کیا آج کے نوجوان اپنے آباؤ اجداد کے مقابلے میں کم ہمت ہیں؟

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ کئی دہائیوں سے تضحیک آمیز انداز میں کہتے ہیں 'یہ آج کل کے بچے بھی نہ۔۔۔' (فائل فوٹو)
    • مصنف, کیٹی بشپ
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف

حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کو ہمیشہ ’کمزور‘ پکارا جاتا ہے، انھیں ’کاہل اور کام چور‘ قرار دیا جاتا ہے اور اپنے بڑوں کے مقابلے میں کم حوصلہ مند ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

یہ تصور کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ لوگ کئی دہائیوں سے تضحیک آمیز انداز میں کہتے ہیں ’یہ آج کل کے بچے بھی نہ۔۔۔‘

لیکن کیا ان الزامات میں کوئی سچائی ہے کہ میلنیئلز (یعنی وہ افراد جو 80 اور 90 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے) اور جنریشن زی (وہ نوجوان سنہ 2000 کے بعد پیدا ہوئے) جنریشن ایکس (وہ نسل جو 1965 سے لے کر 1980 کے درمیان میں پیدا ہوئئ) اور بے بی بومرز (وہ جو 1946 سے لے کر اور 1964 کے درمیان میں پیدا ہوئے) کے مقابلے میں زیادہ ’کمزور‘ اور ’کم ہمت‘ ہیں۔

شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئی نسلوں میں وہ خصلتیں زیادہ ہوتی ہیں جنھیں ان سے پرانی نسلیں کمزوری کی نشانی سمجھتی ہیں۔ لیکن ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بے بی بومرز اپنے سے بعد میں آنے والی نسلوں کو زیادہ سخت پیمانے پر جانچتے ہیں اور ان معیارات پر پرکھتے ہیں جو کہ اب قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔

لیکن نسل در نسل چلی آنے والی اس تقسیم کو ختم کرنے یا بہتر بنانے کے لیے سیاق و سباق کا سمجھنا بے حد ضروری ہے لیکن نوجوانوں کو کمتر سمجھنا ہماری اتنی پرانی عادت ہے کہ اسے چھوڑنا تقریباً ناممکن ہے۔

افسانہ بمقابلہ حقیقت

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننئی نسل پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان میں اپنے سے پرانی نسل کے مقابلے میں قربانیاں دینے کا جذبہ کم ہے یا وہ اپنے والدین یا ان کے والدین کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے (فائل فوٹو)

لوگ اپنے سے نئی نسل کے بارے میں شکایت ہزاروں سال سے کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر پیٹر او کونر کہتے ہیں کہ بڑوں کا اپنے سے چھوٹوں کا مذاق اڑانا صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ابھی بھی جاری و ساری ہے اور تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہزاروں امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ’آج کے بچے‘ ان مثبت خوبیوں سے عاری ہیں جو ان سے بڑی نسل کے لوگوں میں ہوتی ہیں۔

لیکن محققین کے مطابق ایسا اس لیے نہیں ہے کہ نئی نسل واقعتاً ان خوبیوں سے عاری ہوتی ہیں بلکہ تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ ہم اپنی ذات کو اپنے ماضی کی نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایسا کرنے سے پرانی نسل کے لوگ لاشعوری طور پر اپنے آپ کا نئی نسل سے موازنہ کرتے ہیں اور نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ ’آج کل کے بچوں‘ میں وہ پرانی خوبیاں نہیں ہیں یا کم ہو رہی ہیں اور یہ تصور ہر دہائی میں موجود تھا۔

رواں برس فروری کے آغاز میں برطانیہ میں پراپرٹی کے کاروبار کی معروف شخصیت کرسٹی ایلسوپ کے ایک بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا جب انھوں نے کہا کہ یہ نوجوانوں کی اپنی غلطی ہے کہ وہ اب اپنے لیے مکان نہیں خرید سکتے۔

