانوں کی تصویر کشی پریشان کُن رہی ہے لیکن 11 ستمبر کے حملوں کے بعد اس رجحان میں مزید پیچیدگی پیدا ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مس مارول کے پس پردہ کام کرنے والی ٹیم نے معاملے پر جس طرح کام کیا وہ ان کی ذہانت کا ثبوت ہے۔ ولسن نے کہانی کو اس طرح سے لکھا ہے کہ کسی بھی کردار سے جڑے عمومی دقیانوسی تصورات کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ولسن کی مذہب کے بارے میں معلومات تو سمجھ آتی ہیں کیوںکہ وہ خود مسلمان ہیں لیکن ان کی کہانی میں کئی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھا گیا ہے جن کو پڑھ کر مجھے ایسا لگا کہ کہیں وہ خفیہ طور پر پاکستانی بھی تو نہیں رہیں۔
ڈاکٹر گبسن کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ اس لیے دلچسپ لگا کہ کمالہ کا کردار ماضی میں مسلمانوں یا عربی کرداروں سے مختلف تھا اور اس میں مشرقیت کا عنصر تھا۔‘
ہالی وڈ بیورو برائے امریکی مسلم پبلک افیئر کونسل کے ڈائریکٹر سوئی عبیدی کے مطابق مس مارول کے کردار میں ایک مضبوط مسلم خاتون کو دیکھنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
’اسلام کی تاریخ میں ایسی بہادر مسلم خواتین کی کمی نہیں رہی۔ اگر آپ عائشہ یا خدیجہ کے بارے میں پڑھیں تو وہ اسلام کی پہلی ہیرو تھیں۔ وہ طاقتور، بہادر اور خود مختار خواتین تھیں۔ اگر یہ کردار مسلمان خواتین کی چند خوبیوں کو اپنے اندر سمو سکتا ہے تو اس سے بہتر کیا ہو گا کیوں کہ پھر یہ کردار مذہب کی بھی نمائندگی کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہMarvel Studios 2022
نوجوانوں کی دلچسپی
عام طور پر کامکس میں مذہب یا ثقافت موجود ہوتی ہے لیکن کمالہ کے کردار کی یہی شناخت نہیں۔ وہ ایک عام سی کم عمر لڑکی ہے جو مسلمان اور پاکستان نژاد امریکی ہے جو ایک سپر ہیرو بھی ہے۔
وہ سکول میں ان تمام مسائل کا سامنا کرتی ہے جو عام طور پر طالب علموں کو درپیش ہوتے ہیں۔ اس کی اپنی امیدیں، خواب اور شوق ہیں، اس کی مشکلات بھی ہیں اور اس کے راستے میں رکاوٹیں بھی۔
ڈاکٹر گبسن کے مطابق ’کمالہ کی طرح میں بھی کیرل ڈینورز کی فین تھی۔ جب میں نے سنا کہ ایک نئے کردار پر مبنی کتاب آ رہی ہے تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ انھوں نے کیا نیا کیا ہے۔ جب کیرل ڈینورز پہلی بار مس مارول کے طور پر سامنے آئی تو میں جانتی تھی کہ وہ میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ جیسے ہی مجھے پتہ لگا کہ کمالہ بھی اس کی فین ہے تو میں نے سوچا کہ ہم تو ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس سے مجھے اس کردار سے تعلق پیدا کرنے میں مدد ملی۔‘
عبیدی کہتے ہیں کہ ایک ایسا مسلمان کردار جس کا سیاست اور سیاسی ماحول سے تعلق نہیں، ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ ’مسلمان اور عام شائقین بھی ایک ایسے کردار کو دیکھنا چاہتے ہیں جو مثبت ہے، اور مہم جوئی کی تلاش میں ہے۔‘
کمالہ خان کے کردار کا پاکستان کی ثقافت سے تعلق
کمالہ خان کی پاکستانی شناخت بھی اس کے کردار کا ایک حصہ ہے۔ مغرب میں جنوبی ایشیا کی نمائندگی عام طور پر انڈیا نے کی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک میں کئی چیزیں مشترکہ ہیں، پاکستان کی اپنی ایک مخصوص ثقافت بھی ہے۔
اسی لیے جب یہ چہ مگوئیاں ہوئیں کہ اس کردار کے لیے سابق مس ورلڈ اور بالی وڈ اداکارہ پرینکا چوپڑا پر غور ہو رہا ہے تو اس پر کافی شور مچا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ ایک پاکستانی کردار جو کم ہی بنتا ہے اس کے لیے کسی پاکستانی اداکارہ کو ہی چُنا جانا چاہیے۔
اسی طرح جب شو کے ایک کلپ میں کمالہ کے والد ’چک دے پھٹے‘ کا پنجابی نعرہ بلند کرتے دکھائی دیے تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بہت منفی ردعمل دیا کہ یہ زبان پاکستان کی نہیں بلکہ انڈیا کی ہے۔
