چنئی ٹیسٹ میں بھارت کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سچن تندولکر کی ٹیسٹ کرکٹ میں اکتالیسویں سنچری اور دیگر بھارتی بلے بازوں کی اچھی کارکردگی کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم کو بھارت میں ٹیسٹ جیتنے کے قریب پہنچ کر بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے آخری دن سچن تندولکر اور یوراج سنگھ کے درمیان ایک سو تریسٹھ رن کی شراکت میں بھارت نے صرف چار ووکٹوں کے نقصان پر تین سو ستاسی کا ہدف عبور کر لیا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ چوتھا موقع ہے جب کسی ٹیم نے دوسری اننگز میں تین سو ستاسی یا اس سے زیادہ کا ہدف حاصل کیا ہو۔ کرکٹ کے کروڑوں شائقین اور سچن تندولکر کے مداحوں کے لیے میچ کی سب سے خاص بات بھارت کی جیت اور سچن تندولکر کی اکتالیسویں سنچری کا ایک ساتھ مکمل ہونا تھا۔ سچن کے چوکے سے بھارت نے تین سو ستاسی کا ہدف حاصل کیا اور اپنی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے ایک سو تین رن بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ سچن تندولکر انتہائی دباؤ میں اپنے طویل تجربے سے پوری طرح فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے اطمینان سے کھیلتے رہے۔ تندولکر اور یوراج کے درمیان جب شراکت شروع ہوئی تو اس وقت تک بھی انگلینڈ کی گرفت میچ پر مضبوط تھی۔ یوراج کے میدان میں آنے سے قبل گریم سواں نے بھارتی بلے باز وی وی ایس لکشمن کو کھانے کے وقفے کے تھوڑی ہی دیر بعد آؤٹ کیا تھا۔ یوراج نے آتے ہی دو چوکے لگائے جس سے ان کے خطرناک ارادے ظاہر ہو گئے کہ وہ اس میچ میں اپنا قدرتی انداز اپنائیں گے۔ انگلیڈ کے بولروں نے انہیں آؤٹ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ان کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور میچ کے اختتام پر یوراج نے پچاس رن بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ میچ کے آخری دن کھیل کے آغاز پر انگلیڈ ٹیم کا پلڑا بھاری تھا اور خیال کیا جارہا تھا کہ شاید وہ بھارت میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ بھارت نے چوتھے روز کھیل کے اختتام تک ایک وکٹ کے نقصان پر 131 رنز بنائے تھے۔آخری دن کھیل شروع ہونے کے بعد راہول ڈراوڈ اور گوتم گمبھیر بلترتیب چار اور 66 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کھانے کے وقفے تک سچن تندولکر ستائس پراور وی وی ایس لکشمن بیس رنز پر کھیل رہے تھے۔ بھارتی اوپنر وریندر سہواگ نے انتہائی جارحانہ اننگز کھیل کر انڈیا کی فتح کو ممکن بنا دیا ہے۔ وریندر سہواگ اور اڑسٹھ گیندوں پر چار چکھوں اور گیارہ چوکوں کی مدد سے ستاسی رنز بنا کر سوان کی گیند پر آؤٹ ہوئے تھے۔انگلینڈ نے دوسری اننگز میں نو وکٹوں کے نقصان تین سو گیارہ رنز سکور کر کے اننگز ڈیکلیئر کر دی۔ انگلینڈ کی مجموعی برتری 386 ہوگئی۔ انگلینڈ کی اننگز کی خاص بات اینڈریو سٹراس اور پال کولنگوڈ کی عمدہ بیٹنگ تھی۔ دونوں بلے بازوں نےسینچریاں بنائیں۔ اینڈریو سٹراس نے میچ کی دونوں اننگز میں سینچریں سکور کی۔ اینڈریو سٹراس ، پال کولنگوڈ کے علاوہ وکٹ کیپر پرائر نے تینتیس رنز سکور کیے۔ اس کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی دس سے زیادہ سکور نہ کر سکا۔ چوتھے روز کھیل کا آغاز ہوا تو انگلینڈ کے اوپنر اینڈریو سٹراؤس اور پال کولنگوڈ نے بغیر کسی نقصان کے کھانے کے وقفے تک اپنی ٹیم کا سکور دو سو چوالیس رنز تک پہنچا دیا۔ کھانے کے وقفے کے فوراً انڈیا کو یکے بعد دیگرے کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور کھانے کے وقفے تک انگلینڈ کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ سنیچر کو کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے 172 رن بنائے تھے۔ اس سے قبل انڈیا کی ٹیم 241 رن پر آؤٹ ہو گئی تھی۔ انگلینڈ کے بولر گریم سوان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایک موقع پر انڈیا کے 37 کے سکور پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ کھیل کے دوسرے روز کے اختتام پر انڈیا کے چھ کھلاڑیوں کے نقصان پر ایک سو پچپن رن تھے۔ انڈیا کی طرف سے گوتم گھبیر نے 19، سہواگ نے نو، ڈراوڈ نے تین، تندولکر نے 37 ، لکشمن نے 24 اور یوراج نے 14 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی اننگز کی خاص بات اینڈریو سٹراس کے ایک سو تئیس رن تھے۔ کھیل کے پہلے روز ایک وقت تھا کہ انگلینڈ کا سکور ایک کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر 164 تھا لیکن پھر لگاتار چار وکٹ گر گئے۔ انگلینڈ کی طرف سے یٹ پرایور نے بھی نصف سنچری بنائی اور سکورکو تین سو تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ ممبئی پر حملوں کے بعد انگلینڈ نے بھارت کا دورہ ادھورا چھوڑ دیا تھا اور ٹیم انگلینڈ واپس آگئی تھی جبکہ بھارت اور انگلینڈ کے درمیان سات میں سے دو ایک روزہ میچ بھی منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ انگلینڈ کی ٹیم: کک، سٹراس، بیل، پیٹرسن، کولنگ وڈ، فلنٹاف، پرائر، ہارمیسن، اینڈرسن، پنیسر، سوان۔ انڈیا کی ٹیم: سہواگ، گھمبیر، ڈراوڈ، تندولکر، لکشمن، یوراج، دھونی، ہربھجن، ظہیر، شرما، مشرا۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کا دورہ منسوخ نہیں ہوا‘01 December, 2008 | کھیل انگلینڈ کے لیے نئی تاریخیں 02 December, 2008 | کھیل ’بھارت میں کھیلنے کو تیار ہیں‘27 November, 2008 | کھیل تندولکر کی چالیسویں سنچری06 November, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||