ویلنٹائن ڈے: لوگ اب تک ایک ہی سچی محبت کے افسانے پر یقین کیوں کرتے ہیں؟

سول میٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس تحریر کو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ گذشتہ برس فروری میں شائع کیا گیا تھا اور اسے قارئین کے لیے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ہینا ملر کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ سے 'سول میٹ' یعنی ایک ہی جیون ساتھی جس سے آپ کا تعلق روحانیت تک گہرا ہو، اس کے تصور پر یقین کرتی آئی ہیں۔

انھیں یاد ہے کہ بچپن میں انھوں نے سنا تھا کہ سمندری گھوڑوں کا تاحیات ایک ہی ساتھی ہوتا ہے۔ انھیں یہ خیال بہت پسند آیا کہ شاید ان کے لیے بھی ایسا کوئی شخص مختص ہوگا۔ دس سال کی عمر میں انھیں ایک تفریحی مقام پر اپنی بہن کے دوست سیم سے ملوایا گیا۔ انھیں یاد ہے کہ سب سے خطرناک جھولے پر اس نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ان کی بہن انھیں چھیڑ رہی تھی کہ ان کی سیم سے شادی ہوجائے گی۔

برطانیہ میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ ہینا ملر اسے یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ 'میرے لیے یہ کچھ شرمندگی کا باعث ہے۔ مگر مجھے واقعی اس دن محبت ہوئی تھی۔'

‘میں نے اگلے پیر سکول بس پر اپنی دوستوں کو مجھ سے بڑے اس لڑکے کے بارے میں بتایا جس نے میرا ہاتھ پکڑا تھا۔‘

ہینا نے اس لڑکے سے اگلی ملاقات تب کی جب وہ 18 سال کی تھیں۔ اور اس کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی آنے لگی۔ کچھ ہفتوں بعد سیم نے ہینا کو بتایا کہ انھیں بھی ان سے محبت ہونے لگی ہے۔ ہینا کی 20ویں سالگرہ سے قبل دونوں کی شادی ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ 'عہد و پیما آسانی سے ہو گئے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لیے بنائے گئے تھے تو پھر انتظار کیسا۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ ہم شادی نہ کریں کیونکہ ہم ایک دوسرے کے سول میٹ تھے۔‘

یہ خیال کہ آپ کے لیے کوئی مخصوص جیون ساتھی تخلیق کیا گیا ہے بہت سے معاشروں میں ملتا ہے اور ایک سروے کے مطابق لوگوں کی حیران کن تعداد اس پر یقین رکھتی ہے۔

لوگ اس پر کیوں یقین کرتے ہیں اس کی کچھ خاص وجوہات ہیں اور گذشتہ پچاس سال میں اس سوچ یا خیال کے حامل لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے ہم سول میٹ پر یقین کریں یا نہ کریں اس کا تعلق ہمارے ذاتی حالات اور نفسیات سے ہوتا ہے اور ایسا ممکن ہے جو لوگ اپنے مقدر میں لکھے شخص کو ملنے کی امید میں رہتے ہیں وہ اپنے تعلقات شروع ہی سے تباہ کر رہے ہیں۔

سول میٹ کا تاریخی تصور

یونانی فلسفی افلاطون نے لکھا تھا کہ ایک زمانے میں انسانوں کے چار ہاتھ اور چار ٹانگیں ہوتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زیوس دیوتا نے انسان کو اس کے تکبر کی پاداش میں اس کے دو ٹکڑے کر دیے اور اب یہ انسان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے کہ وہ زمین پر اپنے دوسرے حصے کی تلاش کرتا پھرے۔

افلاطون نے سنہ 385 قبل مسیح میں یہ لکھا تھا۔ اس کے بعد سے محبت اور انسانی رشتوں کے بارے میں ہماری سوچ ہو سکتا ہے آ گے بڑھ گئی ہو لیکن 'جیون ساتھی' کا خیال اب بھی موجود ہے اور انسانی تاریخ میں مختلف تہذیوں اور معاشروں میں پایا جاتا رہا ہے۔

