سری لنکا کا دورہ پاکستان غیر یقینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جنوری اور فروری میں ہونے والی مجوزہ سیریز ابھی تک غیر یقینی کا شکار ہے اور بدھ کو بھی دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈ کسی حتمی شیڈیول کا اعلان نہ کر سکے۔ سری لنکا کی ٹیم نےاس مجوزہ سیریز کے تحت 20 جنوری سے25 فروری تک پاکستان میں تین ٹیسٹ میچز اور پانچ ایک روزہ میچز کھیلنے کےلیے آنا تھا اور 30 دسمبر تک دنوں ممالک کے کرکٹ بورڈز نے اس سیریز کے حتمی شیڈول کا باضابطہ اعلان کرنا تھا۔ صدر رانا ٹنگا کے زیر نگرانی کرکٹ بورڈ کے ہٹائے جانے کے بعد سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر دلیپ مینڈس کی نگرانی میں بننے والے عبوری کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا کہ ان کے کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش میں جاری سیریز کے بعد آرام کرنے کی درخواست دی ہے اس لیے ان کی ٹیم 15 فروری کو پاکستان آ سکتی ہے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے اس مطالبے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا مارچ کے پہلے ہفتے میں بنگلہ دیش کا دورہ پہلے ہی سےطے تھا اس دورے کے دوران پاکستان کی ٹیم نے بنگلہ دیش کی ٹیم کے ساتھ پانچ ایک روزہ میچز کھیلنے ہیں۔ اب اگر سری لنکن کرکٹ بورڈ کی بات مانی جائے تو پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش کیسے جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق پی سی بی نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو خط کے ذریعے کہا ہے کہ وہ سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر کوئی فیصلہ کریں اور اگر وہ 15 فروری کو آنا چاہتے ہیں تو نئے شیڈول کو بھی طے کریں لیکن سری لنکن کرکٹ بورڈ نے بدھ کے روز بھی پی سی بی کے اس خط کا جواب نہیں دیا۔ پی سی بی کے ترجمان کے مطابق اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے کرکٹ حکام کے ساتھ پاکستان کے دورہ بنگلہ دیش کے لیے نئے شیڈول پر بات چیت شروع کر دی ہے اور اس نئے شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش میں جاری سہ فریقی ٹورنامنٹ کے ختم ہونے کے بعد جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش جائے گی اور وہاں ایک روزہ سیریز کھیلے گی اور یوں جن تاریخوں میں سری لنکا نے پاکستان آنا تھا ان میں پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش چلی جائے جس کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان آ ئے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس تمام مشکل سے نکلنے کی جو بھی کوشش کر رہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن سری لنکن کرکٹ بورڈ کے یہ بہانے پاکستان کی کرکٹ کے لیے کسی ناخوشگوار صورتحال کا عندیہ دے رہے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ دنیائے کرکٹ کی چند قوتیں اس کوشش میں ہیں کہ سری لنکا کی ٹیم پاکستان کا دورہ نہ کرے۔ دوسری جانب پاکستان کےلیے سری لنکن ٹیم کی میزبانی کرنا بے حد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سیریز کو احسن طریقے سے کروانے کے بعد پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد اور دیگر ٹیموں کی آمد کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی جگہ دو ون ڈے22 December, 2008 | کھیل عمرگل کو ویسٹرن آسٹریلیا سے آفر19 December, 2008 | کھیل بھارتی ٹیم کا پاک دورہ منسوخ18 December, 2008 | کھیل پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی مایوسیاں19 December, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||