’میڈل کا دعویٰ نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایتھلیٹس کا کہنا ہے کہ وہ وائلڈ کارڈ انٹری کی بدولت اولمپکس میں شرکت کی اہل ہوئے ہیں لہٰذا میڈل کا دعویٰ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی ایتھلیٹکس میں نمائندگی صدف صدیقی اور عبدالرشید کریں گے۔ صدف صدیقی اور عبدالرشید پاکستان کے بہترین ایتھلیٹس ہونے کے سبب المپکس کے لیے منتخب تو کر لیےگئے تھے لیکن پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے اس کا حتمی اعلان دونوں کے ڈوپ ٹیسٹ یعنی ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ٹیسٹ کا نتیجہ آنے کے بعد کیا۔ ان دونوں کے علاوہ متبادل کے طور پر دو مردوں اور دو خواتین ایتھلیٹس کے ڈوپ ٹیسٹ بھی ان کے ساتھ کروائے گئے۔ صدف اور عبدالرشید دونوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ وہ ڈوپ ٹیسٹ میں کامیاب ہو جائیں گے۔ صدف نے کہا کہ اولمپکس میں شرکت کرنا خواب کی تعبیر ہے اور یہ خواب وہ اس وقت سے دیکھ رہی ہیں جب سے انہوں نے قومی ایتھلیٹکس چمپیئن شپ میں پہلا تمغہ حاصل کیا تھا۔ یہ الفاظ ہیں صدف صدیقی کے جو بیجنگ المپکس میں وائلڈ کارڈ انٹری پر پاکستان کی ایتھلیٹکس مقابلوں میں نمائندگی کریں گی۔ مردوں میں بیجنگ المپکس کے ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی عبدالرشید کریں گے جو 110 میڑ رکاوٹی دوڑ میں قومی چمپیئن ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اب تک کئی خواتین ایتھلیٹس نے اولمپکس میں شرکت کی ہے لیکن صدف پہلی خاتون ہیں جو 100 میٹر اور دو سو میٹر دوڑ کے اولمپکس مقابلوں میں شریک ہوں گی۔ بائیس سالہ صدف صدیقی کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ اپنے سکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ ’جب سے میں نے قومی سطح پر ایونٹ میں گولڈ میڈل لینے شروع کیے تو یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ میں اولمپکس میں جاؤں۔‘ صدف کا کہنا ہے کہ وہ وائلڈ کارڈ انٹری کی بدولت اولمپکس میں شرکت کی اہل ہو سکی ہیں لہٰذا وہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کریں گی جو حقیقت سے دور ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ المپکس میں سو میڑ میں پاکستان کا ریکارڈ توڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ ہیٹس سے پہلے راؤنڈ تک ضرور جائیں۔ صدف نے سو میڑ ریلے اور دو سو میڑ سپرنٹ دوڑ میں دو سال قبل کولمبو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں برونز میڈل لیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹکس میں ان کی آئیڈل سری لنکا کی کھلاڑی سوسان تھیکا ہیں جو ایشین چیمپئن ہیں۔ صدف کے بقول اگر انہیں مناسب سہولتیں اور تربیت ملے تو وہ ایشیا کی سطح پر تومیڈل لے ہی سکتی ہیں۔
عبدالرشید اسی سال فروری میں ایشین انڈور اتھلیٹکس چمپیئن شپ میں 60 میٹر رکاوٹی دوڑ میں چاندی کا تمغہ حاصل کر چکے ہیں۔ صدف کی طرح عبدالرشید بھی اولمپکس میں شمولیت کو خواب کی تعبیر قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 110 میٹر رکاوٹی دوڑ کے اولمپک ریکارڈ رکھنے والے لیویانگ ان کے ہیرو ہیں اور ان کے ساتھ ایک ہی ٹریک پر دوڑنا ان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ اٹھائیس برس کےعبدالرشید نے بیس سال کی عمر میں ایتھلیٹکس شروع کی اور یہ وہ عمر ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک کے ایتھلیٹ اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ عبدالرشید کالج کے پہلے ہی مقابلے میں بہترین ایتھلیٹ قرار پائے اور پھر انٹر یونیورسٹی مقابلوں میں فتح نے دروازے کھولے اور وہ قومی سطح کے ایتھلیٹ بن گئے۔ عبدالرشید کا کہنا ہے ’میں اولمپکس میں 110 میٹر کی دوڑ میں پاکستان کا ریکارڈ جو غلام عباس نے 1989 میں چوتھے سیف گیمز میں بنایا تھا اسے توڑنے کی کوشش کروں گا۔ جہاں تک میڈل کا سوال ہے تو ہم وائلڈ کارڈ انٹری پر شرکت کرنے والے اس کے بارے میں سوچ نہیں سکتے البتہ ہیٹس سے پہلے راؤنڈ تک پہنچنے کا عزم ہے۔‘ عبدالرشید کا کہنا ہے کہ اگر کم عمر بچوں کی اس نہج پر تربیت کی جائے کہ انہیں اولمپکس میں بھیجنا ہے تو انہیں اس معیار کا بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایتھلیٹ کو صرف قومی سطح تک مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری12 May, 2008 | کھیل مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب16 April, 2008 | کھیل اولمپک مشعل: کڑے حفاظتی انتظام28 March, 2008 | کھیل اولمپک تیراکی میں پاکستان کی شرکت 25 May, 2008 | کھیل اولمپک مشعل پاکستان آئےگی11 February, 2008 | کھیل کھلاڑی سیاست سے لاتعلق15 February, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||