کچھ ہندو روایات میں یہ خیال ملتا ہے کہ کچھ لوگوں سے آپ کی 'آتما' یا روح کا تعلق ہوتا ہے۔ یدش زبان میں مقدر میں لکھے جوڑے کے بارے میں 'بشرت' کی اصطلاح ملتی ہے جس کے قریب ترین معنی مقدر ہی بنتا ہے۔

تیرہویں صدی کے شاعر اور اسلامی سکالر مولانا رومی نے یہ تصور پیش کیا کہ عاشق آخر میں ملتے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے اندر کہیں نہ کہیں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد رومیو جولیٹ، ہیتھ کلف اور کیتھی کے علاوہ مغربی ادب ایسی مثالوں سے بھر پڑا ہے جس میں عشق کرنے والے جو ایک دوسرے کے لیے بنے تھے۔

گو کہ سول میٹ کا تصور ہزاروں سال سے موجود ہے لیکن یہ اصطلاح انیسویں صدی میں متعارف ہوئی۔ اس کا پہلی مرتبہ استعمال جو ریکارڈ پر موجود ہے وہ سنہ 1822 میں سیموئل ٹیلر کولرج کے خط میں ملتا ہے۔

اس خط میں انھوں نے لکھا تھا کہ 'خوش و خرم شادی آپ کو ضرور اپنا سول میٹ مل گیا ہو گا۔'

کولرج کی اپنی زندگی اتنی خوشگوار نہیں تھی۔ انھیں سماجی دباؤ کی وجہ سے شادی کرنا پڑی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنی بیوی سے دور گزارا اور آخر کار وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہو گئے۔

کولرج کی حقیقی ساتھی کی تلاش میں ناکامی کے باوجود یہ خیال موجود رہا اور اس کی مقبولیت بڑھتی گئی اور خاص طور پر آنے والی دہائیوں میں۔

یونیورسٹی آف ورجینا میں نیشنل میرج پراجیکٹ کے ڈائریکٹر اور سوشیالوجی کے پروفیسر براڈ ولکوس کہتے ہیں کہ سنہ 1970 کی دہائی سے سول میٹ کا تصور زیادہ مقبول ہوا ہے جب اس دور کا آغاز ہوا جسے ہم 'مائی ڈیکیڈ' یا 'میری دہائی' کہتے ہیں اور انفرادیت کی روایت نے رشتوں کی جانب ہمارے رویے میں تبدیلی پیدا کی۔

لوگ اب ایسے تعلق کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے انھیں خوشی ملے اور اطمینان قلب حاصل ہو۔ مغرب میں آنے والی معاشی خوشحالی سے اس رویے کو اور تقویت ملی کیونکہ لوگ معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہو گئے اور معاشی تحفظ کے لیے انھوں نے شادی پر انحصار کرنا چھوڑ دیا۔

شادی کے فیصلے میں حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ کے بجائے محبت کا اظہار کرنے والے 'سول میٹ' کا عنصر غالب رہنے لگا اور لوگوں کی توقعات زیادہ نفسیاتی اور کم مادی ہونے لگیں۔

ہننا ملر

،تصویر کا ذریعہHanna miller

،تصویر کا کیپشناٹھارہ سال کی عمر میں حقیقی جیون ساتھی مل گیا تھا

سول میٹ کیسوچ میں پختگی

ایک کامل شخص جو صرف آپ کے لیے بنایا گیا ہو اس خیال کے بارے میں شکوک کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بہر حال، زیادہ تر لوگ اپنے ساتھی کو ڈھونڈتے وقت دور نہیں بھٹکتے، اکثر امریکی تو اسی ریاست کے کسی فرد سے شادی کرتے ہیں جس کے ساتھ وہ ہائی سکول یا کالج گئے تھے۔