کرسٹی ایلسوپ نے 90 کی دہائی میں اپنے خاندان کی مدد سے اپنا پہلا مکان خریدا تھا اور انھوں نے کہا کہ آج کل کے نوجوان پیسے بچانے کے بجائے ’پرتعیش‘ خواہشات کے پیچھے جاتے ہیں جیسے نیٹ فلکس کا اکاؤنٹ یا جم کی ممبرشپ۔

یہ بھی پڑھیے

کرسٹی ایلسوپ کا بیان اپنی نوعیت کا واحد بیان نہیں تھا۔ حال ہی میں ایسے کئی تبصرے سامنے آئے ہیں جہاں نئی نسل پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان میں اپنے سے پرانی نسل کے مقابلے میں قربانیاں دینے کا جذبہ کم ہے یا وہ اپنے والدین یا ان کے والدین کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

آج سے پانچ برس قبل یعنی 2017 میں آسٹریلیا میں رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے منسلک بڑی کاروباری شخصیت ٹم گرنر نے کہا تھا کہ آج کل کے نوجوان گھر خریدنے کے لیے پیسے بچانے کے بجائے ’ایواکاڈو ٹوسٹ‘ کھانے پر زیادہ پیسے خرچ کرتے ہیں، حالانکہ اعداد و شمار کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے کئی علاقوں میں مکانوں کی قیمت گذشتہ دس برسوں میں دگنی بڑھ گئی ہیں جبکہ تنخواہوں میں صرف 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ نئی نسل کے لوگوں میں اپنی پہچان کو ثابت کرنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے (فائل فوٹو)

سنہ 2016 میں ’جنریشن سنو فلیک‘ کا فقرہ انگریزی زبان کی معروف لغت ’کولنز انگلش ڈکشنری‘ میں شامل کیا گیا جس کی تشریح ان بچوں کے طور پر کی گئی جو 1980 سے لے کر 1994 کے درمیان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی خصلتوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ’کم ہمت والے ہیں اور پرانی نسل کے مقابلے میں کسی بھی بات پر جلد خفا ہو جاتے ہیں۔‘

اسی نوعیت کے کئی مضامین کی اشاعت بھی ہوئی جن میں جنریشن زی سے تعلق رکھنے والوں پر تبصرہ کیا گیا کہ وہ نو سے پانچ بجے کی نوکری کرنے سے بھاگتے ہیں اور سارے دن آفس میں کام کرنے کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔

دقیانوسی معیار

پرانی نسلیں شاید ابھی بھی یہی سمجھتی ہیں کہ وہ آج کل کے نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ جذبے والے ہیں لیکن کیا اس بات کو واقعی میں جانچا جا سکتا ہے؟ کچھ ماہرین کے مطابق ایسا کیا جا سکتا ہے۔

سنہ 2010 میں ہونے والی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ افراد جنھوں نے سنہ 1987 سے پہلے اپنی پڑھائی مکمل کی، ان کے مقابلے میں وہ ملنیئلز جنھوں نے 2004 سے 2008 کے دوران اپنی یونیورسٹی کی پڑھائی مکمل کی ان میں وہ خصلتیں زیادہ سامنے آئیں جو ان کو کم ہمت والا ثابت کرتی ہیں۔

کچھ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ نئی نسل کے لوگوں میں اپنی پہچان کو ثابت کرنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے جبکہ سنہ 2012 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں نئی نسل والے زیادہ خود پسند ہوتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس، ایسے کئی ماہرین ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نئی نسل اپنے سے پرانی نسل کے مقابلے میں کمزور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض یہ دکھاتا ہے کہ ایک ایسی نسل جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پلی بڑھی اور بڑی ہوئی ہے، اسے پرانے دور کے معیار پر جانچا جا رہا ہے۔

ذہنی صحت کے ایک ماہر ڈاکٹر کارل نصر نوجوانوں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسلوں کو بتایا جاتا تھا کہ وہ اپنے جذبات کو دبائیں لیکن نئی نسل کو اس کے الٹ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا کُھل کر اظہار کریں۔

'اس کی وجہ سے نئی اور پرانی نسلوں میں فرق شروع ہوا کیونکہ پرانی نسل کے لیے اس کا مطلب تھا کہ نئی نسل والے کمزور ہیں۔'

