اوول، انضمام فیصلے سے خوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے متنازعہ اوول ٹیسٹ کا نتیجہ تبدیل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ڈیرل ہیئر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے حق میں نہیں۔ آئی سی سی نے دبئی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے اوول ٹیسٹ کو ڈرا قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں انضمام الحق پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے۔ یہ وہی ٹیسٹ ہے جس میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم احتجاج کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے میدان سے باہر چلی گئی تھی جب وہ واپس میدان میں آئی تو ڈیرل ہیئر نے میچ جاری رکھنے سے انکار کرتے ہوئے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔ انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اوول ٹیسٹ کا نتیجہ تبدیل کیے جانے کی خوشی ہے اور اس فیصلے نے ان کے موقف کو دوسری مرتبہ درست ثابت کیا ہے۔ پہلی مرتبہ اسوقت جب آئی سی سی نے انہیں بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کردیا تھا اور اب دوسری مرتبہ ان کے حق میں فیصلہ آیا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ اس فیصلے نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اوول ٹیسٹ میں جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ دار پاکستانی ٹیم نہیں تھی بلکہ اس تنازعے کے ذمہ دار ڈیرل ہیئر تھے۔ انضمام الحق نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ڈیرل ہیئر کو آئی سی سی نے دوبارہ امپائرنگ کی اجازت دے دی ہے۔انہیں کسی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ میں امپائرنگ نہیں کرنے دینی چاہئے تھی۔ |
اسی بارے میں سماعت:تاریخ کا اعلان آج متوقع 25 August, 2006 | کھیل ’نسلی تعصب کا شکار ہوا ہوں‘07 February, 2007 | کھیل نسلی تعصب کا معاملہ نہیں: مانی08 February, 2007 | کھیل ’اوول ٹیسٹ، نتیجہ بدلناچاہیے‘09 January, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||