تقریباً آٹھ ارب لوگوں کی زمین پر، یہ ایک اتفاق ہے کہ بہت سے لوگوں کے روحانی ساتھی صرف ساتھ والے کلاس روم ہی میں مل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک روحانی ساتھی کا خیال متعدد معاشروں اور مختلف ادوار میں برقرار ہے۔ اس حقیقی ساتھی کے تصور میں ایسی کیا بات ہے جو لوگوں کو اتنی پرکشش لگتی ہے؟

سکڈمور کالج، یو ایس میں مذہب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بریڈلی اونیشی نے فکری تاریخ میں اپنے مشاہدات کا استعمال کرتے ہوئے روحانی افسانوں کی پائیدار نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ روح کے ساتھیوں پر یقین کرنے کی ہماری خواہش فطری ہے۔

روح کے ساتھی کی پراسراریت، ڈیٹنگ ایپس کے چکرا دینے اور اکثر الجھا دینے والے منظر نامے کے درمیان ایک یقین ہے کہ کہیں کوئی ایک ایسا جوڑ ہے جو اس سب میں سمجھ آ جائے گا۔

'یہ کہتا ہے کہ تنہائی اور اکیلاپن جو انسانی تجربے میں ایک عام بات ہے، عارضی یا وقتی چیزیں ہیں اور ایک دن آئے گا جب کسی حقیقی ساتھی سے ملیں گے اور ہنسی خوشی رہنے لگیں گے اور یہ وہ شخص ہو گا جو ہر طرح سے ہمیں سمجھے گا، ہمیں تحفظ فراہم کرے گی اور ہماری زندگی کو نئے معنی دے گا۔

حقیقی جیون ساتھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہاں تک کہ اگر روح کے ساتھی موجود نہیں ہیں، تو یہ یقین کرنے میں بہت سکون ہے کہ لوگ ایک کو تلاش کر سکتے ہیں

وہ اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہم میں سے بہت سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سول میٹ وہ راستہ ہے جو ایک مربوط زندگی کی تعمیر میں مدد دیتا ہے اور اکثر غیر متوقع اور افرا تفریحی سے بھرپور حقیقی ساتھی کی تلاش کے دوران تجربے سےگزر کر ملتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سول میٹ پر یقین ایک اچھی چیز ہے کہ ہر ٹوٹا ہوا رشتہ، ٹوٹی ہوئی امیدیں، مایوسیاں، بے وفا محبتیں سب اس خیال سے برداشت ہو جاتا ہے کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔

یہ تصور 'ڈیٹنگ' یا وقتی رفاقتوں کے موجود دور میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جو یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ تصور وقت گزرنے کے ساتھ کیسے پروان چڑھا۔

حالیہ برسوں میں ایک اصطلاح 'ٹوین فلیم' کی مقبولیت بڑھی ہے، ایک اور روحانی طریقہ جس سے اس تصور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کوئی شخص ایسا ہے جو آپ کے لیے بنا ہے۔

اونشی کہتی ہیں کہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں بہت زیادہ سیاسی، ماحولیاتی اور سماجی بے یقینی پائی جاتی ہے۔

سول میٹ کا راز اس وقتی دوستیوں اور تعلق کے سمجھ میں نہ آنے والے منظر نامے میں یہ یقین دیتا ہے کہ کہیں کوئی آپ کا جوڑ موجود ہے۔ یہ جدید زندگی میں ایک لنگر کے طور پر کام کرتا ہے اور جو سمجھ میں آتا ہے۔

حقیقی توقعات

ولکوس کہتے ہیں کہ عملاً سول میٹ کی تلاش کوئی بہترین رویہ نہیں ہو گا اور سول میٹ کی بنیاد پر شادیاں زیادہ کمزور ہوتی ہیں کیونکہ جذبات میں اتار چڑہاو رہتا ہے۔