ڈاکٹر کارل نصر کہتے ہیں کہ نئی نسل کا کمزور ہونا محض ایک مفروضہ ہے اور یہ سُنی سُنائی باتوں پر مبنی ہے اور مختلف نسلیں اپنے مسائل کے بارے میں مختلف انداز میں بات کرتی ہیں۔

ایک اور بات جو بار بار کی جاتی ہے وہ یہ کہ ملنیئلز اور جنریشن زی کے لوگ مطلبی طور طریقے اپناتے ہیں جس کے باعث وہ مکانات نہیں خرید سکتے، یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کیسے پرانی نسل کے لوگ اپنے زمانے کے معیارات کو نئے نسل پر لاگو کرتے ہیں۔

بے بی بومرز دور کے لوگ جس دور سے گزر رہے تھے اس میں معاشی ترقی کا بول بالا تھا اور اس نسل کے لوگوں کے لیے پیسے بچا کر گھر خریدنا بہت آسان تھا۔ اور کیونکہ اس دور کی آسائشوں کو حاصل کرنے میں انھیں آج کے دور کی طرح مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑا تو انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کل کے دور کی نسل کمزور ہے اور نااہل ہے۔

حالانکہ اس صورتحال تک پہنچنے میں بڑی وجہ مکانات کی تیزی سے بڑھتی قیمتیں، مہنگائی میں اضافہ لیکن تنخواہوں کا پرانے درجے پر رہنے اور اس قسم کی مزید مشکلات جو نئی نسل کے لیے گھر خریدنا بے حد مشکل بنا دیتی ہے۔

اسی طرح ممکن ہے کہ پرانی نسل کے لوگ یہ بھی کہیں کہ جنریشن زی کے نوجوان ڈپریشن اور اضطراب کا شکار ہے کیونکہ وہ ہمت نہیں رکھتے حالات سے مقابلہ کرنے کی، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ نسل ایک ایسے دور میں بڑی ہو رہی ہے جب دنیا ایک وبا سے گزر رہی ہے اور انتہائی مخدوش معاشی حالات کا سامنا کر رہی ہے۔

اپنے دور کی نسل

ورک لائف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہر دور کی نسل کے فیصلے، اقدامات اور ان کی سوچ ان کے اپنے منفرد مسائل اور چلینجز کی مدد سے بنتی ہے۔ بے بی بومرز اور جنریشن ایکس کے لوگ سمارٹ فونز کے بغیر بڑے ہوئے ہیں لیکن انھیں آن لائن دور میں بڑے ہونے کی مشکلات کا بھی سامنا کرنا نہیں پڑا تھا۔

اسی طرح، پرانی نسلوں کو آج کے دور کی طرح علم حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع حاصل نہیں تھے لیکن وہ اپنے دور میں کالج کی ڈگری حاصل کیے بغیر مناسب درجے کی نوکری بھی حاصل کر سکتے تھے اور انھیں اس کے لیے کالج میں پڑھائی کا قرضہ بھی لینا نہیں پڑا تھا۔

دوسری جانب جنریشن زی کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین یا ان کے والدین کی نسل کو زیادہ جد و جہد نہیں کرنی پڑی تھی جس طرح اُن کو کرنا پڑ رہی ہے۔

لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اس پرانی نسل کو بھی مختلف نوعیت کے سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا جیسے جنس پر مبنی تعصب یا نسل پر مبنی تعصب۔

حقیقت یہ ہے کہ پرانی نسل اپنے آباؤ اجداد کو مورد الزام ٹھہراتی چلی آئی ہے اور یہ ہمارے لیے ایک فطرتی بات ہے کہ وہ لوگ جو ہم سے مختلف زمانے میں بڑے ہوئے ہوں، ہم انھیں منفی طور پر پرکھتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو۔

چند ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے انتہائی اہم ہے کہ اس مفروضے کو ختم کیا جائے کہ نئی یا پرانی نسل ’کمزور‘ ہے اور اس بات کو صحیح معنوں میں سمجھا جائے کہ ہر دور کی نسل نے اپنے لحاظ سے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

برائن لفکن کی جانب سے اضافی رپورٹنگ