اداکاروں کا لہجہ بھی تنقید کی زد میں آیا کہ یہ پاکستانی سے زیادہ انڈین لگتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے برطانوی اداکار کسی امریکی کا کردار ادا کرتے ہوئے برطانوی لہجے میں بات کرے اور ان الفاظ کا استعمال کریں جو برطانوی زبان میں ہوتے ہیں۔
ذاتی طور پر مجھے اب تک کسی کے لہجے میں اتنا فرق محسوس نہیں ہوا کیوںکہ ان کی زبان ویسی ہی ہے جیسی میرے ان انکل اور آنٹیوں کی جو کئی سال پہلے کراچی سے امریکہ آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہMarvel Studios 2022
خوش قسمتی سے مرکزی کردار یعنی مس مارول کے لیے پاکستانی کینیڈین اداکارہ ایمان ولانی کی شکل میں ڈزنی کے ہاتھ سونا لگا جن میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو اس کردار کو کتاب میں ایک بہترین شکل دیتی ہیں۔
رابرٹ ڈاؤنی جونیئر بطور آئرن مین، ایما واٹسن بطور ہیرمائنی گرینجر جیسے اگر یہ کہا جائے کہ یہ کردار بھی ایمان کے لیے ہی بنا تھا تو شاید کچھ مبالغہ نہیں ہو گا۔
اس سیریز میں بھی کچھ ایسے عوامل ضرور ہیں جو عام طور پر ایسی کہانیوں میں دکھائی دیتے ہیں اور اس کے اپنے چیلنجز بھی ہیں۔ حرام لفظ اتنی بار استعمال کیا گیا کہ یہ بذات خود ایک مزاحیہ چیز لگنے لگتا ہے۔ ایسے ہی کچھ ایسے معاملات جیسے اپنی آواز اور شناخت کو پانا جیسے سنجیدہ موضوعات کو بھی بہت بہترین انداز میں نہیں دکھایا گیا۔
لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود اس شو نے مجھے اپنی جانب کھینچا جو بہت کم سیریز کر پاتی ہیں۔ اس کا بہت حد تک تعلق کرداروں کے ساتھ ہے۔ مس مارول کی طرح میں بھی مختلف ثقافتوں میں پلا بڑھا ہوں اور اکثر یہ ایک دوسرے سے ہی ٹکراؤ میں ہوتی تھیں اور میرے والدین کی اس سوچ سے بھی کہ مجھے کیا بننا چاہیے۔
میں برونو کو جانتا ہوں جو ایک ایسا سفید فام دوست ہے جو اپنی خوشی سے اسلامی ثقافت کا حصہ بنتا ہے جبکہ ناکیہ کا کردار بھی مجھے کافی جانا پہچانا لگا جو ایک ایسی نقاب پہننے والی لڑکی ہے جس کی پیٹھ پیچھے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک مضبوط اور ذہین لڑکی اپنے بالوں کو کیوں ڈھانپ رہی ہے لیکن وہ جانتی ہے کہ وہ دنیا کو بدل سکتی ہے۔ اور کامران، سکول کا وہ بچہ جو بہت ہی پسندیدہ ہے۔ میں نے یہ بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ مسجد کا رُخ کرنے والوں کے ناک میں دم کرنے والا، جوتا چور، کا کردار بھی مارول سنیما کی دنیا میں جگہ بنا لے گا۔
حقیقت میں اس شو میں بہت سی باتیں مثبت ہیں۔ شو زندگی سے بھرپور ہے اور کمالہ کے سکول کے ساتھیوں کا کردار ادا کرنے والوں کی آپس میں بہترین کیمسٹری نظر آتی ہے۔ سیریز کی موسیقی بھی بہترین ہے۔ مارول شو پر 1966 میں پاکستانی پاپ گانا ’کو کو کورینہ‘ اور حال ہی میں ریلیز ہونے والا ’پیچھے ہٹ‘ بجتا ہوا بھی بہت اچھا لگا۔
کامک فینز میں ایک بے چینی اس بات پر بھی تھی کہ کمالہ کی طاقت اور ماضی کی کہانی میں کیا تبدیلی کی جائے گی۔ کامک دنیا میں کمالہ کے پاس یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہیئت اور حجم تبدیل کر سکتی ہے۔ سیریز میں کمالہ کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ ایک ماقوق الفطرت کنگن کی مدد سے کوئی بھی چیز بنا سکتی ہے جیسا کہ گرین لینٹرن فلم میں ہوتا ہے۔ مارول سٹوڈیو کے صدر کیون فیج کے مطابق یہ تبدیلیاں سنیما کے لیے ضروری تھیں۔
اس سیریز کے پاس یہ موقع ہے کہ کامک کو ایک بڑے سٹیج پر لے جائے اور صرف یہی نہیں کہ مسلمان بچوں کو سُپر ہیرو کے کردار میں دکھائے بلکہ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو اپنی جانب مائل کر سکے۔
جیسا کہ عبیدی کہتے ہیں کہ ان کو ’امید ہے کہ یہ سیریز مسلمان خواتین اور مستند مسلم نمائندگی کے لیے ایک شروعات ثابت ہو گی۔‘