سینکڑوں رشتوں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک روحانی ساتھی کو تلاش کرنے کی توقع درحقیقت غیر عملی رویے کی مثالیں پیش کرتی ہیں اور یہاں تک کہ آپ کے اپنے ساتھی کو چھوڑنے کا زیادہ امکان ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ روح کے ساتھیوں پر یقین رکھتے ہیں ان میں وہ چیز ہوتی ہے جسے 'تقدیر' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جیون ساتھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحقیقی جیون ساتھی جو صدیوں سے انسانی سوچ میں پایا جاتا ہے

چونکہ وہ ایک بہترین شخص کی تلاش میں ہیں، اس لیے انھیں اپنے رشتے پر زیادہ شک رہتا ہے، اور چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی رشتہ توڑنے کا اشارہ سمجھتے ہیں اور انھیں لگاتا ہے کہ شاید یہ ان کا حقیقی ساتھی تھا ہی نہیں۔

دوسری طرف، حقیقی ساتھی کے تصور پر یقین نہ رکھنے والوں میں تبدیلی کی سوچ پائی جاتی ہے۔ ان کی سوچ ہے کہ تعلقات صبر اور قربانی کا تقاضہ کرتے ہیں، اس لیے وہ مسائل کا حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ سماجی رشتوں میں کشمکش کا سامنا کرنے والے بہت سے مریضوں کے ساتھ کام کرنے والی رجسٹرڈ کونسلر روتھ میکلیف کہتی ہیں کہ 'یہ توقع کہ کوئی چیز فوری طور پر اور ہمیشہ کے لیے کامل ہو جائے گی، صرف مایوسی اور ناراضگی کا باعث بنتی ہے، کیونکہ یہ محض حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔'

'کچھ کامیاب ترین رشتے ایسے جوڑوں کے ہیں جنہوں نے ان تمام ذاتی تبدیلیوں کے ذریعے ایک دوسرے کا ساتھ برسوں گزارا اور کبھی بھی ایک دوسرے سے 'پرفیکٹ' یا 'سب کچھ' پانے کی توقع نہیں کی۔'

آپ کے ساتھی کو تلاش کرنے کا خیال تلخ دور کے بعد ایک بام ہو سکتا ہے، یا آپ کی اپنی محبت کی کہانی کی ساخت اور داستان کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن آخر کار، حقیقت میں یہ سوچنا کہ آپ کو اپنا ساتھی مل گیا ہے شاید اچھی چیز نہ ہو - اور ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کو یقینی طور پر اس کی تلاش کے بارے میں فکر نہیں کرنی چاہیے۔

ولکوس کہتے ہیں کہ 'ہم میں سے کوئی بھی کامل نہیں ہے - نہ آپ، اور نہ ہی آپ کا مستقبل کا ساتھی۔

’لہذا، ایسی چیزوں پر توجہ دیں جن پر بات نہیں ہو سکتی یا جو طے شدہ ہیں۔ وہ خوبیاں جو کامیاب شادی کے لیے ضروری ہیں مثلاً مشترکہ اقدار اور مشترکہ دلچسپیاں اور مفادات۔ لیکن مستقبل کے شریک حیات میں سب کچھ تلاش مت کریں، بشرطہ کہ آپ مستقل کنوارا یا کنواری نہیں رہنا چاہتے۔‘

پھر بھی کچھ لوگوں کے لیے، روح کے ساتھی کے افسانے پر یقین کرنا کارگر لگتا ہے۔ ہننا کی اب سیم سے شادی کو 23 سال ہو چکے ہیں، اور اس جوڑے کے تین بچے ہیں۔

ہینا اپنے رشتے کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’یہ وہ چیز ہوسکتی ہے جس پر مجھے سب سے زیادہ فخر ہے۔ زندگی کا بہت حصہ غیر یقینی ہے، لیکن میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ہم ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں، اور ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ بوڑھے ہوتے رہیں گے۔‘